یہ قوم جب بھی اٹھی ہے حصار توڑ گئی
ہر ایک ضرب سے دشمن کا غرور توڑ گئی
قوموں کی زندگی میں کچھ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک نظریہ ایک پیغام اور ایک عہد ہوتا-ہے ایسا ہی جملہ "ہم بنیان المرصوص ہیں "جو چند الفاظ نہیں بلکہ ایک قوم کی وہ لازوال علامت ہے جو اتحاد استقامت باہمی اعتماد اور اجتماعی طاقت کے ساتھ ایک قوم کی مضبوطی کا اعلان کرتی ہے اس کی پہچان بنتی ہے "بنیان المرصوص "جس کے معنی سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں جس کی ہر اینٹ دوسری کے ساتھ اس طرح مضبوطی سے جڑی ہوتی اسے ہلانا ممکن نہ ہو یہی حقیقت انسانی معاشرے پر بھی صادق آتی ہے جب قوم متحد ہو جاتی ہے تو ہر مشکل کا مقابلہ کر کے ممکن کو ناممکن بنا دیتی ہے ایسا ہی ایک سال قبل ہوا جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا اور اس مشن کو سندور کا نام دیا جب جارحیت اشتعال انگیزی اور طاقت کے زعم میں یہ گمان کیا کہ پاکستان پر دباو ڈال کر مرعوب کیا جا سکتالیکن سلام ہے ہماری قوم ہماری افواج پاکستان خاص طور پر ہماری فضائیہ کے جوانوں کو جو ایسی دیوار کی مانند ہوئے جو فولاد کی ہی نہیں ایمان مہارت اور غیرت ملی سے بنی ہوئی تھی سلام ہے ہماری عسکری قیادت پرجنھوں نے دنیا پر واضح کر دیا کہ امن پسند ضرور ہیں مگر خود مختاری سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا نہ کرتے ہیں نہ کریں گے یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ایک جسم اور ایک آواز بن کر کھڑی ہو گئی یہ معرکہ عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں تھا یہ دشمن کے غرور تکبر اور عددی برتری کے زعم کے خلاف ایک واضح پیغام تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم ذہانت تربیت اور یقین سے جیتی جاتی ہیں اور اس قومی یکجہتی سے جس نے اس دن پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا کون سے اختلافات کیسے اختلافات سب پس پشت چلا گیا نظریاتی تقسیم مٹ گئی اور ایک ہی شناخت تھی "پاکستان ”
ہمارے شاہین جب دفاع وطن کے لئے حرکت میں آئے جدید ٹیکنالوجی بھی ان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی
"غرور دشمن کو جب للکار ملی
فضا کو شاہینوں کی للکار ملی”
یہ کامیابی پوری دنیا کے سامنے اعلان تھا پاکستان کو آزمانے والے ہر بار تاریخ کے ملبے تلے دفن ہوں گے کیونکہ یہاں کا دفاع ان ہاتھوں میں ہے جو عزم و وفا والے ہیں اپنی نیند راحت اور اپنی جان تک وطن پر قربان کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں
اور یہی وہ لمحہ تھا پوری دنیا نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کیا معرکہ حق اور بنیان المرصوص پاکستان کے عزم واتحاد دفاعی طاقت کی علامت بن چکے ہیں "ہم بنیان المرصوص ہیں ایک نظریہ حیات ہے جو ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا شعور دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں باہمی اختلافات کو بردباری اور حکمت سے حل کریں کیونکہ آج کے دور میں جب دنیا مختلف چیلنجز سازشوں انتشار اورفکری خلفشار کا شکار ہے "ہم بنیان المرصوص ہیں "پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا آج کل کے جوان اس تصور کے حقیقی علمبردار بن سکتے ہیں وہ اپنے کردار عمل اور علم کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے تعصب نفرت انتشار لسانی علاقائی سیاسی اور فرقہ وارانہ تقسیم ختم کر سکتے ہیں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ مثبت سوچ کو فروغ دے سکتے ہیں
ہم بنیان المرصوص ہیں ہمیں سبق دیتا ہے آزمائش کے سامنے ڈٹ جانا ہے یہ ایک ایسا پیغام جو ہمیں ہماری اصل طاقت کو احساس دلاتا ہے کہ قوت تعداد کی بجائے اتحاد میں ہے
ہم اس جذبے کو محض یادگار تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں کیونکہ جب تک ہم بحیثیت قوم بنیان المرصوص بن کر کھڑے ہیں کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی
دیوار وہی مضبوط ہے جو اتحاد سے ہو فولاد بھی جھک جاتا ہے جب قوم بیدار ہو
کیونکہ جب ہم متحد ہو جائیں تو ہم بنیان المرصوص ہوتے ہیں
سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
