Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مقیتہ وسیم

قرآنِ حکیم میں "بنیان مرصوص” ایک ایسی مضبوط، منظم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو کہا گیا ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوں کہ کوئی طاقت انہیں کمزور نہ کر سکے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ اجتماعی قوت، اتحاد، نظم، قربانی اور مشترکہ مقصد کا عظیم استعارہ ہے۔ جب افراد اپنی انا، مفاد اور اختلافات سے بلند ہو کر ایک نصب العین کے لیے یکجا ہوتے ہیں تو وہی قوم "بنیان مرصوص” بن جاتی ہے۔ آج کے منتشر دور میں یہ پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ انفرادی طاقت محدود ہوتی ہے مگر متحد قومیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔

ہماری زندگی کا ہر شعبہ ہمیں اتحاد کی اہمیت سکھاتا ہے۔ ایک گھر اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد محبت، احترام اور تعاون سے جڑے ہوں۔ ایک معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے شہری ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ایک قوم اس وقت ناقابلِ شکست بنتی ہے جب اس کے افراد ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اگر اینٹیں بکھری رہیں تو دیوار نہیں بنتی مگر جب یہی اینٹیں مضبوط ربط میں آ جائیں تو بڑے سے بڑا طوفان بھی انہیں گرا نہیں سکتا۔ یہی فلسفہ قوموں کی تعمیر کا بنیادی اصول ہے۔

اسلام نے بھی اجتماعیت، اخوت اور اتحاد کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نماز باجماعت سے لے کر حج کے عالمی اجتماع تک، ہر عبادت مسلمانوں کو وحدت کا درس دیتی ہے۔ صفوں میں کھڑے نمازی اس حقیقت کی عملی تصویر ہوتے ہیں کہ رنگ، نسل، زبان اور مقام سے بالاتر ہو کر سب ایک مقصد کے لیے متحد ہیں۔ یہی اتحاد مسلمانوں کی اصل قوت ہے۔ جب قومیں اپنے باہمی اختلافات میں الجھ جاتی ہیں تو ان کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے مگر جب وہ مشترکہ نصب العین کے تحت متحد ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ اجتماعی قوت سے حاصل ہوئیں۔ جنگیں ہوں، تحریکیں ہوں یا قوموں کی تعمیر، کامیابی انہی کو ملی جنہوں نے اتحاد کو اپنایا۔ قیامِ پاکستان بھی اسی "بنیان مرصوص” کی روشن مثال ہے، جہاں بے شمار قربانیوں، مشترکہ جدوجہد اور ایک واضح مقصد نے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن عطا کیا۔ اگر اس وقت مسلمان منتشر رہتے تو شاید تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ یہ سبق آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ قومی ترقی کا راز باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ دور میں فرقہ واریت، لسانیت، تعصب اور ذاتی مفاد نے اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ ہم نے اپنی صفوں میں ایسی دراڑیں پیدا کر لی ہیں جو ہماری قومی بنیادوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ بھلائی کے لیے سوچیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور معاشرتی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے تو ہم ایک بار پھر مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔

نوجوان نسل اس خواب کی تعبیر میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ نوجوان اگر علم، کردار، دیانت اور قومی شعور سے آراستہ ہوں تو وہ قوم کی منتشر اینٹوں کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے وحدت اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی نوجوان مثبت سوچ، تعمیری گفتگو اور قومی یکجہتی کے سفیر بن سکتے ہیں۔

"ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے، کمزوری نہیں۔ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد اور خود غرضی کے بجائے اجتماعی بھلائی کو فروغ دیں گے۔ جب ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہو اور دوسروں کے ساتھ جڑا ہو تو پوری قوم ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔

آج ہمیں اس پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط قومیں صرف وسائل سے نہیں بنتیں بلکہ مضبوط کردار، باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور سے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ترقی، استحکام اور عزت چاہتے ہیں تو ہمیں "بنیان مرصوص” بننا ہوگا۔ ایک ایسی مضبوط دیوار، جسے کوئی دشمن، کوئی بحران اور کوئی سازش کمزور نہ کر سکے۔

یقیناً، ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ایک ہوں، مضبوط ہوں اور اپنے مقصد میں ثابت قدم رہیں۔ کیونکہ جب قومیں "بنیان مرصوص” بن جاتی ہیں تو تاریخ انہیں ہمیشہ عزت، وقار اور کامیابی کے الفاظ میں یاد رکھتی ہے۔

یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ عملی بیداری کا ہے۔ ہمیں اپنے رویوں، ترجیحات اور قومی کردار کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا۔ ہر شہری اگر اپنے حصے کی شمع روشن کرے تو اجتماعی روشنی پورے وطن کو منور کر سکتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی عظمت ان کے اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ہم ایک مضبوط دیوار کی مانند جڑ جائیں گے تو نہ صرف اپنی بقا یقینی بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی استحکام، ترقی اور سربلندی کی نئی بنیاد رکھ سکیں گے۔

More posts