وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی امدادی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، جہاں ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے ممکنہ زندہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق تباہی کی شدت نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار، اپوزیشن، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق، 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے چند سیکنڈ کے وقفے سے آئے، جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔
رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم ایک ہزار 943 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 10 ہزار 500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلوں کے باعث تقریباً 16 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں خاندان عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
امدادی اداروں نے اب تک 6 ہزار 400 سے زیادہ افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا ہے، تاہم تقریباً 43 ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یونیسیف کے مطابق اس قدرتی آفت سے تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار بچے شدید متاثر ہوئے ہیں، جنہیں فوری انسانی امداد، خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور محفوظ رہائش کی ضرورت ہے۔ امدادی تنظیمیں بچوں اور خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
زلزلوں سے ملک بھر میں تقریباً 59 ہزار عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر عوامی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی وینزویلا کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرین کو بروقت امداد نہ ملی تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، ہلاکتیں 1,943 تک پہنچ گئیں
-

بچوں کی اسٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ، والدین پر اضافی مالی بوجھ
اسلام آباد: نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کے نئے ٹیکس اقدامات نافذ ہو گئے ہیں، جن کے تحت ملک بھر میں اسکول جانے والے بچوں کی درجنوں اسٹیشنری اشیاء پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تعلیمی اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ والدین خصوصاً تنخواہ دار اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یکم جولائی سے نئے مالی سال کا آغاز ہوتے ہی نئے فنانس بل کی مختلف شقوں پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت کئی شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ضروریات میں استعمال ہونے والی متعدد اسٹیشنری اشیاء بھی ٹیکس کی زد میں آ گئی ہیں۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق جن اشیاء پر 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، ان میں پنسل، قلم، جیومیٹری بکس، شارپنر، مشقی کاپیاں، اسکول گلو، رائٹنگ پیڈز اور کلر پنسلیں شامل ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر والدین کو بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔
مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد نہ صرف انفرادی اشیاء بلکہ کاپیوں، کتابوں، اسکول بیگز اور دیگر تعلیمی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، کیونکہ اضافی ٹیکس کا بوجھ بالآخر صارفین کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق 10 فیصد سیلز ٹیکس کے باعث مارکیٹ میں اسٹیشنری مصنوعات کی ریٹیل قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے لاکھوں خاندان مزید مالی مشکلات سے دوچار ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب نئے تعلیمی سال کے آغاز پر والدین کو داخلہ فیس، یونیفارم، کتابوں اور دیگر اخراجات بھی ادا کرنا ہوتے ہیں۔ -

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 15 سال کے مالیاتی ریکارڈ کا آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف
اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے مالی معاملات سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 برسوں سے ادارے کے مالیاتی ریکارڈ کا باقاعدہ آڈٹ نہیں کیا گیا، جبکہ اس عرصے کے دوران مالیاتی گوشوارے بھی تیار نہیں کیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے مالی سال 2009-10 سے لے کر مالی سال 2024-25 تک اپنے سالانہ مالیاتی گوشوارے مرتب نہیں کیے، جو مالیاتی شفافیت اور سرکاری اداروں کے احتساب سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتنے طویل عرصے تک مالی ریکارڈ کی تیاری نہ ہونے سے ادارے کے مالی معاملات کی درست جانچ اور نگرانی ممکن نہیں رہی۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت نافذ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (TSA) نظام پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔ قانون کے مطابق تمام سرکاری اداروں کی رقوم قومی خزانے کے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں رکھنا لازمی ہے، تاہم پی ایس بی نے اس کے برعکس اپنا علیحدہ بینک اکاؤنٹ برقرار رکھا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 تک پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اس بینک اکاؤنٹ میں 3 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار 591 روپے موجود تھے۔ رپورٹ میں اس معاملے کو مالیاتی قواعد و ضوابط سے انحراف قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرنے اور قوانین کے مطابق اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں کئی برسوں تک مالیاتی گوشوارے تیار نہ ہونا اور آڈٹ کا عمل مکمل نہ ہونا شفافیت اور احتساب کے نظام پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے مطابق تمام سرکاری اداروں کو مالیاتی نظم و ضبط، ریکارڈ کی بروقت تیاری اور آڈٹ کے تقاضے پورے کرنے چاہییں تاکہ عوامی وسائل کے استعمال کو مؤثر انداز میں جانچا جا سکے۔
آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اپنے مالیاتی ریکارڈ کو فوری طور پر مکمل کرے، قانونی تقاضوں کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار کرے اور ٹریژری سنگل اکاؤنٹ سے متعلق قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں سے بچا جا سکے۔ -

آبنائے ہرمز میں غیر ملکی کنٹینر جہاز گراؤنڈ، ایران نے مقررہ بحری راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کردی
مسقط/تہران: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز مقررہ بحری راستے سے انحراف کے باعث گراؤنڈ ہو کر پھنس گیا۔ واقعے کے بعد ایرانی حکام نے بین الاقوامی جہاز رانی کرنے والے تمام بحری جہازوں کو منظور شدہ نیوی گیشن روٹ پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ کنٹینر جہاز نے ایران کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ بحری راہداری استعمال کرنے کے بجائے متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ کم گہرے حصے میں جا کر پھنس گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جہاز کو بحفاظت نکالنے کے لیے متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی اور کارگو جہاز جزیرہ لارک کے جنوب میں قائم منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال کریں تاکہ نیوی گیشن کے دوران کسی بھی قسم کے حادثے یا رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں اور کپتانوں کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ راستوں سے ہٹ کر سفر کرنا نہ صرف جہازوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ میں دیگر جہازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ نیوی گیشن کے لیے طے شدہ بحری قوانین اور راستوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے اس راستے پر پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ -

اسرائیل کی ایران کو نئی دھمکی، ضرورت پڑی تو تیسرا حملہ بھی کریں گے
یروشلم: اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسرائیل ایران پر تیسری مرتبہ بھی فوجی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل ماضی میں بھی ایران کے خلاف دو مرتبہ پیشگی کارروائیاں کر چکا ہے اور اگر مستقبل میں خطرات کا سامنا ہوا تو تیسری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت کسی بھی ایسے اقدام سے دریغ نہیں کرے گی جسے وہ اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، اسی لیے اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم ان علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی جنہیں اسرائیل سکیورٹی زون قرار دیتا ہے۔ ان کے بقول ان علاقوں میں فوج کی تعیناتی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ اسرائیلی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کو ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان تعلقات انتہائی تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات، فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
تاحال ایران کی جانب سے اسرائیلی وزیر دفاع کے اس تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے باعث عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ -

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، 6 جولائی عام تعطیل
ایران کی حکومت نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں ملک بھر میں خصوصی انتظامات کرتے ہوئے 6 جولائی کو عام تعطیل اور 8 جولائی کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت، سوگواروں کی سہولت اور آخری رسومات کے منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں 6 جولائی کی تعطیل کا مقصد مختلف شہروں سے آنے والے لاکھوں سوگواروں کی واپسی کو آسان بنانا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
کمیٹی کے سیکریٹری علی اکبر پور جمشیدیان کے مطابق 3 جولائی کو دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام، سفارتی شخصیات اور دانشور تہران پہنچیں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ 4 جولائی سے عوام کے لیے سوگ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جبکہ امام خمینی کے مصلے کے دروازے عوامی آخری دیدار کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
5 جولائی کو تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ بھی شامل ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس موقع پر لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے اور غیر ملکی وفود بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 8 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق لے جایا جائے گا، جہاں نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے بعد 9 جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کریں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی، جبکہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ -

چشمہ بیراج میں پکنک کے دوران دو بہنیں دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ
پاکستان کے ضلع میانوالی میں چشمہ بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دو نوجوان بہنیں ڈوب کر لاپتہ ہوگئیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں بہنیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چشمہ بیراج کے قریب پکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ تفریح کے دوران وہ کسی موقع پر دریائے سندھ کے پانی میں اتر گئیں، جہاں اچانک گہرے پانی میں چلی جانے کے باعث ڈوب گئیں۔ اہل خانہ نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم تیز بہاؤ اور گہرے پانی کی وجہ سے دونوں کو فوری طور پر باہر نہ نکالا جا سکا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاپتہ لڑکیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ غوطہ خور کشتیوں اور ضروری آلات کی مدد سے دریا کے مختلف حصوں میں مسلسل تلاش کر رہے ہیں تاکہ دونوں لڑکیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والی لڑکیوں کی شناخت 16 سالہ حوا اور 18 سالہ شمائلہ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کی غرض سے چشمہ بیراج آئی تھیں، لیکن خوشیوں بھرا یہ سفر چند لمحوں میں غم میں تبدیل ہو گیا۔
واقعے کے بعد اہل خانہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جہاں وہ اپنی بیٹیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں ریسکیو اہلکاروں سے تعاون کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دریا میں پانی کے بہاؤ اور گہرائی کے باعث سرچ آپریشن انتہائی احتیاط سے جاری رکھا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دریاؤں، جھیلوں اور بیراجوں کے قریب تفریح کے دوران خصوصی احتیاط کریں، غیر محفوظ مقامات پر پانی میں داخل ہونے سے گریز کریں اور بچوں و نوجوانوں پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف حاصل نہ کر سکا، 1306 ارب روپے کی کمی
اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کیا گیا اصل ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کو مقررہ ہدف کے مقابلے میں ایک ہزار 306 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے حکومتی محصولات پر دباؤ برقرار رہا۔
دستیاب مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ایف بی آر کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام پر ادارہ یہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور مجموعی طور پر مقررہ ہدف سے 1306 ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا گیا۔
اگرچہ ایف بی آر اصل ہدف پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا ہدف کم کر کے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کر دیا تھا۔ ایف بی آر نے نظرثانی شدہ اس ہدف کو حاصل کر لیا، جسے حکومت کے لیے ایک اہم مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف حاصل نہ ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ دوسری جانب نظرثانی شدہ ہدف کی تکمیل سے حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی اہداف پر عمل درآمد میں مدد ملے گی اور آئندہ قسطوں کے حصول کے لیے مثبت اشارہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی میں پائیدار اضافہ صرف نئے ٹیکس عائد کرنے سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام، دستاویزی معیشت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے ایف بی آر کو ٹیکس نظام میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مزید توجہ دینا ہوگی تاکہ محصولات میں مستقل اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ -

مذاکرات صرف پیشکش تک محدود، احتجاج جاری رہے گا، بیرسٹر گوہر
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے حامی رہے ہیں، تاہم اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ صرف پیشکشوں اور بیانات کی حد تک محدود ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنے سیاسی حقوق کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی احتجاج کیے ہیں اور مستقبل میں بھی پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے مختلف سیاسی ملاقاتوں اور روابط کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس عمل کو پی ٹی آئی کی کمزوری یا پسپائی نہ سمجھا جائے، کیونکہ سیاسی شائستگی اور جمہوری روایات کو کمزوری سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ ابھی صرف ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ان پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہوتے ہیں تو پارٹی اپنی پالیسی کے مطابق مناسب فیصلہ کرے گی، تاہم فی الحال صورتحال صرف اعلانات اور پیشکشوں تک محدود ہے۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملے پر مصلحت، تدبر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی اقدام اٹھایا جائے گا اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ -

اسرائیل نے جارحیت کی تو بھرپور جواب ملے گا،امریکا تل ابیب کو قابو میں رکھے : عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا راستہ اختیار کیا تو اسے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ طے پانے والے عارضی سمجھوتے کے دوران یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کو کشیدگی بڑھانے سے روکے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تمام شرائط واضح ہیں اور ان سے متعلق کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نکات تمام فریقین کے علم میں ہیں اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی واضح طور پر طے کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام، ملکی قیادت یا ایران کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی دھمکی، حملے یا جارحانہ اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا نے تل ابیب میں اپنے اتحادی کو قابو میں رکھنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اگر اسرائیل نے اس یقین دہانی کو نظر انداز کرتے ہوئے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو ایران سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے دفاع سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مفاہمتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اس لیے عالمی برادری کی توجہ بھی مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر مرکوز ہے۔