Baaghi TV


ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن کو تعاون کی پیشکش کر دی

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنازع کے جلد از جلد سیاسی حل کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیشکش دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کی گئی۔
‎کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین کی جنگ، علاقائی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اوشاکوف نے گفتگو کو "تعمیری اور کاروباری نوعیت” کی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
‎ان کے مطابق روس اب بھی اس تنازع کا سیاسی اور سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم ایسا حل روس کے بنیادی مؤقف اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن کسی بھی معاہدے میں روس کے سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
‎دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ ہفتے کے روز ان کی صدر ٹرمپ سے علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ زیلنسکی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذ پر جاری جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
‎زیلنسکی نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا ایک حقیقی موقع موجود ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا کا مضبوط عزم انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر مزید ملاقاتوں اور مشاورت پر بھی اتفاق کیا ہے۔
‎نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سربراہان کا اجلاس 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوگا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں یوکرین جنگ، یورپی سلامتی، دفاعی تعاون اور روس سے متعلق پالیسیوں پر اہم فیصلے زیر غور آئیں گے۔

More posts