خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ نے مختلف اضلاع میں شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں سے گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 مرد، ایک خاتون اور 4 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 7 مرد، ایک خاتون اور 11 بچے شامل ہیں۔ مختلف حادثات بارش، آندھی، مکانوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فلش فلڈ سے مجموعی طور پر 38 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 36 مکانات جزوی جبکہ 2 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبر، دیر زیریں، دیر بالائی، مردان، شانگلہ، باجوڑ اور لوئر چترال ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 3 جولائی تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید موسلا دھار بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان موجود ہے۔ محکمہ کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران ندی نالوں، دریا کناروں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی
-

عاصم اظہر نے ہانیہ عامر کے ساتھ پرانی انسٹاگرام پوسٹس بحال کردیں
پاکستان کے معروف گلوکار عاصم اظہر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 600 سے زائد پرانی تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ بحال کر دی ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے ماضی سے جڑی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہیں۔ بحال کی گئی پوسٹس میں اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ شیئر کی گئی متعدد تصاویر بھی شامل ہیں، جنہوں نے مداحوں اور شوبز حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کر لی۔
انسٹاگرام پر پوسٹس واپس لانے کے بعد عاصم اظہر نے ایک دلچسپ پیغام بھی شیئر کیا۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا، "آپ سب کو خوش آمدید، اب کچھ پرانے اور شرمندگی سے بھرے لمحات سے لطف اٹھائیں۔” اس مختصر پیغام نے مداحوں کا تجسس مزید بڑھا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی پرانی تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ وائرل ہونا شروع ہو گئیں۔
اگرچہ عاصم اظہر نے اپنے فنی سفر، کنسرٹس، دوستوں، اہل خانہ اور کیریئر سے متعلق سینکڑوں پوسٹس بحال کیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین کی زیادہ توجہ ان تصاویر پر مرکوز رہی جن میں وہ ہانیہ عامر کے ساتھ نظر آئے۔ مختلف شوبز اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے بھی انہی تصاویر کو نمایاں انداز میں شیئر کیا، جس کے بعد دونوں فنکاروں کے ماضی کے تعلقات ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئے۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے عاصم اظہر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے وضاحت بھی پیش کی۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں افسوس ہے کہ بیشتر میڈیا پلیٹ فارمز نے صرف چند مخصوص تصاویر کو ہی نمایاں کیا، جبکہ انہوں نے مجموعی طور پر 600 سے زائد پوسٹس بحال کی ہیں، جن میں ان کے کیریئر، موسیقی، یادگار لمحات اور ذاتی سفر کی جھلکیاں شامل ہیں۔
عاصم اظہر نے مزید کہا کہ ان کے مداح کافی عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنی پرانی پوسٹس دوبارہ منظر عام پر لائیں تاکہ وہ ان کے فنی سفر اور یادگار لمحات کو ایک بار پھر دیکھ سکیں۔ اسی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی آرکائیو کی گئی تصاویر اور ویڈیوز بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے عاصم اظہر کے اس اقدام کو صرف یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ کچھ نے ہانیہ عامر کے ساتھ ان کی پرانی تصاویر کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیا۔ تاہم عاصم اظہر کی وضاحت کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پوسٹس کی بحالی کا مقصد کسی خاص شخصیت کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ اپنے مداحوں کو اپنے پورے فنی سفر کی جھلک دوبارہ دکھانا تھا۔ -

ایل پی جی مافیا بے قابو، سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود، عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور
ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری سطح پر کمی کے دعووں کے باوجود صارفین کو ریلیف نہ مل سکا۔ اوگرا کی جانب سے جولائی کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 68 روپے کمی کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے مقرر کی گئی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں، بلکہ من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین، رکشہ ڈرائیوروں اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمت صرف اعلانات تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر کسی جگہ اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
رکشہ ڈرائیوروں نے شکایت کی ہے کہ مہنگی ایل پی جی خریدنے کے بعد ان کی روزانہ کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کے اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ روزگار چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کئی افراد قرض لے کر گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایل پی جی مافیا کھلے عام سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لیکن متعلقہ ادارے اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سرکاری نرخ پر ایل پی جی فراہم نہیں کر سکتی تو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں خود پلانٹس سے ایل پی جی 420 سے 450 روپے فی کلو کے حساب سے ملتی ہے، اس لیے وہ سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹس مہنگے داموں گیس فروخت کریں گے تو ریٹیل سطح پر سستی فروخت ممکن نہیں۔
دکانداروں نے مزید کہا کہ متعلقہ ادارے پلانٹس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ سپلائی چین کے آغاز میں ہے، جہاں قیمتوں کا تعین سرکاری نرخوں کے برعکس کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار اور مجموعی مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ -

توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں نئے بینچ کی منتظر
اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپیلیں جسٹس خادم حسین سومرو کے بینچ سے منتقل کر دی گئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے تاحال ان اپیلوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل نہیں دیا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرنے سے متعلق 12 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے، جس میں اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے قابل قبول قرار دینے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق عدالت نے اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کی معافی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان کے وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف اور قانونی جواز قابل قبول ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد تمام اعتراضات بھی ختم کر دیے اور ہدایت کی کہ اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگا کر آئندہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اپیلیں قانونی مدت کے اندر، یعنی 29 دسمبر 2025 کو دائر کر دی گئی تھیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 20 دسمبر 2025 کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالتی کارروائی کے تازہ مرحلے کے بعد اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کب نیا بینچ تشکیل دیتے ہیں اور اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کب شروع ہوتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نئے بینچ کی تشکیل کے بعد سزا کے خلاف اپیلوں پر تفصیلی دلائل دیے جائیں گے، جس کے بعد عدالت آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔
توشہ خانہ ٹو کیس ملکی سیاست اور عدالتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے اس مقدمے کی ہر عدالتی پیش رفت پر سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین اور عوام کی گہری نظر ہے۔ -

فیفا ورلڈ کپ 2026: امریکا، میکسیکو اور کینیڈا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
کراچی: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شریک تینوں میزبان ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پہلی بار تین ممالک کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا عالمی فٹبال ٹورنامنٹ دلچسپ مقابلوں کے بعد اب ناک آؤٹ مرحلے کے اگلے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
راؤنڈ آف 32 کے مقابلوں کے اختتام تک اب تک دس ٹیمیں پری کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ باقی چھ نشستوں کا فیصلہ آئندہ میچز میں ہوگا۔ تاہم سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ تینوں میزبان ٹیمیں بھی اگلے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہیں، جس سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کینیڈا نے میزبان ممالک میں سب سے پہلے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس نے راؤنڈ آف 32 کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک صفر سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ کینیڈا کی ٹیم نے مضبوط دفاع اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح اپنے نام کی۔
دوسری جانب میکسیکو نے ایکواڈور کو دو صفر سے شکست دے کر چالیس برس بعد ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔ میکسیکو کی اس کامیابی کو ملکی فٹبال کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے اور شائقین نے اس کامیابی کا بھرپور جشن منایا۔
امریکا نے بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے بوسنیا کو دو صفر سے ہرایا اور اعتماد کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچ گیا۔ امریکی ٹیم نے پورے میچ میں کھیل پر گرفت برقرار رکھی اور مخالف ٹیم کو زیادہ مواقع فراہم نہیں کیے۔
اب پری کوارٹر فائنل میں کینیڈا کا مقابلہ مراکش سے ہوگا، جبکہ امریکا اور میکسیکو آمنے سامنے ہوں گے۔ دونوں شمالی امریکی ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس اہم مقابلے کو ٹورنامنٹ کے دلچسپ ترین میچز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کل ایران اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے
وزیراعظم محمد شہباز شریف کل ایران اور ترکیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ اعلیٰ سطح کی اہم ملاقاتوں کے ساتھ مختلف سرکاری تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ ایران کا مرکزی مقصد شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت اور ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر اہم وزرا بھی اس دورے میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کرے گا۔
ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے متعلق بھی اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حالیہ رابطوں کے دوران ایران اور امریکا نے آنے والے دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد جلد منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
طاہر حسین اندرابی کے مطابق دوحہ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مختلف نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریق سفارتی ذرائع سے معاملات کو آگے بڑھانے اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر بھی پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اب بھی افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاک بھارت اہم شخصیات کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان نہ تو اس خط کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب سمجھتی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور اہم بین الاقوامی امور پر مشاورت کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ -

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کے لیے اہم معاہدے
پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سکیورٹی و کھیلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات، داخلی سلامتی، سرحدی تعاون، انسداد جرائم اور دیگر مشترکہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں موجود تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت انسداد دہشت گردی، جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے، ادارہ جاتی روابط اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
دورانِ ملاقات کھیلوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع میں اضافہ، مشترکہ تربیتی پروگرام، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مختلف کھیلوں میں تعاون کو فروغ دینے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس سلسلے میں ایک الگ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے معاہدے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، منظم جرائم کے خاتمے اور عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ملاقات کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سکیورٹی بلکہ کھیلوں اور دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ -

این ڈی ایم اے کا گلیشیئر پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
ملک بھر میں مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ چند روز کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے حوالے سے اہم الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور ملبے کے ریلوں کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئرز سے ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ادارے کے مطابق ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر اور لوئر چترال، سوات اور دیگر گلیشیائی وادیوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع بارشوں کی وجہ سے ہسپر اور ہوپر نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے دریا کنارے آباد علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
این ای او سی نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک ملک کے مختلف حصوں میں مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر پہاڑی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے علاقوں میں فلیش فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔
اسی طرح پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے اور سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حفاظتی انتظامات، نکاسی آب، ہنگامی مشینری اور ریسکیو وسائل کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے جبکہ دریاؤں اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریا کناروں اور نشیبی علاقوں میں احتیاط برتیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور موسم، ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مستند معلومات کے لیے این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور مقامی انتظامیہ کے جاری کردہ الرٹس پر توجہ دیں۔ -

اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں 5.3 شدت کا زلزلہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدھ کی رات 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد کے علاوہ پشاور، کرم، مردان، بونیر، سوات، شانگلہ، چارسدہ اور لوئر دیر سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ کئی مقامات پر جھٹکے چند سیکنڈ تک جاری رہے، جس سے شہریوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ بعض علاقوں میں لوگ احتیاطاً کھلے مقامات پر جمع ہو گئے اور صورتحال معمول پر آنے تک گھروں میں واپس جانے سے گریز کرتے رہے۔
زلزلہ پیما مرکز کے ترجمان کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 174 کلومیٹر تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں واقع تھا، جہاں سے اکثر گہرے زلزلے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے اثرات پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا اور اب تک کسی بڑے نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
ریسکیو 1122 نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زلزلے کے بعد غیر ضروری خوف و ہراس سے گریز کریں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ ادارے نے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، عمارت کو نقصان یا زخمی ہونے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق ہندوکش ریجن میں آنے والے گہرے زلزلوں کے جھٹکے پاکستان کے مختلف حصوں میں اکثر محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم زیادہ گہرائی کی وجہ سے ان سے بڑے پیمانے پر تباہی کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں کو قدرتی آفات سے متعلق حفاظتی تدابیر سے آگاہ رہنے اور ہنگامی حالات میں احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ -

کینسر کا مقابلہ کرنے والی شہزادی کیٹ نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی 3 بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں
لندن: کینسر سے صحت یابی کے مرحلے سے گزرنے والی ویلز کی شہزادی کیٹ میڈلٹن نے عزم، حوصلے اور ہمت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیاں سر کر کے "تھری پیکس چیلنج” کامیابی سے مکمل کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہزادی کیٹ نے یہ چیلنج کینسر کے مریضوں کی معاونت کرنے والی معروف فلاحی تنظیم رائل مارسڈن کے لیے فنڈز جمع کرنے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے مکمل کیا۔ اس مہم کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ کینسر کی تشخیص زندگی کا اختتام نہیں بلکہ مناسب علاج، حوصلے اور اہل خانہ کی حمایت سے مریض دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
شہزادی کیٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے انگلینڈ کی بلند ترین چوٹی اسکافل پائیک، اسکاٹ لینڈ کی بین نیوس اور ویلز کی اسنوڈون کو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سر کر کے یہ منفرد چیلنج مکمل کیا۔ اس کامیابی کو نہ صرف کھیلوں کے حلقوں بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے بھی بے حد سراہا۔
چیلنج مکمل ہونے پر شہزادی کیٹ کا پرتپاک استقبال ان کے شوہر برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم، بچوں شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس نے کیا۔ اس موقع پر ان کے والدین، بھائی اور دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے، جنہوں نے اس کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
کینسنگٹن پیلس کی جانب سے جاری بیان میں شہزادی کیٹ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف ایک جسمانی چیلنج مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کو امید، حوصلہ اور اعتماد دینا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے، لیکن بروقت علاج، مثبت سوچ اور مضبوط سپورٹ سسٹم کے ذریعے مریض دوبارہ اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں گزار سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 44 سالہ شہزادی کیٹ میڈلٹن کو 2024 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ علاج کے دوران انہوں نے کیموتھراپی کا مرحلہ بھی مکمل کیا اور اب وہ بتدریج صحت یاب ہونے کے ساتھ اپنے سرکاری فرائض دوبارہ انجام دے رہی ہیں۔ ان کی حالیہ کامیابی کو لاکھوں کینسر مریضوں کے لیے امید، عزم اور حوصلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔