ایران کی حکومت نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں ملک بھر میں خصوصی انتظامات کرتے ہوئے 6 جولائی کو عام تعطیل اور 8 جولائی کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت، سوگواروں کی سہولت اور آخری رسومات کے منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں 6 جولائی کی تعطیل کا مقصد مختلف شہروں سے آنے والے لاکھوں سوگواروں کی واپسی کو آسان بنانا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
کمیٹی کے سیکریٹری علی اکبر پور جمشیدیان کے مطابق 3 جولائی کو دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام، سفارتی شخصیات اور دانشور تہران پہنچیں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ 4 جولائی سے عوام کے لیے سوگ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جبکہ امام خمینی کے مصلے کے دروازے عوامی آخری دیدار کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
5 جولائی کو تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ بھی شامل ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس موقع پر لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے اور غیر ملکی وفود بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 8 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق لے جایا جائے گا، جہاں نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے بعد 9 جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کریں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی، جبکہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، 6 جولائی عام تعطیل
