Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: بابر امین ابر

” ریڈ فائل کہاں ہے؟ وہ فائل ہماری بقاء کا ثبوت ہے۔ اگر وہ دشمن کے ہاتھ لگ گئی تو ہمارا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔” آفیسر حیدر علی ایک کمرے میں بیٹھا اپنے ماتحتوں سے مخاطب تھا۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے میں مختلف مشینیں موجود تھیں۔ دیواروں پر نقشے ابھرے ہوئے تھے۔
” سر! آخر وہ فائل گئی کہاں اور اس میں ایسا کیا خاص ہے کہ وہ فائل ہماری بقاء سے مربوط ہے؟” ایک ماتحت ذیشان صفی نے پوچھا۔ باقی سب کے چہروں پر بھی حیرانی براجمان تھی۔
” میں تمھیں بتاتا ہوں کچھ دیر میں۔ پہلے میری ایک بات سن لو۔ مجھے شک ہے کہ ہم میں سے ہی کوئی غدار ہے۔ جو وطنِ عزیز کے قیمتی راز چوری کر کے دشمن کو پہنچا رہا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس کی بیخ کنی کرنی چاہیے۔” آفیسر حیدر علی نے کہا۔ سب اس کی بات سے متفق ہو گئے اور سر ہلاتے ہوئے اس کی تصدیق کرنے لگے۔

” جب تک اس ارضِ پاک کے شیر دلیر زندہ ہیں۔ کوئی بھی اس ملک کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ وہ غدار سائے جو ملک کی سالمیت داؤ پر لگا رہے تھے، ان کی بیخ کنی کی جا چکی ہے۔” ایک آواز کمرے میں گونجی تو سب چونک اٹھے۔ وہ ایک سیکرٹ میٹنگ روم میں موجود تھے۔ یہاں ایسے حفاظتی انتظامات کے باوجود یوں اجنبی آواز گونجنا بہت بڑے معنیٰ رکھتا تھا۔ ایک چہرہ اور دو آنکھیں خوف سے لبریز اس آواز کو پہچان چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میٹنگ روم کا کمرہ اچانک کھلا اور ایک سنہری نقاب اوڑھے ایک لمبا تڑنگا آدمی اندر داخل ہوا۔ اس نے چست پتلون اور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے سر پر فلیٹ ہیٹ تھا۔ سب اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ اس کے سینے پر ایک بیج جگمگا رہا تھا۔ جس پر گولڈن ایگل لکھا ہوا تھا۔
” تم کون ہو اور ایسے سخت ترین حفاظتی اقدامات کے باوجود تم یہاں اندر کیسے آ گئے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
” یہی تھی ناں وہ ریڈ فائل جس کے بارے میں تم اتاولے ہو رہے تھے؟” سنہری نقاب پوش نے جواب دینے کی بجائے کہا۔ ریڈ فائل دیکھ کر آفیسر حیدر علی کی آنکھوں میں شدید حیرت عود کر آئی۔

” میں تم سب کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ ایک جانباز اور محبِ وطن آفیسر تھا، جس کی بہادری کی مثالیں ہمارے کورس میں بطور نصاب شامل تھیں۔ پھر وہ محبِ وطن چند کاغذی ٹکڑوں کے عوض اپنی ماں یعنی مملکت کا سودا کر بیٹھا اور اس نے ملک کی سب سے قیمتی فائل جسے ریڈ فائل کہا جاتا ہے، کو دشمن کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن وہ ایک بات بھول گیا کہ ملکِ عزیز بنیان مرصوص کے حصار میں پوشیدہ ہے اور اس بنیان مرصوص میں دراڑیں کوئی مائی کا لال نہیں ڈال سکتا۔” سنہری نقاب پوش کی آواز میں بادلوں کی سی گھن گرج تھی۔ دو آنکھیں اور ایک چہرہ اب بھی خوف اپنے روم روم میں سموئے ہوئے تھا۔

” لیکن تم آخر ہو کون اور وہ غدار کون ہے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
” میں ملکِ عزیز کی بنیان مرصوص کی ایک پوشیدہ اینٹ گولڈن ایگل ہوں۔ جسے کچھ عرصہ پہلے دشمن اپنے تئیں مٹا چکے تھے۔” سنہری نقاب پوش نے کہا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ اسے دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
” تم؟” آفیسر حیدر علی کے منھ سے نکلا۔ باقی سب کے منھ بھی کھلے کے کھلے تھے۔ اب ان کے سامنے دو دو آفیسر حیدر علی موجود تھے۔ پھر اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھ پاتا، سنہری نقاب پوش نے بجلی کی سی تیزی پسٹل نکال کر آفیسر حیدر علی اور اس کے ماتحت ذیشان صفی کو گولیوں کی نظر کر دیا۔

” یہ دونوں میک اپ کے ماہر دشمن ملک کے ایجنٹ تھے۔ انھوں نے مجھے اغواء کر کے اپنے تئیں مار ڈالا تھا۔ یہ ریڈ فائل لے اڑے تھے۔ لیکن خدا کو میری زندگی ابھی منظور تھی۔ میں بچ گیا۔ پھر یہ فائل دشمن ملک کے افسران کے ہتھے چڑھنے سے پہلے پہلے میں واپس نکال لایا۔ وہاں ان کے ہی اڈوں کی تفصیل والی فائل رکھ آیا۔ یہ دوہری گیم چلنے کے چکر میں تھے۔ انھوں نے ہمارے محافظوں کو مروانے کی پلاننگ کر رکھی تھی۔” سنہری نقاب پوش جو اصلی آفیسر حیدر علی تھا، نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا۔
” مگر سر! اس فائل میں آخر ہے کیا؟” ایک ماتحت نے پوچھا۔

” اس فائل میں ہمارے تمام ریڈار سسٹمز اور ہیکنگ تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایٹمی اثاثوں کی تفصیلات ہیں۔ وہی ریڈار سسٹمز جن کی بدولت ہم نے دشمن کے جدید جنگی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنایا ہے۔” سنہری نقاب پوش آفیسر حیدر علی نے جواب دیا تو حالات کی سنگینی کا اندازہ کر کے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ آفیسر حیدر علی نے ثابت کر دیا تھا کہ ملکِ عزیز حقیقی معنوں میں بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کے حصار میں محفوظ ہے۔ سب ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ دونوں مردہ اشخاص کو کراہت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

More posts