وفاقی حکومت نے محنت کش طبقے کے بچوں کو بہتر اور مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے مزید ایک لاکھ بچوں کو تعلیم کی سہولت دینے کے منصوبے پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے بچوں کو بھی معیاری تعلیم تک رسائی دینا ہے جو معاشی مشکلات کی وجہ سے تعلیمی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی چودھری سالک حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق محنت کش خاندانوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کوئی بھی بچہ صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
چودھری سالک حسین نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس اصول پر مکمل یقین رکھتی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کے بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع میسر ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق محنت کشوں کے بچوں کو بھی وہی معیارِ تعلیم حاصل ہونا چاہیے جو دیگر بچوں کو دستیاب ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت محنت کش طبقے کے بچوں کی تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس حوالے سے مختلف فلاحی منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ محنت کش خاندانوں کو تعلیم، وظائف اور دیگر سماجی و فلاحی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق ادارے میں اصلاحات کا مقصد خدمات کی شفاف اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
چودھری سالک حسین نے کہا کہ محنت کشوں کے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسے اقدامات جاری رکھے گی جن کے ذریعے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قومی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ محنت کش طبقے کی فلاح، ان کے بچوں کی تعلیم اور سماجی تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہیں، اور مستقبل میں بھی ایسے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے جو مزدور خاندانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
حکومت کا مزید ایک لاکھ محنت کش بچوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ
