آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں چار پولیس اہلکاروں کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق واقعے میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد پر پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ طور پر تمام دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرکاری معلومات کے مطابق راولاکوٹ میں جاری احتجاجی دھرنے کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھی جب مبینہ طور پر سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاہد شفیق، محمد صغیر، کانسٹیبل محمد اشتیاق اور ذیشان اسحاق کو ڈیوٹی پر جاتے ہوئے روک کر اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ چاروں اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق احتجاج میں عوامی شرکت کم ہونے کے بعد بعض عناصر نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، جس سے علاقے کی امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ حکام نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد نے راولاکوٹ کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس سے قبل ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو بھی مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) پر حملے کا الزام بھی انہی عناصر پر عائد کیا گیا۔ تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولاکوٹ میں 4 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا
