آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی کالعدم تنظیم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع میں تنظیم سے وابستہ متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق تنظیم پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، بیرون ملک سے مالی معاونت حاصل کرنے اور غیر قانونی نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے تنظیم کے متعدد کارکنوں اور مبینہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کی جا رہی ہیں جن پر شہریوں کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے اور بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے جیسے الزامات ہیں۔
شوکت نواز میر حالیہ مہینوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے اور مختلف عوامی احتجاجی مظاہروں میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ یہ احتجاج بنیادی شہری حقوق، عوامی مسائل اور مختلف اصلاحات کے مطالبات کے حوالے سے کیے گئے تھے، جن میں بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی شرکت کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد شوکت نواز میر کچھ عرصے سے منظر عام سے دور تھے۔ اس دوران انہوں نے مختلف بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور متعدد افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتاریاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں اور زیر حراست افراد کے خلاف شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاحال شوکت نواز میر یا ان کے وکلا کی جانب سے گرفتاری کے بعد کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر مزید قانونی پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

آزاد کشمیر میں کالعدم جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر گرفتار
-

دیر پائین میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج، مرکزی ملزم گرفتار
دیر پائین کے علاقے رباط کے گاؤں خرکئی میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی، سماجی حلقوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
مقامی ذرائع کے مطابق مقتولہ کی والدہ پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں جبکہ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے چچا نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم لڑکی نے اس رشتے سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔
رپورٹس کے مطابق انکار پر مشتعل ہو کر چچا اور اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر لڑکی پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ زخمی لڑکی کو گھر کی چھت سے نیچے پھینکا گیا، گھسیٹا گیا اور اس پر کلہاڑی سے بھی حملہ کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
مقامی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقتولہ کی تدفین انتہائی عجلت میں کی گئی اور انہیں بغیر کفن، غسل اور نماز جنازہ کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے مرکزی ملزم، جو مقتولہ کا چچا بتایا جا رہا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آج مقتولہ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقتولہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بیٹی کے ساتھ ایسا افسوسناک سانحہ پیش نہ آئے۔ -

اداکارہ مریم مائیکل کا کم عمری کی شادی اور طلاق سے متعلق انکشاف
پاکستانی اداکارہ اور ماڈل مریم مائیکل نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی صرف 17 سال کی عمر میں ہوئی تھی، تاہم یہ رشتہ دو سال بعد ختم ہوگیا اور 19 سال کی عمر میں ان کی طلاق ہوگئی۔
اداکارہ نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام میں اپنی زندگی کے اس باب پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک انہوں نے اس معاملے کو نجی رکھا، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ خاموشی اکثر معاشرے میں موجود شرمندگی کے احساس کو مزید تقویت دیتی ہے۔
مریم مائیکل نے واضح کیا کہ اپنی کہانی بیان کرنے کا مقصد ہمدردی یا توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ طلاق سے متعلق معاشرتی رویوں پر گفتگو کو معمول کا حصہ بنانا ہے، تاکہ ایسے حالات سے گزرنے والے افراد خود کو تنہا یا شرمندہ محسوس نہ کریں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ زندگی کے ہر مرحلے کو قبول کرنا ضروری ہے اور ماضی کے تجربات انسان کی شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلوں اور تجربات کے بارے میں بلا جھجھک بات کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اداکارہ کی اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جہاں کئی افراد نے ان کی ہمت اور کھلے انداز میں اپنی زندگی کے تجربات بیان کرنے کو مثبت قدم قرار دیا۔ -

ایرانی اسپیکر کی ایاز صادق کو آیت اللہ خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی دعوت
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ، مجلس شوریٰ اسلامی، کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ اس حوالے سے محمد باقر قالیباف نے اسپیکر ایاز صادق کے نام ایک خصوصی خط ارسال کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب 3 جولائی 2026 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگی، جہاں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام، پارلیمانی نمائندوں اور بین الاقوامی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی اسپیکر نے اپنے خط میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام، اسپیکر ایاز صادق اور قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
خط میں پاکستان اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، تاریخی تعلقات اور برادرانہ روابط کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ محمد باقر قالیباف نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے دعوت نامہ موصول ہونے پر ایرانی اسپیکر کا شکریہ ادا کیا اور اس خیرسگالی کے جذبے کو سراہا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی قریبی روابط برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ -

بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات
اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی ماحول، قومی استحکام، جمہوری عمل اور مستقبل کی سیاسی پیش رفت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے سمیت اہم قومی معاملات پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، جنہوں نے بھی مختلف سیاسی امور پر اپنی آراء پیش کیں۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں انجینئر ضیاء الرحمان اور مولانا اسجد محمود نے شرکت کی اور پارٹی مؤقف سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی معاملات، اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے کردار سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اگرچہ ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیاسی حلقے اس ملاقات کو آئندہ سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں مختلف جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے مستقبل کی سیاسی صف بندیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تصور کی جا رہی ہے، جس میں قومی مسائل پر مشاورت اور سیاسی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے اور جمہوری روایات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ -

لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، کئی زخمی
لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والے دلخراش حادثے میں چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے معمول کے مطابق ٹیوشن کلاس میں موجود تھے۔ اچانک عمارت کی چھت زمین بوس ہو گئی اور کلاس روم میں موجود طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد بڑی تعداد میں امدادی کارروائیوں میں شریک ہو گئے۔
حادثے کے وقت اکیڈمی میں تقریباً 35 بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق چھت گرنے کی زور دار آواز سن کر اہلِ علاقہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ مقامی افراد نے کئی زخمی بچوں کو ملبے سے نکال کر ایمبولینسوں تک پہنچایا، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی آپریشن شروع کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائی کے دوران ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں میں سے کم از کم سات کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ گئی اور عمارت کی حالت کا جائزہ لیا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کی چھت کس وجہ سے گری اور آیا تعمیراتی معیار یا حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی۔
اہلِ علاقہ اور بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہر بھر میں قائم نجی تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات صرف دو ممالک کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی قوانین، ریاستوں کے درمیان اعتماد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور قومی معیشت سے براہ راست وابستہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا آبی حقوق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام پر دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حل کرنے کی راہ اپنائے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور اس عالمی نظام کو متاثر کرتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، تعاون اور خوشگوار ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت ملکی و غیر ملکی آبی ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے آبی وسائل کے مؤثر تحفظ، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے تنازعات کا حل صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ -

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں، سوگ تقریبات کا شیڈول جاری
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور سوگ کی تقریبات کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ اور تعزیتی اجتماعات کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ آخری رسومات کا سلسلہ عراق کے مقدس شہروں تک بھی جاری رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے چند افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے وفود، مذہبی شخصیات اور لاکھوں زائرین کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق بین الاقوامی مہمانوں کی آمد جمعہ سے شروع ہوگی، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو تہران کے مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں مرکزی سوگ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد 6 جولائی کو انقلاب روڈ، لشکری روڈ اور آزادی روڈ پر نمازِ جنازہ کا بڑا اجتماع متوقع ہے، جس میں ایرانی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد شریک ہوں گے۔
زائرین کی سہولت کے لیے تہران اور گرد و نواح میں ہنگامی انتظامات کیے گئے ہیں۔ رہائش کے لیے 1,500 اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی ہاسٹلز کو مختص کیا گیا ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں میں مزید 800 سے زائد تعلیمی اداروں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
تہران کے بعد سوگ کی تقریبات قم میں منعقد ہوں گی، جہاں زائرین کی رہائش کے لیے سیکڑوں تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف، کربلا، کاظمین اور بغداد لے جانے کا پروگرام بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق عراق سے واپسی پر 9 جولائی کو مشہد میں الوداعی تقریب منعقد ہوگی، جس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ -

قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد
راولپنڈی: کہوٹہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے فلمی انداز میں فرار ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سہالہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی پر مامور سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق قیدیوں کو لے جانے والی وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے۔ راستے میں 14 قیدی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ 10 قیدی تاحال مفرور ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران بعض قیدیوں نے شور شرابا اور جھگڑا شروع کر دیا۔ جب پولیس اہلکار انہیں روکنے کے لیے وین کا دروازہ کھولنے لگے تو ملزمان نے ان کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تھانہ سہالہ میں درج مقدمے میں پولیس آرڈر 2002ء کی دفعہ 155-C اور 155-D بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق قیدیوں کی حراست اور سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ -

ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ
اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جبکہ مختلف شہروں میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کئی علاقوں میں گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سرگودھا میں گرمی کی شدت 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ سکھر میں 52 ڈگری اور فیصل آباد میں 51 ڈگری سینٹی گریڈ محسوس کی گئی۔ اسی طرح دادو اور پشاور میں بھی گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں گرمی کی شدت 49 ڈگری، سیالکوٹ میں 48 ڈگری اور ملتان میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں سمندری ہواؤں کے باعث نسبتاً کم شدت ریکارڈ کی گئی، جہاں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران شہری غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دیگر طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔