Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
پی آئی اے کی ملکیت عارف حبیب کنسورشیم کو منتقل، نجکاری کا عمل مکمل

    
پی آئی اے کی ملکیت عارف حبیب کنسورشیم کو منتقل، نجکاری کا عمل مکمل

    ‎اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قومی فضائی کمپنی کی ملکیت باضابطہ طور پر نجی شعبے کو منتقل کر دی گئی ہے۔ پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ، جو عارف حبیب کنسورشیم کی قائم کردہ اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) ہے، نے تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کی ملکیت اور انتظام سنبھال لیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق یہ منتقلی شفاف، جامع اور مسابقتی نجکاری کے عمل کے تحت مکمل کی گئی، جس کا مقصد قومی فضائی کمپنی کو مالی طور پر مستحکم بنانا، جدید خطوط پر استوار کرنا اور عالمی سطح پر اس کا وقار بحال کرنا ہے۔ اس عمل کے دوران تمام ملکی و بین الاقوامی ریگولیٹری تقاضے، عالمی قرض دہندگان کی رضامندی اور ٹیکس سے متعلق ضروری معاملات بھی مکمل کیے گئے۔
    ‎پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نے 180 ارب روپے کی مالیت کے معاہدے کے تحت ایئرلائن کی ملکیت حاصل کی۔ اس کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، دی سٹی اسکول (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز شامل ہیں۔
    ‎معاہدے کے تحت 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو نجکاری کی مد میں حاصل ہوں گے، جبکہ 125 ارب روپے نئی ایکویٹی کی صورت میں براہِ راست پی آئی اے میں سرمایہ کاری کیے جائیں گے۔ یہ سرمایہ بیڑے کی جدید کاری، نئے بین الاقوامی اور مقامی روٹس کے آغاز، ڈیجیٹل نظام کی بہتری، آپریشنل اصلاحات اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔
    ‎نئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے تیز رفتار اور مؤثر فیصلہ سازی کے ذریعے پی آئی اے کو دوبارہ ایک عالمی معیار کی ایئرلائن بنانے کے لیے کام کرے گی۔
    ‎اس موقع پر نئی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ قوم کا اعتماد صرف ملکیت کی منتقلی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ بہترین خدمات، اعتماد اور مسلسل کارکردگی سے جیتا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے شاندار ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید اور عالمی معیار کی پریمیم ایئرلائن بنایا جائے گا تاکہ مسافروں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے۔

  • 
اتحاد اور امن ہی پاکستان کی طاقت ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    
اتحاد اور امن ہی پاکستان کی طاقت ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    ‎راولپنڈی: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان کا بنیادی مقصد بھی معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے کو فروغ دینا ہے۔
    ‎ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پوری قوم آج ایک صفحے پر متحد ہے اور یہی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امت مسلمہ کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن مختلف سازشوں کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کراچی میں سندھ رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کو ناکام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    ‎حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا مؤثر راستہ ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی نے دنیا بھر میں ملک کا وقار بلند کیا اور پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوا۔
    ‎اپنے خطاب میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • 
آج رات ’’اسٹرابیری مون‘‘ آسمان پر جلوہ گر

    
آج رات ’’اسٹرابیری مون‘‘ آسمان پر جلوہ گر

    ‎آج رات موسم گرما کا پہلا مکمل چاند، جسے اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے، آسمان پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آئے گا۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق یہ چاند 29 جون کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 57 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا، جبکہ 30 جون تک بھی یہ تقریباً مکمل چاند کی صورت میں دیکھا جا سکے گا۔
    ‎اس سال کا اسٹرابیری مون ایک مائیکرو مون بھی ہوگا، یعنی اس وقت چاند زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوگا۔ اسی وجہ سے یہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں کچھ چھوٹا اور قدرے مدھم دکھائی دے سکتا ہے، تاہم اس کا نظارہ پھر بھی دلکش ہوگا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس خوبصورت فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص دوربین یا جدید آلات کی ضرورت نہیں۔ اگر موسم صاف ہو تو چاند کو عام آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے، البتہ دوربین یا چھوٹی ٹیلی اسکوپ استعمال کرنے سے چاند کی سطح کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔
    ‎بہترین نظارے کے لیے شہری علاقوں کی تیز روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب کرنے اور پہلے سے مقامی موسمی صورتحال کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ بادل چاند کے دیدار میں رکاوٹ نہ بنیں۔
    ‎اگرچہ اس کا نام اسٹرابیری مون ہے، لیکن یہ چاند سرخ یا گلابی رنگ کا نہیں ہوگا بلکہ عام مکمل چاند کی طرح ہی دکھائی دے گا۔ اس نام کا تعلق شمالی امریکا کے مقامی قبائل، خصوصاً الگونکوئن قبائل، سے ہے جو سال کے مختلف موسموں کی نشاندہی کے لیے مکمل چاندوں کو الگ الگ نام دیتے تھے۔
    ‎ناسا کے مطابق اس چاند کو اسٹرابیری مون اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس موسم میں نمودار ہوتا ہے جب اسٹرابیری سمیت مختلف بیریاں پکنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ اس کا تعلق صرف موسم اور فصلوں کے وقت سے ہے، نہ کہ چاند کے رنگ سے۔

  • 
مالی سال 2025-26 میں عوام نے ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول اور ڈیزل خریدا

    
مالی سال 2025-26 میں عوام نے ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول اور ڈیزل خریدا

    ‎اسلام آباد: مالی سال 2025-26 عوام کے لیے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی مہنگا ثابت ہوا، جہاں شہریوں کو ملکی تاریخ کا سب سے مہنگا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل خریدنا پڑا۔ اس دوران صارفین نے پٹرولیم لیوی کی مد میں بھی ریکارڈ مالی بوجھ برداشت کیا۔
    ‎دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 257 روپے 76 پیسے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 199 روپے 98 پیسے تک بڑھ گئی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں تبدیلی اور حکومتی ٹیکسوں و پٹرولیم لیوی کے باعث صارفین کو ایندھن کی ریکارڈ قیمتیں ادا کرنا پڑیں۔ اس عرصے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار ردوبدل کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر مالی سال عوام کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور مالیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن ترقیاتی اور مالیاتی اہداف کے حصول میں استعمال کی جاتی ہے۔
    ‎مالی سال 2025-26 کے اختتام پر جاری اعداد و شمار نے ایک بار پھر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے عوامی زندگی پر پڑنے والے معاشی اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔

  • 
جنوبی ایشیا میں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں بھارت پہلے، پاکستان دوسرے نمبر پر

    
جنوبی ایشیا میں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں بھارت پہلے، پاکستان دوسرے نمبر پر

    ‎اسلام آباد: جنوبی ایشیا میں بیرونی قرضوں کے حوالے سے جاری ہونے والی 2026 کی رپورٹ کے مطابق بھارت خطے میں سب سے زیادہ بیرونی قرض رکھنے والا ملک ہے، جبکہ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق بھارت پر مجموعی بیرونی قرض 765 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 535 ڈالر کا بیرونی قرض ہے۔
    ‎پاکستان بیرونی قرضوں کے اعتبار سے خطے میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرض 138 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر پاکستانی شہری پر اوسطاً 530 ڈالر کا بیرونی قرض بنتا ہے۔
    ‎بنگلہ دیش اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے، جس کا مجموعی بیرونی قرض 102 ارب ڈالر ہے، جبکہ فی شہری قرض 590 ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سری لنکا چوتھے نمبر پر موجود ہے، جہاں بیرونی قرض 57 ارب ڈالر ہے، تاہم آبادی نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے فی شہری قرض 2 ہزار 590 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق نیپال پانچویں نمبر پر ہے، جس پر 11 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے اور فی شہری قرض 370 ڈالر بنتا ہے۔ بھوٹان کا مجموعی بیرونی قرض 3.5 ارب ڈالر ہے، لیکن کم آبادی کے باعث فی شہری قرض 4 ہزار 400 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
    ‎مالدیپ میں اگرچہ مجموعی بیرونی قرض 4 ارب ڈالر ہے، تاہم آبادی کم ہونے کی وجہ سے ہر شہری پر اوسطاً 7 ہزار 500 ڈالر کا قرض ہے، جو خطے میں فی کس قرض کی بلند ترین شرح ہے۔
    ‎رپورٹ میں افغانستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرض 2.5 ارب ڈالر ہے اور فی شہری بیرونی قرض 60 ڈالر بتایا گیا ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم شرح ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی قرض کا حجم کسی ملک کی معیشت کا مکمل پیمانہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت، مجموعی قومی پیداوار، برآمدات اور آبادی جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

  • 
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 2300 روپے فی تولہ کمی

    
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 2300 روپے فی تولہ کمی

    ‎ملک بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 300 روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 28 ہزار 936 روپے مقرر ہو گئی ہے۔
    ‎ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1 ہزار 972 روپے کی کمی آئی ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 3 لاکھ 67 ہزار 743 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی بازار میں فی اونس سونے کی قیمت 23 ڈالر کم ہونے کے بعد 4 ہزار 65 ڈالر پر آ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر، عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رجحانات سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    ‎تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں مزید ردوبدل دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

  • 
جرمنی میں فائرنگ، 5 افراد ہلاک، 2 مشتبہ افراد گرفتار

    
جرمنی میں فائرنگ، 5 افراد ہلاک، 2 مشتبہ افراد گرفتار

    ‎جرمنی کے شمالی شہر اسٹیڈ (Stade) میں ایک نوجوانوں کے مرکز پر فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ ایک یوتھ فیسلٹی میں ہوا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎جرمن پولیس نے بتایا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور عوام کے لیے کسی مزید خطرے کی اطلاع نہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ متاثرہ مقام کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد فائرنگ کی وجوہات اور دیگر حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • 
وینزویلا میں ایک اور زلزلے کا جھٹکا، زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1,500

    
وینزویلا میں ایک اور زلزلے کا جھٹکا، زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1,500

    ‎وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے قریب ایک اور زلزلے کا جھٹکا محسوس کیا گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
    ‎امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز کاراکاس کے شمال میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکوں سے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی افراد احتیاطاً گھروں سے باہر نکل آئے۔
    ‎یہ آفٹر شاک ایسے وقت میں آیا جب امدادی ٹیمیں گزشتہ ہفتے آنے والے دو تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل چوتھے روز بھی امدادی اور سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1,500 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور متعدد علاقے شدید تباہی کا شکار ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں کے مکین احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • 
وینزویلا میں ملبے تلے دبے 21 سالہ نوجوان کو زندہ نکال لیا گیا

    
وینزویلا میں ملبے تلے دبے 21 سالہ نوجوان کو زندہ نکال لیا گیا

    ‎وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملبے تلے دبے 21 سالہ نوجوان کو کئی روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔
    ‎ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے 21 سالہ آرون لیوی کانٹیلو وارگاس کو کامیاب کارروائی کے بعد ملبے سے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان کے مطابق نوجوان زندہ ہے اور اسے فوری طور پر خصوصی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎صدر نایب بوکیلے نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن کو "معجزہ” قرار دیتے ہوئے امدادی کارکنوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتھک کوششوں کو سراہا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس ریسکیو آپریشن میں ایل سلواڈور، میکسیکو اور وینزویلا کی امدادی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد نوجوان کو ملبے سے محفوظ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
    ‎یہ ریسکیو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چوتھے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امدادی کارکن اب بھی ملبے تلے دبے ممکنہ متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان اور طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

  • 
ایران اور امریکا کے دوحا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، ایران نے کل مذاکرات کی تردید کر دی

    
ایران اور امریکا کے دوحا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، ایران نے کل مذاکرات کی تردید کر دی

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
    ‎کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اسی وقت منعقد ہوگا جب دونوں فریق حالات کو سازگار سمجھیں گے اور تاریخ و مقام پر باہمی اتفاق رائے ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کسی مخصوص تاریخ کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی مذاکرات کے انعقاد کے حوالے سے قطر کے ساتھ معمول کے مطابق مشاورت جاری ہے، تاہم دوحا میں کل مذاکرات ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
    ‎اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس اور بعض عرب میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکا کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات پیر کے روز دوحا میں ہونے والے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کے تازہ بیان کے بعد ان رپورٹس پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے سفارتی عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کی ٹائم لائن غیر واضح ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مستقبل میں مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔