بھارت کی ریاست تلنگانہ میں 23 سالہ حاملہ خاتون کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق متوفیہ سشمیتا نے مبینہ طور پر شوہر اور ساس کی جانب سے مسلسل ذہنی اور جسمانی ہراسانی کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق متوفیہ کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ سشمیتا کے شوہر کو پیدا ہونے والے بچے کی نسبت پر شبہ تھا اور اس نے اہلِ خانہ کے سامنے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ والدہ نے الزام عائد کیا کہ اس رویے نے ان کی بیٹی کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔
متوفیہ کی والدہ نے ساس پر بھی بیٹی کے ساتھ بدسلوکی اور مسلسل ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں دونوں فریقین کے درمیان صلح صفائی بھی ہوئی تھی، تاہم اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا۔
اہلِ خانہ کے مطابق صلح کے صرف دو روز بعد سشمیتا اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد سشمیتا کے شوہر اور ساس کو گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ شوہر اور دیگر سسرالی رشتے داروں کے خلاف ظلم، ذہنی و جسمانی ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ الزامات کی حقیقت کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور مکمل تفتیش کے بعد ہوگا۔
تلنگانہ میں حاملہ خاتون کی خودکشی، شوہر اور ساس گرفتار
