انسانی تاریخ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ وہ قومیں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتیں جو اتحاد نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں "بنیان مرصوص” کی مثال دے کر مومنوں کو ایک ایسی جماعت قرار دیا گیا ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط مربوط اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ محض ایک خوبصورت تشبیہ نہیں بلکہ ایک ایسا عملی پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ انفرادی کمزوریاں اجتماعی طاقت میں ڈھل سکتی ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔
آج کا دور بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی انتشار نفرت اور تقسیم بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تصور ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو کوئی رکاوٹ ہمیں ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔
ایک مضبوط عمارت ہمیشہ مضبوط اینٹوں اور ان کے باہمی ربط سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی کمزور ہو یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری عمارت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی اصول ایک قوم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ قوم افراد سے بنتی ہے۔ اور ہر فرد اس کی بنیاد کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے دیانت داری محنت اور اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم خود غرضی حسد اور نفرت کو فروغ دیں تو ہم اپنی ہی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ مختلف قسم کی تقسیم کا شکار ہے۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی علاقے کے نام پر، اور کبھی مسلک کے نام پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ اختلافات ہمیں کمزور کرتے ہیں اور ہماری اجتماعی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے فطری ہے۔ مگر اس اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اگر ہم برداشت رواداری اور احترام کو اپنا لیں تو یہی اختلاف ہماری طاقت بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل اس تبدیلی کی سب سے بڑی امید ہے۔ نوجوانوں کے پاس توانائی جذبہ اور نئے خیالات ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں اور اتحاد و یگانگت کا پیغام عام کریں تو معاشرہ ایک نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ آج سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک نوجوان کا ایک مثبت پیغام ہزاروں لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو نفرت پھیلانے کے بجائے محبت امن اور اتحاد کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔
تعلیم بھی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طلبہ کو صرف نصابی علم ہی نہ دے بلکہ انہیں اخلاقیات برداشت اور اجتماعی سوچ بھی سکھائے۔ وہی ایک حقیقی بنیان مرصوص تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف ذاتی ترقی میں نہیں بلکہ اجتماعی بہتری میں بھی ہے۔ جب ایک فرد کامیاب ہوتا ہے تو اس کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔ مگر جب پوری قوم ترقی کرتی ہے تو اس کا اثر ہر فرد تک پہنچتا ہے۔
ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ہم متحد ہوئے تو ہم نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ تحریکِ آزادی کے دوران مختلف زبانوں ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔ ان کا اتحاد ہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اگر ہم آج بھی اسی جذبے کو زندہ کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔
"ہم بنیان مرصوص ہیں” کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی انفرادیت کھو دیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی مختلف شناختوں کے باوجود ایک مضبوط رشتہ قائم کریں۔ جیسے ایک خوبصورت باغ میں مختلف رنگوں کے پھول اپنی اپنی خوشبو کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ مگر سب مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہماری مختلف ثقافتیں اور روایات بھی ہماری طاقت بن سکتی ہیں۔ اگر ہم انہیں قبول کریں اور ان کا احترام کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک مضبوط متحد اور کامیاب قوم بننے کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ جب ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں گے اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے۔ تبھی ہم حقیقی معنوں میں "بنیان مرصوص” بن سکیں گے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم نفرت کے اندھیروں کو محبت کی روشنی سے بدلیں گے۔ تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔ اور ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھیں گے جو واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی استحکام اور عزت کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
