لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معذور کرکٹ مداح سے ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے صارفین کی جانب سے مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویرات کوہلی وہیل چیئر پر موجود پاکستانی مداح کے پاس رکتے ہیں، ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔
ملاقات کے دوران مداح کے ساتھ موجود ایک شخص نے ویرات کوہلی سے کہا، "سر! ہم پاکستان سے ہیں، لیکن ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔” اس پر ویرات کوہلی نے مسکراتے ہوئے مداح سے بات چیت جاری رکھی اور ان سے گرمجوشی کا اظہار کیا۔
یہ مختصر مگر جذباتی ملاقات سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو گئی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کھیل قوموں کو قریب لانے اور باہمی احترام و محبت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ کئی افراد نے ویرات کوہلی کے رویے کو کھیل کی حقیقی روح قرار دیا۔
ویڈیو کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین اس ملاقات کو کھیل کے ذریعے انسانیت، احترام اور محبت کی خوبصورت مثال قرار دے رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

لارڈز میں ویرات کوہلی کی پاکستانی مداح سے ملاقات، ویڈیو وائرل
-

ملائیشیا نے ایم ایچ 370 کی تلاش میں ایک سال کی مزید توسیع کر دی
ملائیشیا نے لاپتہ ہونے والی ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کی تلاش کا عمل مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق تلاش کا موجودہ معاہدہ اب 30 جون 2027 تک برقرار رہے گا۔
ملائیشیا ایئر لائنز کا بوئنگ 777 طیارہ 8 مارچ 2014 کو 239 افراد کو لے کر کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا کہ دورانِ پرواز اچانک ریڈار سے غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور پراسرار رازوں میں شمار ہوتا ہے۔
طیارے میں سوار افراد میں تقریباً دو تہائی مسافر چین سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ دیگر مسافروں میں ملائیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا، بھارت، امریکا، نیدرلینڈز اور فرانس کے شہری بھی شامل تھے۔
ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے بتایا کہ سمندری تحقیقاتی کمپنی اوشین انفینٹی کے ساتھ موجودہ معاہدے میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور معاہدے کی تمام شرائط بدستور برقرار رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں "نو فائنڈ، نو فیس” کی شرط بھی شامل رہے گی، یعنی اگر طیارے کا ملبہ دریافت نہ ہوا تو کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی، جبکہ کامیابی کی صورت میں کمپنی کو 7 کروڑ امریکی ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اوشین انفینٹی نے 2018 میں بھی ایم ایچ 370 کی تلاش کی تھی، جبکہ آسٹریلیا کی قیادت میں ہونے والا تین سالہ بین الاقوامی سرچ آپریشن جنوری 2017 میں بغیر کسی کامیابی کے ختم کر دیا گیا تھا۔
دس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایم ایچ 370 کی گمشدگی اب بھی دنیا کے سب سے پیچیدہ فضائی حادثات میں شمار کی جاتی ہے، اور اس کے مسافروں کے اہلِ خانہ اب بھی کسی حتمی جواب کے منتظر ہیں۔ -

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اٹلی میں ریڈ الرٹ جاری
روم: یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اٹلی، فرانس، کروشیا، سربیا، البانیہ اور بلقان کے دیگر ممالک میں غیر معمولی درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ کئی شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اٹلی میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں 27 میں سے 25 بڑے شہروں میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ نافذ ہے۔ شمالی شہر بولزانو سے لے کر جنوبی جزیرے سسلی کے شہر پالرمو تک درجہ حرارت خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ دارالحکومت روم میں بھی مقامی شہریوں اور سیاحوں کو شدید گرمی کا سامنا ہے جبکہ طبی ماہرین نے بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
کروشیا کے محکمہ موسمیات نے دارالحکومت زغرب سمیت مشہور سیاحتی شہروں ڈوبروونک اور اسپلٹ کے لیے بھی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ادھر ایڈریاٹک سمندر میں واقع سیاحتی جزیرے وس پر جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے درجنوں فائر فائٹرز اور چار طیارے مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
پڑوسی ملک سربیا میں بھی درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ البانیہ میں جنوبی علاقے کے ایک گاؤں کے قریب بھڑکنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس دوران جھاڑیوں اور زیتون کے باغات کا بڑا حصہ جل کر تباہ ہو گیا۔
فرانس میں بھی شدید گرمی کے باعث ہنگامی صورتحال برقرار ہے۔ وزیراعظم سباستیان لیکورنو نے ملک کے صحت سے متعلق ہنگامی ردعمل کے نظام کو اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی محکمہ صحت کے مطابق گرمی کی اس لہر کے باعث اب تک تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں زیادہ تر بزرگ شہری شامل ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق 20 جون سے جاری یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی شدید ترین ہیٹ ویوز میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ پر قائم ہائی پریشر کا طاقتور نظام، جسے "ہیٹ ڈوم” کہا جاتا ہے، شدید گرمی کو ایک ہی خطے میں قید کیے ہوئے ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور فوسل فیول کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہروں کو پہلے سے زیادہ بار بار اور زیادہ خطرناک بنا دیا ہے، جس کے اثرات توانائی کے نظام، بنیادی ڈھانچے، زراعت اور صحت کے شعبے پر واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ -

چین سے بڑھتے تجارتی خسارے پر یورپی یونین کا سخت مؤقف
برسلز: یورپی یونین نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی عدم توازن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مزید قابل قبول نہیں۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ نے برسلز میں چینی وزیر تجارت وانگ وینتاؤ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماروش شیفچووچ نے کہا کہ چین کی یورپی یونین کو برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ چینی منڈی میں یورپی مصنوعات کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو یورپی صنعت اور معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے موجودہ تجارتی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں تک یورپی یونین آزاد تجارت کی مضبوط حامی سمجھی جاتی تھی، تاہم اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ چینی صنعت کو حکومتی سبسڈیز، کم لاگت پیداوار اور بڑے پیمانے پر صنعتی سہولیات حاصل ہونے کے باعث یورپی کمپنیوں کو غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن اس سے قبل بھی چینی صنعت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو "نیا چائنا شاک” قرار دے چکی ہیں۔ یورپی ممالک کے درمیان اگرچہ اس بات پر مختلف آراء موجود ہیں کہ چین کے خلاف کتنی سخت تجارتی پالیسیاں اختیار کی جائیں، تاہم اس پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ مقامی صنعت اور روزگار کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر فلپ لی کورے کے مطابق یورپ میں چین کے حوالے سے سوچ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے بقول یورپی کمپنیاں اب حقیقی خطرات محسوس کر رہی ہیں، اسی لیے یورپی یونین اپنی آزاد تجارتی اور صنعتی حکمت عملی تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی سرپلس 360 ارب 60 کروڑ یورو تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ اس وقت چین شمسی توانائی کے پینلز، نایاب معدنیات، کیمیکلز، صنعتی روبوٹس اور دیگر اہم شعبوں میں یورپی منڈی پر مضبوط گرفت رکھتا ہے۔
ادھر چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی یورپ کی معروف آٹو موبائل صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 35.3 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود بی وائی ڈی، جیلی اور چیری جیسے برانڈز کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی 2026 میں پہلی بار یورپی یونین میں فروخت ہونے والی مجموعی گاڑیوں میں چینی برانڈز کا حصہ 10 فیصد سے تجاوز کر گیا، جس نے یورپ کی روایتی آٹو انڈسٹری کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ -

شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبرفیک، بی بی سی کی خبر غلط نکلی
آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی آزاد کشمیر پولیس نے تردید کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ بھی زیر گردش رہی، تاہم آزاد کشمیر پولیس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں اور شوکت نواز میر اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آئے۔
پولیس حکام کے مطابق شوکت نواز میر مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم وہ گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہی تھی، جس کے تناظر میں مختلف معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے اس سے قبل شوکت نواز میر سمیت کالعدم کمیٹی کے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان کے نام شامل ہیں۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب شوکت نواز میر کی جانب سے اس تازہ مؤقف پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ -

آٹزم کے شکار بچوں کے لیے عالمی معیار کا سینٹر آف ایکسیلنس جلد قائم کیا جائے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم کے ایڈوائزری بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) کا شکار بچوں کے لیے معیاری تعلیم، ابتدائی تشخیص، بحالی اور معاونت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے جامع اور جدید سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خصوصی بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں انہیں معیاری تعلیم، بروقت تشخیص، علاج اور بحالی کی سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر آ سکیں۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اجلاس کو اسلام آباد میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے عالمی معیار کے سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں منصوبے کے مختلف مراحل، دستیاب سہولیات اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا، جبکہ اس شعبے سے وابستہ معروف ماہرین کی آراء بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں تاکہ منصوبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا سکے۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت اور بحالی کے لیے دنیا بھر میں رائج کامیاب ماڈلز اور بہترین طریقہ کار سے استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ آٹزم سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو ایسی سہولیات فراہم کی جائیں جو ان کی تعلیمی، سماجی اور نفسیاتی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کر سکیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے منصوبے پر کام میں تیزی لائی جائے تاکہ یہ ادارہ جلد از جلد فعال ہو سکے اور خصوصی بچوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت خصوصی افراد، بالخصوص آٹزم کے شکار بچوں، کی فلاح و بہبود کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور انہیں معاشرے کا باوقار اور فعال حصہ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور مختلف متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی اور منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ -

مغربی بنگال میں ووٹر فہرست سے نام خارج، لاکھوں مسلمان مستقبل سے پریشان
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے بعد لاکھوں افراد، خصوصاً مسلمانوں، کو شدید بے یقینی کا سامنا ہے۔ انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے والے شہریوں کو خدشہ ہے کہ وہ نہ صرف حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے بلکہ سرکاری فلاحی سہولتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ مزدور انتو شیخ بھی ایسے ہی متاثرہ افراد میں شامل ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا۔ وہ کئی ہفتوں سے اپنے شناختی اور سرکاری دستاویزات کا پلندہ اٹھائے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں تاکہ اپنی شہریت اور ووٹر حیثیت ثابت کر سکیں۔
بھارت کے الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں "خصوصی جامع نظرثانی” مہم شروع کی، جس کا مقصد فوت شدہ، جعلی یا مشتبہ ووٹروں کی نشاندہی کرنا بتایا گیا۔ تاہم مغربی بنگال، جو بنگلہ دیش سے متصل ریاست ہے، وہاں مرکزی حکومت نے اس مہم کو مبینہ غیرقانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالنے سے جوڑا۔
ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والے تجزیوں کے مطابق اس مہم کے دوران مسلمانوں کے نام غیرمتناسب انداز میں زیادہ خارج کیے گئے، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں مسلم آبادی نمایاں ہے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مرشد آباد بھی انہی اضلاع میں شامل ہے۔
ریاستی انتخابات سے قبل تقریباً 90 لاکھ افراد کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے۔ انتخابات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی مرتبہ مغربی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
حکومت نے اعلان کیا کہ جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں، وہ سرکاری راشن اور دیگر فلاحی منصوبوں کے اہل بھی نہیں رہیں گے۔ بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ جن شہریوں نے خصوصی ٹریبونلز میں اپیل دائر کر رکھی ہے، انہیں فیصلہ آنے تک سہولتیں ملتی رہیں گی۔
انتو شیخ بھی انہی اپیل کنندگان میں شامل ہیں، تاہم انہیں راشن کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وہ روزانہ اجرت پر ریلوے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرتے ہیں اور روزگار کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں جانا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ صرف کاغذی کارروائی کے لیے اپنے گاؤں میں رکے رہے تو آمدنی کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان کے خاندان کو راشن بھی نہ مل سکے اور وہ مسلسل غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ -

بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج، نیشنل پاپولیشن کونسل جلد فعال کی جائے گی: وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں بہبود آبادی اور آبادی میں توازن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، دستیاب وسائل پر اس کے اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسائل اور آبادی کے درمیان متوازن تناسب ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری قومی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، جس کے باعث معاشی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کی مؤثر منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور قومی سطح پر آبادی سے متعلق مؤثر پالیسی سازی کے لیے کونسل کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی کریں گے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے منسلک کرے گی، جبکہ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کو آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ ذمہ دارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ میں مدد مل سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران سمیت کئی اسلامی ممالک آبادی پر قابو پانے کے مؤثر پروگراموں کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کر چکے ہیں، جن کے تجربات سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ نیشنل پاپولیشن کونسل صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی سطح پر مربوط اقدامات کو یقینی بنائے گی، جبکہ اس کا سیکریٹریٹ وزارت منصوبہ بندی میں قائم کیا جائے گا۔
اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ -

کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، مالک مکان سمیت 2 افراد حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران جائے وقوعہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ لاہور پولیس کے جوان ریسکیو ٹیموں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے، زخمی بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ہسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
اس موقع پر انہوں نے متاثرہ بچوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور یقین دلایا کہ حکومت اور لاہور پولیس اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے غم میں پوری پولیس برابر کی شریک ہے۔
فیصل کامران نے بتایا کہ ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید کہا کہ لاہور پولیس متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ -

بھارت عالمی قانون سے انحراف کر رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا: حنا ربانی کھر
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک جانب عالمی نظام میں اصول وضع کرنے والا ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اس کا طرز عمل بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی روح کے منافی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک خود کو عالمی قوانین کا محافظ کہلوانا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے انہی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے جیسے عزائم کا اظہار کرے یا بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ انحراف کی کوشش کرے۔
حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرے یا اسے ختم کرنے کا اعلان کرے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت بھی اپنے فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قانونی اور پابند معاہدہ ہے، جسے کسی ایک فریق کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی اور بھارت کے طرز عمل کا نوٹس نہ لیا تو مستقبل میں دیگر ممالک بھی اسی طرز عمل کو اختیار کر سکتے ہیں، جس سے عالمی معاہدوں کی حیثیت اور بین الاقوامی نظام کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی قانون، بین الاقوامی معاہدوں اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی برقرار رہے۔
حنا ربانی کھر نے اپنے دورِ وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کا رویہ اکثر اس راہ میں رکاوٹ بنتا رہا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پانی کو تنازع کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون، مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کا وسیلہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ آبی وسائل پر تعاون ہی خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔