اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواستوں پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ عدالت سب سے پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں، اس کے بعد ہی کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھے گی۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستیں قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا انہیں مسترد کیا جائے۔
دوسری جانب درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، اس لیے عدالت اس معاملے کا جائزہ لے اور متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کا پابند بنائے۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی کی قید سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
-

اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع
لاہور: سیشن کورٹ لاہور نے آن لائن جوا ایپ کی مبینہ تشہیر اور اس کی ترغیب دینے کے مقدمے میں معروف ٹک ٹاکرز اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر اقراء کنول اور اریب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ریلیف دیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے دونوں ٹک ٹاکرز کے خلاف مبینہ طور پر ایک آن لائن جوا ایپ کی تشہیر کرنے اور عوام کو اس کے استعمال کی ترغیب دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اقراء کنول اور اریب نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الگ الگ عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد انہیں عارضی ریلیف دیتے ہوئے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔
اب کیس کی آئندہ سماعت 7 جولائی کو ہوگی، جہاں عدالت مقدمے کے ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔ -

دوحا میں ایران امریکا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، فریقین کے متضاد مؤقف سامنے آگئے
دوحا: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے قطر پہنچنے والے ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی تکنیکی وفد کا قطر کا دورہ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی وفد کی آمد سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت سونپی ہے۔ تاہم خود صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دوحا میں ممکنہ ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس بارے میں جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق جون میں طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے جنگ بندی کو آگے بڑھانے، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل امن معاہدے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد پیش رفت سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو دوحا میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے، تاہم اس کا مرکز جوہری مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور بحری سلامتی کے معاملات ہوں گے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق امریکی اور ایرانی تکنیکی ٹیمیں بدھ کے روز قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کر سکتی ہیں۔
اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ امریکا نے ایران پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوحا میں مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ -

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی
مسقط: آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان کے قریب واقع اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حالیہ حملوں اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس بحری راستے پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق میرین انٹیلی جنس کمپنی کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز صرف 16 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ہفتے کے روز اس راستے سے 35 جہاز گزرے تھے۔ اس سے قبل جمعہ کو 44 تجارتی جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند ہی دنوں میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہازوں پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جبکہ بعض کمپنیاں متبادل بحری راستوں کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب قطر نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر بحری سفر اور سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جس سے خطے میں تجارتی نقل و حمل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں کو تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار فراہم کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحری آمدورفت میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

خیبرپختونخوا میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان، گلیشیئر پھٹنے کے خطرے پر الرٹ جاری
خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں رواں ہفتے گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے کے خطرات کے پیش نظر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بالائی اضلاع میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے مقامی آبادی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ تمام حساس اضلاع کی ضلعی انتظامیہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہے، جبکہ ریسکیو اور متعلقہ ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔
پی ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالائی علاقوں کا سفر شروع کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
حکام نے نشیبی علاقوں اور دریا، ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ -

اسپین امیگریشن کے لیے جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بنانے کا انکشاف
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسپین امیگریشن کے لیے مبینہ طور پر جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس (PCC) تیار کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک منظم گروہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے اور اسپین میں مقیم پاکستانی شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہا ہے۔
دعوے کے مطابق یہ مبینہ جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس نیشنل پولیس بیورو (NPB) کے نام پر تیار کیے جاتے ہیں۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان دستاویزات پر بعد ازاں وزارت خارجہ سے اپوسٹیل (Apostille) بھی کروایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں اسپین میں امیگریشن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لالہ موسیٰ کے رہائشی محمد سجاد نے اسپین امیگریشن کے لیے جاری کیے گئے ایک پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیے نیشنل پولیس بیورو کے ایک سینئر افسر سے رابطہ کیا۔ مبینہ طور پر افسر نے بتایا کہ متعلقہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے اب تک جاری ہونے والے اصل سرٹیفکیٹس کا آخری سیریل نمبر 161855 ہے، جبکہ پیش کیے گئے سرٹیفکیٹ کا سیریل نمبر 162938 درج تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ جعلسازی سے متعلق اعلیٰ حکومتی حکام کو تاحال آگاہی نہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امیگریشن نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ -

کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ
کراچی: شہر میں ٹماٹر کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک کلو ٹماٹر 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں رسد کم ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
سابق نائب صدر کراچی چیمبر یونس سومرو کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کی نئی فصل کی پنیری تیار ہو چکی ہے اور جولائی کے دوران اس کی کاشت کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے باعث 10 سے 20 فیصد پودوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم کاشتکار ہر سال یہ خطرہ مول لیتے ہیں تاکہ فصل کی پیداوار جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی فصل نومبر تک مختلف مراحل میں لگائی جاتی ہے جبکہ اس کی پیداوار اپریل تک جاری رہتی ہے۔ عام طور پر مئی اور جون میں قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، لیکن جولائی کے ابتدائی دنوں میں پرانی فصل ختم ہونے اور نئی فصل مارکیٹ میں نہ آنے کے باعث عارضی قلت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
یونس سومرو کے مطابق مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا موسم جدید اور کنٹرول ماحول میں سال بھر ٹماٹر کی پیداوار کے لیے موزوں ہے، تاہم اس کے لیے سرمایہ کاری اور جدید زرعی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر اور سندھ حکومت کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ جدید زرعی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو نجی شعبہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں پر کام کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف سستے قرضوں کے بجائے شراکت داری پر مبنی جدید زرعی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جہاں منافع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو۔ ان کے مطابق خوراک کی قلت کے خدشات سے نمٹنے کا واحد مؤثر حل زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔ -

جنگ کے بعد تہران سے دبئی پہلی کمرشل پرواز پہنچ گئی
تہران: ایران کے دارالحکومت تہران سے روانہ ہونے والی ایک کمرشل پرواز کامیابی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی پہنچ گئی۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کی بحالی کے حوالے سے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سیفران ایئرلائن کی پرواز نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً دو بجے لینڈ کیا۔
یہ پرواز فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد تہران سے متحدہ عرب امارات پہنچنے والی پہلی کمرشل پرواز ہے۔
فضائی رابطوں کی بحالی کو خطے میں سفری سرگرمیوں کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مسافروں اور ایئرلائن انڈسٹری کے لیے بھی اسے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ -

چین نے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا
چین نے جاپان کے ساتھ جاری تجارتی اور سفارتی کشیدگی کے دوران 20 جاپانی تنظیموں اور کمپنیوں کو اپنی برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایسے سامان کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے مزید 20 جاپانی اداروں کو واچ لسٹ میں بھی شامل کیا ہے۔ واچ لسٹ میں شامل کمپنیوں کو چین سے حساس اشیاء درآمد کرنے سے قبل اضافی جانچ پڑتال اور متعلقہ ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ، برآمدی کنٹرول کے مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے کیے گئے ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد عام تجارتی تعلقات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ حساس ٹیکنالوجی اور اشیاء کی منتقلی کو منظم بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال جاپانی وزیراعظم کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ جاپانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو ٹوکیو فوجی ردعمل پر غور کر سکتا ہے، جس پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
خبر ایجنسی کے مطابق چین اس سے قبل بھی فروری میں درجنوں جاپانی کمپنیوں پر اسی نوعیت کی برآمدی پابندیاں عائد کر چکا ہے، جبکہ حالیہ اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تزویراتی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ -

کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار
کہوٹہ کے علاقے چکیان پوسٹ کے قریب پولیس وین سے 14 قیدی فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ باقی قیدیوں کی تلاش کے لیے وسیع سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی تاکہ فرار ہونے والے قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جبکہ چکیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن کی خود نگرانی شروع کر دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔