جنوب مغربی یورپ میں پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ نے فرانس اور اسپین کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں کی یہ بدترین آتش زدگی ہے، جبکہ ماہرین اسے غیر معمولی گرمی کی لہر اور خشک موسم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بدترین جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز، ہیلی کاپٹرز اور خصوصی آلات تعینات کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک میں تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اسپین میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے نظام EFFIS کے اعداد و شمار کے مطابق 22 جولائی تک ایک لاکھ 19 ہزار ہیکٹر سے زائد اراضی جل چکی تھی، جبکہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے مطابق مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ متاثر ہو چکا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران یورپ بھر میں 22 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آیا، جو 2022 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر معمولی درجہ حرارت، خشک سالی اور تیز ہوائیں آگ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔
فرانس میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اسپین میں 75 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نکالا گیا اور تقریباً 30 ہزار افراد کو گھروں میں ہی محفوظ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں 10 جولائی کو لگنے والی تیز رفتار آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بعد ازاں آگ سینکڑوں کلومیٹر دور دارالحکومت میڈرڈ کے اطراف تک پھیل گئی، جہاں مزید 10 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ 24 جولائی کو اسپین کی حکومت نے دو بڑی آگ پر قابو نہ پانے کے باعث قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔
حکام نے شہریوں سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے، حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور ہنگامی امدادی اداروں سے تعاون کی اپیل کی ہے، جبکہ یورپی ممالک جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فرانس اور اسپین میں خوفناک جنگلاتی آگ، تین لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور
