اسلام آباد: پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث ملک بھر میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 10 سے 15 روپے فی کلوگرام تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بجٹ تجاویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں "تھرڈ شیڈول” کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب سیلز ٹیکس کی وصولی "زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت” (Maximum Retail Price) کی بنیاد پر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام سے گھی اور خوردنی تیل کی صنعت پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ ان کے مطابق مینوفیکچررز کے لیے اس اضافی لاگت کو خود برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ کر کے یہ بوجھ صارفین تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ گھی اور آئل انڈسٹری پہلے ہی بھاری ٹیکسوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بجٹ سے قبل حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ خوردنی تیل اور گھی پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، تاہم بجٹ میں اس کے برعکس ٹیکس نظام کو مزید سخت کر دیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق نئے ٹیکس ڈھانچے سے سیلز ٹیکس کے حساب اور وصولی کا پورا طریقہ کار تبدیل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور روزمرہ استعمال کی ان اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
پی وی ایم اے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور گھی و کوکنگ آئل کی صنعت کو مناسب ریلیف فراہم کرے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور عوام پر مزید مالی بوجھ نہ پڑے۔
بجٹ کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان: گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں بڑے اضافے کا امکان
