Baaghi TV


اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ

‎ریاض میں اوپیک پلس کے رکن ممالک نے عالمی تیل کی منڈی میں توازن اور قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی توانائی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال، طلب و رسد اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
‎اوپیک پلس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس فیصلے میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں۔ ان سات ممالک نے باہمی مشاورت کے بعد رضاکارانہ بنیادوں پر پیداوار میں ردوبدل پر اتفاق کیا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں عالمی تیل مارکیٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، اس لیے رکن ممالک نے موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پیداوار میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کو ضروری قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکنا اور توانائی کی عالمی ضروریات کو متوازن انداز میں پورا کرنا ہے۔
‎اوپیک پلس نے واضح کیا کہ رکن ممالک عالمی منڈی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر مستقبل میں طلب، رسد یا قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو باہمی مشاورت سے پیداوار کی سطح میں مزید ردوبدل بھی کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے مارکیٹ کے استحکام اور عالمی معیشت کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق اوپیک پلس کے فیصلے عالمی خام تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے تنظیم کے ہر فیصلے پر عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیاں گہری نظر رکھتی ہیں۔
‎اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اوپیک پلس کے ان سات ممالک کا اگلا اجلاس 2 اگست 2026 کو منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں عالمی تیل مارکیٹ کی تازہ صورتحال، طلب و رسد کے رجحانات، خام تیل کی قیمتوں اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر پیداوار کے حوالے سے مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ عالمی توانائی منڈی میں توازن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

More posts