Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

تمہید: ازل کی پکار اور الٰہی انتخاب
کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بکھر جانا فنا ہے اور جڑ جانا زندگی ہے۔ خالقِ کائنات نے جب شعورِ انسانی کی بنیاد رکھی، تو اسے ‘ اجتماعیت ‘ کے نور سے منور کیا۔ ” بنیانِ مرصوص ۔یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں مادہ فنا ہو جاتا ہے اور مقصد زندہ رہتا ہے۔ یہ وہ آہنی دیوار ہے جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب حق و باطل کا معرکہ برپا ہو، جب طوفانِ بلا خیز صفوں کو درہم برہم کرنے نکلے، اور جب دشمن کی نگاہیں دراڑوں کی تلاش میں ہوں، تب قدرت پکار کر کہتی ہے:

بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہیں۔(سورۃ الصف: 4)

لغوی و اصطلاحی تشریح
لفظ بنیان بنا سے نکلا ہے جس کے معنی عمارت کے ہیں، اور مرصوص کا مادہ ‘ رصص ہے، جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی چیز یا ایسی چیز جسے جوڑ کر ایک جان کر دیا گیا ہو۔ عربی زبان میں اس اصطلاح کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی دیوار کی اینٹوں کے درمیان پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا جائے تاکہ وہ ایک ٹھوس چٹان بن جائے۔ یہ اصطلاح ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کا دوسرے مومن کے ساتھ تعلق محض سماجی نہیں بلکہ ساختاری (Structural) ہے۔ جس طرح ایک بلند و بالا عمارت اپنی مضبوطی کے لیے ہر ہر اینٹ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بھی ہر فرد کے اخلاص اور ایثار سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی اینٹ اپنی جگہ سے ہٹی یا اس نے کمزوری دکھائی، تو پوری دیوار کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

تاریخی تناظر: جب دیواریں سربلند تھیں
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے خود کو "بنیانِ مرصوص” کے سانچے میں ڈھالا، تو وقت کے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے۔ مواخاتِ مدینہ کی صورت میں جو دیوار کھڑی کی گئی، اس نے ثابت کر دیا کہ خون کے رشتوں سے زیادہ طاقتور ‘عقیدے کا رشتہ’ ہوتا ہے۔ وہ انصار اور مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اپنی انا، اپنی جائیداد اور اپنے قبیلے کی دیواریں گرا کر ایک ایسی آہنی فصیل تیار کی جس کے سائے میں اسلام کا پودا ایک تناور درخت بنا۔

غزوہ خندق ‘بنیانِ مرصوص’ کی ایک عظیم الشان عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ جب دس ہزار کا لشکرِ کفار مدینہ کے محاصرے کے لیے پہنچا، تو مسلمان تعداد میں کم اور وسائل میں پیچھے تھے، مگر ان کے درمیان جو فکری اور جسمانی اتحاد تھا، اس نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہما نے بھوک اور سردی کی شدت کے باوجود، خندق کھودتے وقت جس یگانگت کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مثال ہے۔ وہاں کوئی سردار تھا نہ کوئی غلام، بلکہ سب ایک ہی مقصد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ خود اس دیوار کی سب سے مضبوط اینٹ بن کر اپنے دستِ مبارک سے پتھر توڑ رہے تھے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ثابت کیا کہ جب ارادے جواں ہوں اور صفیں متحد ہوں، تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔

بقولِ حکیم الامت علامہ اقبال
> فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
> موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

موجودہ دور کا کرب اور فکری انتشار
آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معرکہِ حق و باطل اپنے عروج پر ہے۔ غزہ کی پکار ہو یا کشمیر کی سسکیاں، ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ "وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ ۔افسوس کہ ہم نے دیوار کی مضبوطی کے بجائے اینٹوں کے رنگ اور نسل پر بحث شروع کر دی۔ ہمیں کبھی قومیت کے نام پر بانٹا جاتا ہے، کبھی لسانی بنیادوں پر دست و گریبان کیا جاتا ہے اور کبھی فرقہ واریت کی آگ میں جھونکا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کو ہمارے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری صفوں میں بدگمانی کے بیج بوئے جائیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ صرف باہر سے نہیں پڑتی، بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس آہنی دیوار کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے رکھی تھی۔ دشمن اب براہِ راست حملوں کے بجائے ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ہم بنیانِ مرصوص کیوں ہیں؟
ہم بنیانِ مرصوص اس لیے ہیں کیونکہ ہمارا کلمہ ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہمارا غم ایک ہے۔ ہماری قوت کا سرچشمہ وہ ایمان ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو قوت بخشتا ہے۔

ہمیں آج پھر سے وہی عزم دہرانا ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی دراڑ نہیں ہوگی، ہماری آواز میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا، اور ہمارا عمل صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوگا۔ اقبال نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
> بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
> نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

عملِ پیہم اور انفرادی ذمہ داری
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ ‘بنیانِ مرصوص’ کیسے بن سکتے ہیں؟ اس کا آغاز کسی بڑے اجتماع سے نہیں بلکہ ہر فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر وہ ایماندار ہے، اگر وہ بااخلاق ہے، اور اگر وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو وہ دیوار مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مساجد اور اپنے گھروں میں نفرت کے بجائے محبت کا درس دینا ہوگا۔ ہمیں وہ سیمنٹ فراہم کرنا ہے جو دلوں کو جوڑ دے۔ جب تک ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری سماجیات قرآن کے اس اصول کے تابع نہیں ہوں گی، ہم محض ایک ہجوم رہیں گے، قوم نہیں بن سکیں گے۔

اختتام: فتح کا یقین اور عزمِ صمیم
"ہم بنیانِ مرصوص ہیں .یہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے اس باطل کے خلاف جو ہماری صفوں میں انتشار دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ عہد ہے اس ظلم کے خلاف جو ہمیں تنہا پا کر کچلنا چاہتا ہے۔ معرکہِ حق میں وہی سرخرو ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔

آئیے! آج ہم عہد کریں کہ ہم وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں گے جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون پاش پاش ہو جائیں گے۔ ہم وہ فصیل بنیں گے جو انسانیت کی محافظ ہو، جو مظلوم کی پناہ گاہ ہو اور جو باطل کے لیے قہرِ الٰہی ہو۔ اگر ہم ایک ہو گئے، تو پھر زمین و آسمان کی کوئی طاقت ہمیں نیچا نہیں دکھا سکتی۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری جیت ہے، ہمارا پیار ہی ہمارا ہتھیار ہے، اور ہماری یگانگت ہی وہ بنیانِ مرصوص ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے۔

فتح ہمارا مقدر ہے، کیونکہ ہم حق پر ہیں، اور ہم متحد ہیں-
*ہم بنیانِ مرصوص تھے، ہم بنیانِ مرصوص ہیں، اور ان شاء اللہ، ہم بنیانِ مرصوص رہیں گے ۔

اللہ آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

More posts