Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
تلنگانہ میں حاملہ خاتون کی خودکشی، شوہر اور ساس گرفتار

    
تلنگانہ میں حاملہ خاتون کی خودکشی، شوہر اور ساس گرفتار

    ‎بھارت کی ریاست تلنگانہ میں 23 سالہ حاملہ خاتون کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق متوفیہ سشمیتا نے مبینہ طور پر شوہر اور ساس کی جانب سے مسلسل ذہنی اور جسمانی ہراسانی کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق متوفیہ کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ سشمیتا کے شوہر کو پیدا ہونے والے بچے کی نسبت پر شبہ تھا اور اس نے اہلِ خانہ کے سامنے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ والدہ نے الزام عائد کیا کہ اس رویے نے ان کی بیٹی کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ‎متوفیہ کی والدہ نے ساس پر بھی بیٹی کے ساتھ بدسلوکی اور مسلسل ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں دونوں فریقین کے درمیان صلح صفائی بھی ہوئی تھی، تاہم اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا۔
    ‎اہلِ خانہ کے مطابق صلح کے صرف دو روز بعد سشمیتا اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد سشمیتا کے شوہر اور ساس کو گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ شوہر اور دیگر سسرالی رشتے داروں کے خلاف ظلم، ذہنی و جسمانی ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ الزامات کی حقیقت کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور مکمل تفتیش کے بعد ہوگا۔

  • بھارتی شہر پونے میں 3 سالہ بچی سے زیادتی کے  مجرم کو سزائے موت کا حکم

    بھارتی شہر پونے میں 3 سالہ بچی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم

    بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے کی ایک عدالت نے ایک انتہائی دلخراش واقعے کا فیصلہ سناتے ہوئے 65 سالہ مجرم بھیم راؤ کامبل کو ایک 3 سالہ معصوم بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں اسے بے دردی سے قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔
    بھارتی میڈیا کے مطابق، پونے کے ضلع و سیشن جج ایس آر سلونکھے نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ جرم ’نایاب ترین (Rarest of Rare)‘ زمرے میں آتا ہے، جس نے نہ صرف عدالت بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس لیے مجرم کسی رعایت کا حقدار نہیں۔
    کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مجرم کو سخت ترین سزا دلوانے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ کے 12 اہم اور تاریخی فیصلوں کا حوالہ پیش کیا اور موقف اختیار کیا کہ کمسن بچی پر ڈھایا جانے والا یہ ظلم معاشرے کے لیے ایک ناسور ہے، جس پر عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے مجرم کو پھانسی کی سزا کا حقدار ٹھہرایا۔

  • 
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار

    
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار

    ‎اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی۔
    ‎کیس کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے کی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عدم حاضری کے باعث عدالت نے پہلے سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انہیں گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔
    ‎سہیل آفریدی کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درج کر رکھا ہے۔ مقدمے میں ان پر ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن الزامات عائد کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
    ‎عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے مقدمے کی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا گیا، جبکہ ملزم کی عدم پیشی پر عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
    ‎تاحال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا ان کے وکلا کی جانب سے عدالتی فیصلے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 9 جولائی کو ہوگی، جہاں مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔

  • 
غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، 10 جولائی آخری مہلت مقرر

    
غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، 10 جولائی آخری مہلت مقرر

    ‎پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے 10 جولائی کو آخری مہلت مقرر کر دی ہے۔
    ‎وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام افغان شہریوں کے خلاف مقررہ تاریخ سے قبل کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ 10 جولائی تک ایسے تمام افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
    ‎اس سلسلے میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، انسپکٹرز جنرل پولیس (آئی جیز) اور اسلام آباد انتظامیہ کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ متعلقہ حکام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کارروائیاں مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکیں۔
    ‎وزارت داخلہ نے مزید ہدایت کی ہے کہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں، کارروائیوں اور پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ وزارت کو ارسال کی جائے تاکہ کریک ڈاؤن کی نگرانی کی جا سکے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات ملک میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد، سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے اور غیر قانونی قیام کے خاتمے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے انسانی حقوق اور مہاجرین کے امور پر کام کرنے والے بعض ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام کارروائیاں ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق انجام دی جائیں۔

  • ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال کے نواحی گاؤں تھنیل فتح میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں دو نوجوان ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جس سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ ایک نجی فارم ہاؤس کے اندر قائم تقریباً 20 فٹ گہرے ڈیم میں پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 24 سالہ فہیم رضا فارم ہاؤس کے قریب کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ ڈیم میں جا گرے۔ پانی گہرا ہونے کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور ڈوبنے لگے۔
    ‎اپنے ساتھی کو مشکل میں دیکھ کر 27 سالہ قیصر عباس نے انہیں بچانے کی کوشش کی اور بغیر کسی تاخیر کے ڈیم میں چھلانگ لگا دی۔ تاہم انہیں تیراکی نہیں آتی تھی، جس کے باعث وہ بھی گہرے پانی میں پھنس گئے اور دونوں نوجوان ڈوب گئے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کافی کوششوں کے بعد دونوں نوجوانوں کی لاشیں پانی سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دی گئیں، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
    ‎حادثے کی خبر سنتے ہی اہل خانہ اور عزیز و اقارب اسپتال پہنچ گئے، جہاں کہرام مچ گیا۔ علاقے کے رہائشیوں نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ پاؤں پھسلنے اور تیراکی نہ جاننے کے باعث پیش آیا۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی مزید جانچ شروع کر دی ہے جبکہ شہریوں کو گہرے پانی کے ذخائر کے قریب انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • 
آئرلینڈ نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کر دیا

    
آئرلینڈ نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کر دیا

    آئرلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 2-0 سے شکست دے کر تاریخی کامیابی اپنے نام کر لی۔ میزبان ٹیم نے دوسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو صرف ایک رن سے شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش مکمل کیا۔
    ‎155 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز ہی بنا سکی اور فتح سے محض ایک رن دور رہ گئی۔ بھارت کی جانب سے تلک ورما نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی، جبکہ ہرشت رانا نے بھی 20 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی دلانے کی کوشش کی، تاہم وہ ٹیم کو ہدف تک نہ پہنچا سکے۔
    ‎آئرلینڈ کی جانب سے میٹ ہولارڈ اور جے مونڈرا نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین، تین وکٹیں حاصل کیں اور بھارتی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔ دونوں باؤلرز کی مؤثر کارکردگی نے میچ کا پانسہ میزبان ٹیم کے حق میں پلٹ دیا۔
    ‎اس سے قبل آئرلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔ ہیری ٹیکٹر نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے 53 رنز اسکور کیے، جبکہ بین کالیٹز نے 37 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کا مجموعہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
    ‎بھارتی ٹیم آخری اوور تک مقابلے میں موجود رہی، لیکن آئرلینڈ کے باؤلرز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔ اس فتح کے ساتھ آئرلینڈ نے پہلی بار بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کرتے ہوئے ایک یادگار سنگ میل عبور کیا۔
    ‎یہ کامیابی آئرش کرکٹ کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دی جا رہی ہے، جبکہ بھارتی ٹیم کو غیر ملکی سرزمین پر ایک اور مایوس کن سیریز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

  • ‎فیصل آباد: پولیس مقابلے میں مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک

    ‎فیصل آباد: پولیس مقابلے میں مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک

    ‎فیصل آباد میں گلبرگ تھانے کی حدود میں پولیس مقابلے کے دوران مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم چند روز قبل پیش آنے والے ہوائی فائرنگ کے ایک واقعے میں مطلوب تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی تھی، اسی دوران مبینہ طور پر مقابلہ ہوا جس میں غلام محی الدین ہلاک ہو گیا۔ کارروائی کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
    ‎حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہے، جہاں پوسٹ مارٹم سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ غلام محی الدین کے خلاف عوامی مقام پر فائرنگ اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے تھے۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ پولیس مقابلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اگر اس مقدمے میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • 
ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات حالیہ کشیدگی کے باعث معطل

    
ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات حالیہ کشیدگی کے باعث معطل

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ تکنیکی مذاکرات حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث معطل کر دیے گئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، تاہم تازہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مؤخر کر دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اعتماد سازی اور مختلف تکنیکی امور پر پیش رفت کے لیے شیڈول کیے گئے تھے۔ ان ملاقاتوں میں متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔
    ‎ذرائع کے مطابق حالیہ فوجی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد سفارتی ماحول متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا انعقاد ممکن نہ رہ سکا۔ اگرچہ مذاکرات کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری آنے کے بعد نئی تاریخ طے کی جا سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران اور امریکا ایک دوسرے پر حالیہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق تکنیکی مذاکرات کی معطلی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو عارضی دھچکا پہنچ سکتا ہے، تاہم عالمی برادری اب بھی دونوں ممالک پر مذاکرات کی بحالی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے زور دے رہی ہے۔

  • 
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    ‎ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عدلیہ صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی، قانونی آزادیوں، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور قومی مفادات کے دفاع کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق اگر عدالتی ادارے ان ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دیں تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر نے میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز، عوامی خدمات کی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات، جن میں ان کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا گیا، ایران کے مؤقف کو قانونی طور پر مضبوط بنانے میں اہم شواہد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس نوعیت کی قانونی کارروائیاں نہ صرف متاثرین کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کریں گی۔
    ‎واضح رہے کہ یہ تمام بیانات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے الگ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

  • 
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بلوچستان میں امن و امان اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مولانا فضل الرحمان کو صوبائی حکومت کی جانب سے امن، استحکام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
    ‎میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی اور بدامنی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے تحت کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
    ‎ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی یکجہتی، امن اور ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔