Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • آر ایس ایس ہمارے پیسوں سے ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو قتل کرتی ہے  عبدالرحمن النصار

    آر ایس ایس ہمارے پیسوں سے ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو قتل کرتی ہے عبدالرحمن النصار

    بھارتی وزیراعظم مودی اور ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی اور نفرت کسی سے بھی چھپی نہیں ہے مودی کے اسلام مخالف اور مسلمان دشمن پالیسیوں اور بھارت اور کشمیری مسلمانوں کےپر مظالم کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ گذشتہ روز مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم دیکھتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مودی کو دنیابھر میں پھیلے خطرناک وائرس اور عالمی وباسے تشبیہہ دے ڈالی

    باغی ٹی وی : ہندو انتہا پسند تنظیم کےبھارتی مسلمانوں پر ظلم و جبر اور مظالم دن بدن شدت اختیہار کر رہے ہیں کبھی مساجد کو شہید کیا جارہا ہے کبھی نہتے مسلمانوں پر تشدد کیا جارہاہے تو کبھی مسلمانوں پر الزام لگاکر ان پر تشدد کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ مذہب کے بھیس میں اجتماعات کے ذریعےبالواسطہ طور پر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں یہاں تک کہ فاشسٹ مودی اور انتہا پسند ہندو آر ایس ایس مسلمانوں سے بھارتی شہریت کے حقوق تک چھین لئے ہیں جس پر اس متنازع شہریت کے قانون پر مودی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    مودی حکومت آر ایس ایس اور ہندو انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر اب عرب ممالک نے بھی آواز اٹھائی ہےاور آر ایس ایس کے مسلمانوں پر مظالم پے سخت تنقید کی ہے بھارت کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات اور کاروباری لین دین اور بھارت کو دیئے جانے والے عطیات کے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے عرب کی معروف شخصیت عبدالرحمن النصار نے آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ ہمارے ہی پیسوں سے ہمارے مسلم بھائیوں پر ظلم کرتی ہے
    https://twitter.com/alnassar_kw/status/1251921682085949441?s=08
    عبدالرحمن النصار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ پر مسلمانوں پر آر ایس ایس کے تشدد کی چند تصاویر شئیر کیں اور ٹویٹ میں لکھا کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ہمارے پیسوں سے ہی ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل کرتی ہے

    عبدالرحمن النصار کی اس ٹویٹ کے جواب مئں ٹویٹر صارفین نے بھی مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں اور آر ایس ایس کے مظالم پر سخت تنقید کرتے ہوئے مختلدف تبصرے کئے

    ایک صارف احتشام قاضی نے کہا کہ اللہ سبحان و تعالی کا شکر ہے کہ عربوں نے آر ایس ایس دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف رد عمل کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے

    ایک صارف انتخاب عالم نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس مڈل ایسٹ سے کافی بھاری عطیات لیتے ہیں اور وہ یہ رقم کہاں استعما کرتے ہیں ؟

    COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

  • معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط نمبر 2

    فرشتوں کا روشنی کی رفتار کے مطابق سفر کرنا 👇

    مومنوں (مسلمانوں) کا خیال ہے کہ فرشتے کم کثافت(low density) مخلوق ہیں،
    اور خدا نے انہیں روشنی(نور) سے پیدا کیا ہے۔
    وہ صفر(0) کی رفتار سے لے کر روشنی کی رفتار تک کا سفر کرتے ہیں۔
    یہ فرشتے ہیں جو خدا کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔
    فرشتے خدا کے عرش کی بجائے خلاء میں کسی محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) سے احکامات لیتے ہیں۔
    وہ اس محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ ہر وقت منسلک ہوتے ہیں تاکہ خدا سے اپنے لیے احکامات یہاں سے لیے جائیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ منسلک فرشتے کیسے سفر کرتے ہیں۔
    اور وہ رفتار جسکے ذریعے وہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) سے رابطہ کرتے ہیں، کیسے روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔

    يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُـمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٝٓ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدہ 5#)
    "وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ حکم/معاملہ(فرشتے کے ذریعے) اسے(مطلوبہ جگہ) صرف ایک دن میں پہنچا دیا جاتا ہے اور وہ ایک دن تمہارے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔”
    ۔
    مطلب فرشتہ جو ایک دن میں سفر کرتا ہے ہم وہی سفر ایک ہزار سال میں پورا کر سکتے ہیں۔ یہ فرشتے ہیں جو یہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔
    پچھلے لوگوں نے فاصلے کو صرف چلنے کی مقدار میں ماپا نہ کہ کلومیٹر کے سکیل یا میل کے سکیل میں، مثال کے طور پر
    اگر ایک گاوں دو دن کے فاصلے پر ہے تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اس گاؤں تک پہنچنے کیلئے دو دن چلنا پڑے گا، یا 10 دن کے فاصلے پر ہے تو دس دن چلنا پڑے گا۔
    اسی طرح قرآن نے فرشتوں کے ایک دن کے سفر کرنے کی رفتار 1000 سال بتائی ہے، یعنی فرشتہ ایک دن میں 1000 سال کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
    پھر پچھلے لوگوں نے لونر کیلنڈر(چاند کا کیلنڈر) کو اپنا لیا جسکے ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔
    یہ مہینے چاند سے متعلق ہیں نہ کہ سورج کے متعلق۔
    چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار سال میں 12000 مہینے ہوں گے۔
    یہ آیت اس فاصلے کا حوالہ دے رہی ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ چاند 12000 مہینوں تک جتنا سفر طے کرتا ہے، اتنا ہی سفر فرشتہ ایک دن میں طے کرلیتا ہے
    اور یہ دریافت کیا جا چکا ہے کہ "چاند کا 12000 مہینوں کا سفر”، روشنی کی رفتار کے برابر ہے.
    #سکندریات

    معجزات قرآن قسط 1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم: سلطان سکندر!!!

  • COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    دنیا بھر میں پھیلنے والے خطرناک وائرس کورونا وائرس کوویڈ 19 کی جگہ ٹویٹر ٹرینڈ پر مودی 19 نے لے لی

    باغی ٹی وی : بھارتی وزایراعظم مودی کی مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی اور نفرت کسی سے بھی چھپی نہیں ہے مودی کے اسلام مخالف اور مسلمان دشمن پالیسیوں اور بھارت اور کشمیری مسلمانوں کےپر مظالم کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم دیکھتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مودی کو دنیابھر میں پھیلے خطرناک وائرس اور عالمی وباسے تشبیہہ دے ڈالی

    لوگوں نے مودی کو اسلام مخالف پالیسیوں اور مسلمانوں اور یکشمیریوں پر ظلم کی انتہا کی وجہ سے کشمیریوں اور مسلمانوں کے لئے خطرناک وبا کورونا قرار دیا اور اب ٹویٹر پر Covid_19# کی بجائے Modi_19# ٹرینڈ بن گیا ہے

    صارفین نے مودی 19 ٹریںڈ میں مودی کو خوب تنقید کا نشانہ بنا یا اور تنقید بھرے تبصرے کئے
    https://twitter.com/TahreemShah_/status/1251839345411198982?s=19
    ایک تحریم نامی صارف نے لکھا کہ #Modi_19 مسلمانوں کا قاتل ہے اور قاتلوں کا بنگلہ دیش میں ویلکم نہیں کیا جاتا
    https://twitter.com/Sandhu_IVF/status/1251839574894092288?s=19
    چوہدری ذیشان سندھو نامی صارف نے لکھا کہ اللہ معصوم کشمیری شہدا کے خون کے بہنے والے ہر قطرے پر انصاف لائے گا ، انشاء اللہ۔ سرنگ کے دوسری طرف ہمیشہ روشنی رہتی ہے
    https://twitter.com/Amnastic2/status/1251838631112855556?s=19
    آمنہ نامی صارف نے لکھا کہ کشمیرمیں خون بہہ رہا ہے۔ نہ اسکول ، نہ اسپتال ، نہ کھانا ، نہ آزاد سانس ، محاصرہ کو 6 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انڈیا نے اسے لفظی جہنم بنا دیا ہے


    ذوالفقار علی بیگل نامی صارف نے انڈین عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہیلو انڈیا لاک ڈاؤن میں رہ کر کیسا لگ رہا ہے
    https://twitter.com/BeingOmmar/status/1251829836936613890?s=19
    عمر خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ کب کشمیری مودی جیسی وبائی امراض سے نجات پائیں گے؟
    https://twitter.com/JaveriaRafiq7/status/1251836603129040897?s=19
    جویریہ رفیق نامی صارف نے لکھا کہ سیکولرازم اور_جمہوریت دونوں ہی_آئ ایس آر کی قیادت میں فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے نقاب کشائی کی گئی ہیں


    آمنہ بخاری نامی صارف نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیریوں کی نسل کشی بند کرو اور پاگل وائرس میںمبتلا متحرک اور مقبوضہ افواج کو لاک ڈائون کریں


    مبین اشرف طرار نامی صارف نے لکھا کہ آر ایس ایس کے بدمعاش مسلمان کا سر ایسے کاٹ رہے ہیں جیسے وہ انسان یا زندہ مخلوق نہیں ہیں

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

  • بیگم جنرل حمید گل کا اپنے خاوند جنرل حمید گل کی 500 یاد میں بیڈ پر مشتمل چلڈرن وارڈ کا بینظیر ہسپتال کوعطیہ

    بیگم جنرل حمید گل کا اپنے خاوند جنرل حمید گل کی 500 یاد میں بیڈ پر مشتمل چلڈرن وارڈ کا بینظیر ہسپتال کوعطیہ

    جنرل حمید گل کی اہلیہ بیگم جنرل حمید گل کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے 6 ماہ ہو گئے

    باغی ٹی وی : جنرل حمید گل 20 نومبر 1936 ، سرگودھا میں پیدا ہوئے جنرل حمید گل پاک فوج میں تھری اسٹار رینک آرمی جنرل اور دفاعی تجزیہ کار تھے گل 1987 سے 1989 کے درمیان ، پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ، انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابل ذکر ہیں

    جنرل حمید گل نے پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات سر انجام دیں اور اپنے ملک کے ساتھ انتہائی ایمانداری اور ایک قابل آفیسر کے طور پر کام کیا جنرل حمید گل ایک سچے پکے حب وطن پاکستانی تھے جس کا اندازہ ان کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بطور بریگیڈئیر برطانیہ کے رائیکل وار کالج کا کورس کہ کہہ کر مسرتد کر دیا تھا کہ انگریز کون پوتا ہے مجھے جنگ سکھانے والا ملک کا دفاع اپنی مٹی کی فہم سے آتا ہے اور یہ فہم میرے پاس ہے

    فوج کا قابل ترین افسر اور سچا محب وطن 15 اگست ، 2015 کو ، ہفتہ کی رات ، برین ہیمرج میں مبتلا ہونے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا

    ان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ بیگم جنرل حمید گل نے اپنے خاوند کی یاد میں بغیر کسی تعاون کے اپنی ذاتی اور آبائی جائیداد فروخت کر کے پانچ سو بیڈ پر مشتمل چلڈران وارڈ قائم کر کے بینظیر ہسپتال کو عطیہ کی اور 8 مارچ 2019 کو اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا

    بیگم جنرل حمید گل 30 برس تک کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئیں اللہ مرحومہ بیگم جنرل حمید گل کے ایثار کو قبول فرمائے اور انکو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے ،آمین

  • ‏کراچی میں PUBG کھیلنے سے نوجوان ذہنی مریض بن گیا

    ‏کراچی میں PUBG کھیلنے سے نوجوان ذہنی مریض بن گیا

    عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے کاروباری نظام سمیت تعلیمی نظام بھی بند ہے بچوں کو سکولز کالجز اور یونیورسٹیز سے چھٹیاں ہیں اور موجودہ حالات کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں لوگ خود کو سوشل میڈیا پر اور کچھ نوجوان مختلف گیمز کھیلنے میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاون کے دوران بچے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اس لئے وہ ایسی گیمز کھیلتے ہیں ، جن بچوں کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون نہیں وہ دن بھر ٹی وی پر کارٹون دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے ہیں جن میں سر فہرست پپ جی اور دوسری گیمز ہیں ں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جگہ پر مسلسل گھنٹوں بیٹھ کر ‘ٕپب جی اوردوسرے گیمز کھیلنے سے بچوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے

    پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیئر بیٹل گیم ہے جو بچوں میں کافی مشہور ہے یہ اس وقت دنیا کے مقبول ترین موبائل فون گیمز میں سے ایک ہے جسے ایک تخمینے کے مطابق ماہانہ دس کروڑ افراد اپنے موبائل پر کھیلتے ہیں

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پب جی ایک مزیدار گیم ہے لیکن اس کے عادی ہونے والوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یہ انتہائی جذباتی قسم کا گیم ہے اس سے کھیلنے والوں میں انتہائی جذباتی اور جارحانہ خیالات پیدا ہوسکتے ہیں

    ایسے ہی کراچی کے علاقے بہار کالونی کا نوجوان مزمل دن رات پب جی کھیلنے کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گیا ہے مزمل نامی نوجوان کی نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جب ڈاکٹرزچیک اپ کروایا گیا تو ڈاکٹرز نے نفسیاتی مسائل کی وجہ پب جی گیم کو قرار دیا

    ڈاکٹرز کے مطابق اس نوجوان مزمل میں آن لائن مار دھاڑ کی وجہ سے انتہائی جذبات پیدا ہوئے ہیں

    جبکہ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ آن لائن گیمز کھیلنے کے عادی نوجوان خودکشی جیسے اقدام کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور پب جی کے عادی لوگ سماجی طور پر بھی تنہا ہو جاتے ہیں

    خیال رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر سے بھی والدین نے بچوں کی رات گئے تک پب جی گیم کھیلنے پر تشویش اور پریشانی کا ظہار کیا تھا جبکہ بھارت میں پب جی گیم بہت زیادہ معروف ہوچکی ہے جس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے رواں برس چند ماہ قبل بھارتی ریاست گجرات میں یہ گیم کھیلنے کی عادی ایک خاتون نے پب جی کی خاطر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کردیا تھا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

  • لاک ڈاؤن: موسیقی اضطراب پر قابو پانے کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیڈی گاگا

    لاک ڈاؤن: موسیقی اضطراب پر قابو پانے کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیڈی گاگا

    دنیا بھر میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے متعلق امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران موسیقی اضطراب پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے

    لاہور: دنیا بھر میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے متعلق امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران موسیقی اضطراب پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہےلاک ڈاؤن کے دوران ایک میوزک کنسرٹ ون ورلڈ ٹوگیدر ایٹ ہوم کا انعقاد کیا گیا جس میں 100 سے زائد آرٹسٹ فن کامظاہرہ کریں گے

    اس میوزک پروگرام کا مقصد کورونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف کارکنوں کوخراج تحسین پیش کرنا ہےمیوزک کنسرٹ ون ورلڈ ٹوگید رایٹ ہوم میں لیڈی گاگا نے اپنے معروف گانےسمائیل پر پرفارم کیا

    امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا کا اس میوز ک شو سے متعلق کہنا ہے کہ یہ پروگرام فن ریزنگ ایونٹ نہیں ہے یہ ایونٹ کورونا وائرس سے لڑنے والوں کا شکریہ ادا کرنےکے لیے منعقد کیا گیا ہے اور گلوکارہ نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے موجودہ حالات خاص طور پر لاک ڈاؤن کے دوران موسیقی پریشانیوں مایوسیوں اوراضطراب پر قابو پانے کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے

    واضح رہتے کہ اس سے پہلے بھی کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کر نے کے لئے دنیا بھر ے گلوکاروں کی طرف سے کئی آن لائن کنسرٹ کئے گئے

    شہزاد رائے نے اپنے مداح ڈاکٹر کی فرمائش پر گا نا گا دیا

    علی ظفرنے موجودہ حالات میں ذہنی دباؤ کو ختم کرنے کا آسان طریقہ بتادیا

    ریکھا بھردواج کا پاکستانی مداحوں کے لئے لائیو پرفارم کرنے کا اعلان

  • ً Me At 20 چیلنج میں معروف شخصیات کی تصاویر پر صارفین کے دلچسپ تبصرے

    ً Me At 20 چیلنج میں معروف شخصیات کی تصاویر پر صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس کے باعث گزشتہ کئی ہفتوں سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور لوگ فارغ اوقات میں سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں سوشل میڈیا پر Me At 20 چیلنج ٹرینڈ خاصا مقبول ہورہا ہے اس چیلنج میں آپ کو اس وقت کی تصویر شیئر کرنی ہے جب آپ 20 برس کےتھے

    باغی ٹی وی : اس ٹرینڈ کا آغاز 13 اپریل کو 202 نیٹ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کیا گیا جس میں صارف نے لوگوں سے اپنی وہ تصویر شیئر کرنے کے لیے کہا تھا جب وہ20 برس کے تھے اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہوگیا اور پاکستان سے بھی کئی مشہور شخصیات نے اپنی پرانی تصاویر شیئر کیں جن پر صارفین کی جانب سے دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے کیے گئے


    اس ٹرینڈ میں پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر اور راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے جانے والے شعیب اختر نے بھی اپنی تصویر شیئر کی، ان کی تصویر پر جہاں پاکستانیوں نے تبصرے کیے وہیں بھارتیوں نے بھی ان کی تصویر کو بے حد سراہا

    محمد علی نامی صارف نے لکھا دی ریئل پنڈی بوائے

    کریم پٹھان نامی صارف نے لکھا کہ سر آپ اور سلمان خان پرانی تصویرں میں ایک جیسے نظر آتے ہیں اور آپ دونوں کی شکصیت کی ملتی جلتی ہے کیا آپ نے سوچا؟


    نجی ٹی وی کے معروف اینکر اقرار الحسن نے بھی اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے اپنی پرانی تصویر شیئر کی اور لکھا میں کیوں پیچھے رہوں؟ انہوں نے لکھا کہ ویسے دبئی میں اے آر وائی کے شروع کےاس زمانے کی تصویر ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایسی کئی تصویریں نظر سے گزریں کہ آنکھیں بھیگ گئیں۔۔ کچھ لوگ دنیا میں نہیں رہے، کچھ لوگ زندگی میں نہیں رہے۔۔ ہم بھی دیکھئیے نہ جانے کب تک ہیں
    بس نام رہے گا اللہ کا !!

    آمنہ خان نامی صارف نے اقرا الحسن کو لکھا کہ بلآخر آپکو مل ہی گئی اور پوچھا ویسے آپ اتنے وائٹ کیسے تھے اس پر اقرارالحسن نے کہا بہن میں ایسا ہی ہوں سر عام کی دشت نوردی نے جھلسا اور کمال دیا ہے تھوڑا


    گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے بھی تصویر شئیر کی ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی تصویر پر صارفین نے ان کی عمر کو لے کر کئی دلچسپ تبصرے کیے

    ایک بیا علی زیب نامی صارف نے شہزاد رائے کی چار ایک جیسی تصاویر شیئر کیں اور لکھا شہزاد رائے 20، 40 ، 60 اور 80 سال کی عمر میں بھی ایسے ہی رہیں گے

    عاظم جمیل نامی صارف نے لکھا میں بھی آپ سے متفق ہوں

    عائشے نامی صارف نے لکھا کہ شہزاد رائے کی دو تصاویر شیئر کیں جو ایک 20 سال کی اور دوسری 40 سال کی تھی اور لکھا واقعی شہزاد رائے کے لیے عمر صرف ایک نمبر ہے ایک صارف نوبل طفیل بھٹی نے لکھا کہ یہ آدمیوں کی ماہ نور بلوچ ہے


    وسیم بادامی نے بھی اس ٹرینڈ میں اپنی تصویر شئیر کی جس پرعاطف توقیر نامی صارف نے لکھا کہ بادامی یہ تھا وہ نوجوان جس سے ہم خوفزدہ رہا کرتے تھے اس نوجوان کی شرافت صداقت و معصومیت کی مثالیں دی جاتی تھیں تذکرے ہوا کرتے تھے کہاں گئے پس در کی شارتوں کے وہ دن جس پر اینکر پرسن اقرار الحسن نے کمنٹ میں پوچھا ،تھا ؟ کا کیا مطلب

    ایک صارف راحیلہ خان نے کہا کچھ خاص فرق نہیں بس بالوں نے ساتھ چھوڑ دیا ہے


    گلوکار و ادکار علی ظفر نے بھی اپنی ایک تصویر شئیر کی جس میں وہ ہوٹل میں پینٹینگ کا کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے لکھا یہ میری تب کی فوٹو ہے جب میں پی سی ہوٹل میں پینٹنگ کی ملازمت کرتا تھا ور اس ے میں نے پانچ چھ لاکھ کمائے تھے جس سے میں نے اپنا البم حقہ پانی ریلیز کیا تھا

    اس ٹویٹ پر ایک مبشر نذیر نامی صارف نے کہا آپ کے والد پنجاب یونیورسٹی می ایک اعلی عہدے پر تھے جبکہ والدہ بھیہ لیکچرر تھیں تو پھر آپ نے یہ سب کیوں کیا

    ایک نتاشا نامی صارف نے کہا کہ میرے والد اور والدہ نے آپ کو 2000 اور 2001 سالوں کے دوارن آپ کو پی سی بھوربن میں دیکھا تھا
    ایک صارف ارم نے تعریف جرتے ہوئے کہا کہ ماشاءاللہ علی ظفر پیارا تھا شروے سے ہی


    ان کے علاوہ حامد میر عاصمہ شیرازی جمائما خان نے بھی اپنی تصاوہر شئیر کیں جس پر لوگوں نے مزاحیہ اور دلچسپ تبصرے کئے
    علاوہ ازیں اس ٹرینڈ میں دیگر صارفین نے بھی اپنی تصاویر شئیر کیں

    علی ظفر نے سولہ سال کی عمر میں لکھا گانا مداحوں لے لئے دوبارہ گا دیا

    مذہب،ثقافت اور زبانیں پاکستان کی سب سے خوبصورت چیزیں ہیں شہزاد رائے

  • حکومت پاکستان کا احسن قدم ،کسانوں کے لئے خوشخبری،اب گھر بیٹھے باردانہ حاصل کریں بغیر قطار کے

    حکومت پاکستان کا احسن قدم ،کسانوں کے لئے خوشخبری،اب گھر بیٹھے باردانہ حاصل کریں بغیر قطار کے

    بصد احترام پنجاب آئی ٹی بورڈ
    لاہور۔ 19 اپریل 2020

    پی آئی ٹی بی کی وضع کردہ باردانہ موبائل ایپ کے ذریعے 78ہزار کاشتکاروں نے اندراج کرا لیا

    لاہور:پی آئی ٹی بی کی وضع کردہ باردانہ موبائل ایپ سے کاشتکاروں کو کرونا لاک ڈاؤن کے دوران باردانہ کے حصول کیلئے اندراج کرانے میں سہولت ملی باردانہ موبائل ایپ محکمہ خوراک پنجاب کی ڈیجیٹائزیشن پروگرام کے تحت وضع کی گئی ہے

    پنجاب آئی ٹی بورڈ کا جائزہ اجلاس، چیئرمین اظفر منظور ، ڈائریکٹر جنرل فیصل یوسف و دیگر نے شرکت کی اجلاس میں چیئرمین اظفر منظور نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت اس سال پنجاب میں 389گندم خریداری مراکز رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ کاشتکاروں کو 6 لاکھ31 ہزار ٹن سے زائد باردانہ جاری ہو چکا ہے

    اظفر منظور نے کہا گندم خریداری کا ادائیگی ریکارڈ اب پیمنٹ سکرول سسٹم کے تحت مانیٹر کیا رہا ہے بینکوں اور خوراک مراکز کو کاشتکاروں کو گندم کی ادائیگی کیلئے سسٹم تک رسائی دے دی ہے

    باردانہ کے حصول کے لئے اندراج کروانے کا طریقہ

    جسے طعنے دیتے ہیں مخالف،وہ شاہسوار ہے امیدوں کا ،زلفی بخاری وہ کردکھاتا ہے جوکوئی تصوربھی نہیں کرپاتا،پاکستانی دعائیں دینے لگے

    ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار بھی اور سماج کے دشمن بھی!!! تحریر: غنی محمود قصوری

  • شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟  تحریر ؛ محمد راشد

    شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟ تحریر ؛ محمد راشد

    شادی/نکاح کے بڑھتے مسائل اور تعلیم یافتہ طبقہ۔۔کون کہاں ہے؟؟
    آؤ دیکھیں کہ Extreme کیا ہے اور حقیقت کیا ہے؟؟

    عرصہ 1 سال ہو گیا میری علیحدگی اور طلاق کو۔۔۔ لیکن اس میں اور اس سے پہلے یہ۔سبق ضرور سیکھا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو morally، educational اور financially مضبوط کرے۔
    میٹرک تک تعلیم کے بعد روزگار اور کاروبار کی طرف توجہ دے اور تعلیم کو صرف part time رکھے۔ جتنا پیسہ تعلیم پر میٹرک کے بعد ماسٹر تک، خرچ کر کے بھی 12000کی تنخواہ کے لیے CVs اور apply تک ہی رہے انسان تو اگر وہ چھوٹے سے کاروبار کی طرف چلا جائے تو 5 سے 10 سال میں وہ اللہ کی مدد اور اپنی محنت و لگن سے ایک مضبوط معیشت کا مالک ہو گا۔
    لیکن ہم white collar life کے بھوکے لوگ، محنت سے جی چراتے ہیں اور خود ماسٹر کرنے کے بعد نوکر بننے اور لیکچرر کے خواب دیکھتے ہیں۔۔ جاب لگ بھی جائے تو جاب والا آدمی گھر کا کچن چلا سکتا ہے جب تک کہ وہ پارٹ ٹائم کام نہ کرے اور ایسا صرف ٹیچر طبقہ کے علاوہ دوسری جاب والے لوگ نہیں کر سکتے۔۔
    ۔
    پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے 20 سال تک نکاح کر لیا، چاہیے جتنا بھی پڑھے لکھے ہوں، بر سر روزگار ہو ہی جاتے ہیں اور ہم جیسےماسٹر، M Phil تک کیے لوگ جاب اور گھر کے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔۔ بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں مزید نام نہاد پڑھے لکھے آدمی پر آ جاتی ہیں۔۔ عمر 28 سے 36 سال تک ہو جاتی ہے۔۔
    وقت کے ساتھ گھر ابھی نہیں بنا ہوتا اس معیار کا، جو کہ میٹرک میں یا اس سے کم تعلیم سے بچھڑنے والا دوست، رشتہ دار بنا چکا ہوتا ہے۔۔ اور ہم برائی اور فتنوں کے بھنور میں پھنس جاتے ہیں اور وقت Facebook اور whattsapp کا نشئ بنا دیتاہے۔
    پڑھے لکھے رشتے، دولت کے معیار اور ذات، برادری کے زعم میں تولتے ہیں جیسا کہ چوہدری، راؤ، سید، شیخ وغیرہ کیونکہ اس ذات کے علاوہ باقی سب لوگ انسانیت کے رتبے سے نیچے ہوتے ہیں اور کافروں کے قریب ہوتے ہیں۔۔ہیں نا؟
    پھر کوئی مرد نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس کو لڑکی کے والدین ایسا رویہ اور ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ جیسے لڑکی کا باپ وہ خود نہیں بلکہ "روپیہ،Bank account اور property” ہو۔
    مناسب لین دین کرے انسان لیکن، شیطان کی اولاد نہ بن جائے ۔۔۔
    بلکہ محمد عربی صلی علیہ و آلہ وسلم کا امتی بنے۔۔لیکن نہیں۔۔ہم نے ہر حال میں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہمارے بڑے ہندو تھے ۔۔نہ کہ ہم نے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہم انبیاء اور صحابہ، سلف صالحین کے وارث ہیں۔۔
    جہاں تک طلاق یافتہ رشتے ہوتے ہیں، ان میں اکثریت نام نہاد پڑھے لکھوں کی ہے کیونکہ صبر، شکر اور اللہ پر توکل کے elements نا پید ہیں اور ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ "ہائے، پیسہ”۔
    بہت سے طلاق یافتہ رشتے درج ذیل غیر فطری ڈیمانڈز رکھتے ہیں۔۔
    1۔ ہماری بیٹی کے نام گھر کراؤ۔
    2۔ ہمارے شہر میں ٹرانسفر کرا کے آئیں۔
    3۔ سونا 5 تولہ تک بھی دیں۔
    4۔اپنی آمدن کو ایک لاکھ سے اوپر کریں یا اس کے ارد گرد۔۔
    5۔ جہیز بھی نہ مانگیں( جہیز ، غیر اسلامی ہو گیا، اور اوپر والی ڈیمانڈز انکے کونسے باپ کے مذہب میں ہیں؟)۔۔
    ایکM Phil English مطلقہ نے تو 4لاکھ آمدن تک کا کہ دیا۔۔
    ۔
    "علماء یہ مسئلہ بتاتے نہیں ہیں لیکن اگر عورت کا نکاح اس کی مرضی کے مطابق،اس کے والدین نہ کر رہے ہوں اور عورت کسی کو پسند کرتی ہو تو وہ عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اور پھر عدالت اسکی ولی بن کر نکاح کر سکتی ہے۔۔”
    میں یہ مسئلہ بتانا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ پیسے کے پجاری لوگوں کا، کچھ نہ کچھ توڑ ضرور ہے۔۔
    ۔
    میں سمجھتا ہوں، کہ ذیادہ پڑھ لکھنے کی بجائے 20سال کی عمر میں نکاح کو پروان چڑھایا جائے۔۔۔ پھر برائی کے رستے بھی رکیں گے۔۔۔
    اسلامی عقیدہ بھی ہے کہ نکاح کے بعد رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔۔
    ۔
    اور یہ مرد بیچارے، مطلقہ سے ہمدردیاں کرتے پھرتے ہیں، اگر میری پوسٹ غلط ہے تو مباحثہ کر لیں۔۔ یہ طلاق یافتہ، کنوارے رشتوں سے بھی زیادہ capitalists ہوتے ہیں اوراکثر انکے والدین کو برباد بیٹی برداشت ہے لیکن گھر بسی نہیں(اگر پہلا گھر نہیں بسا تو ، کردار اور مناسب روزگار دیکھ کر کیا دوسرا گھر نہیں بسانا چاہیے ؟)۔۔
    اور جہاں تک پڑھے لکھے طبقے کا تعلق ہے، سب سے زیادہ طلاق کی شرح ان میں ہے۔۔ بہت سی female ڈاکٹر اور وکیلوں کی شادی تک نہیں ہوتی۔۔۔ کیسا اسلامی معاشرہ تشکیل دیا ہم نے۔۔۔state نے تو کچھ نہ کیا، ہم نے بھی تو کمال کر دیا ہے۔۔؟؟
    کوئی 25 تا 30 سال تک کا نام نہاد پڑھا لکھا، مرد یا عورت، جو کنوارہ ہو، اور وہ فتنوں سے بچا ہوا ہو۔۔۔لائیے مجھے اس کا موبائل دیں۔۔سب کچھ نظر آ جائے گا۔۔۔
    اکثر پروفیسر جو Thesis and article کا topic, ایک Proposal تک نہیں بنا یا سمجھا سکتے، ان سے ہم Research کر کے آتے ہیں، خاک علم لاتے ہیں، تبھی میں نے نام نہاد پڑھا لکھا کہا۔۔
    اور پھر جب Practical زندگی میں آتے ہیں تو معاشرہ، والدین، سسرال، بیوی اور باس وہ سبق دیتا ہے کے سب پچھلا بھلانا پڑھتاہے۔۔ صرف کتابوں کا علم عملی نہیں ہوتا۔۔۔
    جس معاشرے سے بھاگے، وہی عملی زندگی میں سامنے ہوتا ہے۔۔
    وہی لوگ، وہی مزاج۔۔۔۔
    نہ زندگی کا سواد۔۔نہ صرف علم سے ترقی۔۔ نہ وقت کے نکاح سے روح کی پاکیزگی ملی۔۔۔۔25 سے 30 سالہ زندگی سے 15 سال تک بغیر روح کی پاکیزگی اور achievement کے برباد۔۔۔
    ۔
    ۔
    کڑوا آدمی اصول پرست ہوتا ہے۔۔۔اور بے غیرت کو غصہ نہیں آتا اور بے عقل سے عمل کی امید بھی نہیں ہوتی۔۔۔
    محمد راشد
    M Phil English Linguistics, Plagiarism setter.SESE English.

  • کشمیری قیدیوں کو فی الفوررہا کیا جائے حریت رہنماء الطاف وانی کا بھارت سے مطالبہ   الطاف وانی

    کشمیری قیدیوں کو فی الفوررہا کیا جائے حریت رہنماء الطاف وانی کا بھارت سے مطالبہ الطاف وانی

    Press Release
    Sunday, April 19, 2020.

    کشمیری قیدیوں کو فی الفوررہا کیا جائے حریت رہنماء الطاف وانی کا بھارت سے مطالبہ

    پیپلز لیگ کے چیئرمین شہید ایس حمید کو خراج تحسین

    اسلام آباد: بھارت کے مختلف جیلوں میں قیدو بند تمام غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنماؤں اور کارکن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے معروف حریت رہنماء اور سینئر وائس چیئرمین جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ کشمیری قیدیوں کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھارت کے دور دراز جھیلوں میں رکھنے کابھارتی حکومت کا دانستہ اقدام نہ صرف غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    اتوار کو یہاں جاری ایک پریس بیان میں مسٹر وانی نے کہا، ”ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کرونا کے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مختلف ملکو ں نے جیلوں میں تعداد گھٹانے کا طریقہ کار اپنایاہے ہندوستان کی حکومت نے اس کے برعکس کشمیری قیدیوں کی رہا کرنے سے انکار کیا اور اس بارے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطالبات کو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مسترد کردیا ہے۔” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ غیر قانونی طور پر حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو نظربند کیا گیا ہے جو بھارت میں دور دراز اور انتہائی بھیڑ بھری جیلوں میں مقید ہیں۔ وانی نے کہا، ” لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل حانہ بھی ان سے ملنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ”، وانی نے مزید کہا کہ اس انتہائی نازک وقت پر ہندوستانی حکومت کو دنیا کے دوسرے ممالک سے سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے انسانی بنیادوں پر CoVID-19 وبائی بیماری کے پیش نظر قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بھی خراب ہوئی ہے۔ وادی میں حال ہی میں رونما ہونے والے ایک دلخراش واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ قابض فوج نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی تمام حدیں عبور کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”کشمیری نوجوانوں کا قتل عام کشمیر میں تعینات قابض فوجیوں کے لئے ایک معمول بن چکا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ کشمیری اپنے پیاروں کی موت پر سوگ تک نہیں کرسکتے ہیں۔ وانی نے کہا، ”بھارت نے محکوم کشمیریوں سے سوگ کا حق بھی چھین لیا ہے۔” اس سے بھی زیادہ وحشیانہ بات یہ ہے کہ ہندوستانی قابض فوج نے شہید ہونے والے نوجوانوں کے لواحقین اور انکے ورثاء کو انکی آخری رسومات میں شریک ہونے کا حق سے بھی محروم کردیا ہے۔انہوں نے وادی کشمیر میں کورونا وائرس سیفٹی کٹس کی کمی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا، ”ضروری سامان کی کمی اور خاص طور پر ذاتی حفاظتی آلات (پی پی ای) کی عدم دستیابی، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لئے وادی میں کورونا کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔وانی نے بتایا کہ اسپتالوں میں وینٹیلیٹروں سمیت اہم دوائیوں اور طبی سامان کی شدید قلت ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں 71000 افراد کے لئے 1 وینٹیلیٹر ہے، 3900 مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ جے کے این ایف کے رہنما نے کہا، ”اس کے برعکس بھارت نے ہر 10 کشمیریوں کے لئے کیل کانٹے سے لیس1 بندوق بردارتعینات کیا ہے۔”

    دریں اثنا، جے کے این ایف کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں کشمیری آزادی پسند رہنما اور جموں کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین ایس حمید کو خراج تحسین پیش کیا جنھیں 90 کی دہائی کے وسط میں بھارتی فورسز نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)