اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کیا گیا اصل ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کو مقررہ ہدف کے مقابلے میں ایک ہزار 306 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے حکومتی محصولات پر دباؤ برقرار رہا۔
دستیاب مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ایف بی آر کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام پر ادارہ یہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور مجموعی طور پر مقررہ ہدف سے 1306 ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا گیا۔
اگرچہ ایف بی آر اصل ہدف پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا ہدف کم کر کے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کر دیا تھا۔ ایف بی آر نے نظرثانی شدہ اس ہدف کو حاصل کر لیا، جسے حکومت کے لیے ایک اہم مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف حاصل نہ ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ دوسری جانب نظرثانی شدہ ہدف کی تکمیل سے حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی اہداف پر عمل درآمد میں مدد ملے گی اور آئندہ قسطوں کے حصول کے لیے مثبت اشارہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی میں پائیدار اضافہ صرف نئے ٹیکس عائد کرنے سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام، دستاویزی معیشت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے ایف بی آر کو ٹیکس نظام میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مزید توجہ دینا ہوگی تاکہ محصولات میں مستقل اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف حاصل نہ کر سکا، 1306 ارب روپے کی کمی
