Baaghi TV


گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

election vote

‎گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی نتائج سے مختلف حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
‎جی بی 4 نگر ون کے وٹرنری اسپتال چھلت پائین پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر 76 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 70 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد تیسرے نمبر پر رہے۔
‎اسی طرح جی بی 5 نگر ٹو کے بوائز ہائی اسکول ہوپر نگر پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 45 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 34 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
‎تاہم اسی حلقے کے ایک خواتین پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 88 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جس سے حلقے میں سخت مقابلے کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
‎دوسری جانب جی بی 2 گلگت ٹو کے ابتدائی سات پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان 858 ووٹ حاصل کرکے نمایاں برتری لیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 383 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان 83 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔
‎واضح رہے کہ انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
‎اس انتخابی معرکے میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔

More posts