پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، آئینی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے میں حکومتی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
قیادت نے بتایا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22(4) کے تحت بروقت انتخابات کا انعقاد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دباؤ کی سیاست اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا تیسرا اہم اجلاس تھا، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی امور، سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس
