میرے ہم وطنو وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے 14 اگست کو وجود میں آنے کی خوشی باجے بجا کر منانا یا سڑکوں پر جھنڈے اٹھائے نغموں پر تھرکنا سیلفیاں اور ٹک ٹاک بنانا، پھر زرا دوسری طرف دیکھ لیں آزادی کے نام پر ڈانس پارٹیوں میں رنگ رلیاں مناتے نام نہاد محب وطنوں کا خوشی منانے کا یہ کونسا طریقہ ہے ۔ اگر آپ واقعی وطن سے محبت کرتے ہیں تو یاد کریں ہمارے لیے قائد اعظم کی جو نصیحت ہے ہم اس پر کتنا عمل پیرا ھیں ۔
ھم لاے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر
تو دیکھیں کہ ھمارے قائد کا پاکستان ھما را پاکستان کن حالات میں ہے خیبرپختونخوا، بلوچستان یا کشمیر سب جل رھے ہیں پنجاب کی بدحالی کی اپنی داستان ہے ہمارا پیدا ہوتا بچہ آئی ایم ایف کا مقروض ہے،ہمارے اثاثے گروی ہو چکے ہیں ،ہماری قسمتوں کے فیصلے یہودی اور فرنگی کر رہے ییں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
ہم عجیب بد قسمت لوگ ہیں جو سمجھتے رہے کہ 1947 سے ہم آزاد ہو گئے دہائیاں بیت جانے کے بعد پتہ چلا کہ حکم تو آج بھی صاحب بہادر کا ہی چل رہا ہے قائد اعظم کے بنائے آئین تبدیل کیے جا رہے ہیں۔اب سوچیں کہ ہم اپنے قائد کے حکم کی کتنی پاسداری کر رہے ہیں، جن فرنگیوں کے حلق میں ھاتھ ڈال کر وطن حاصل کیا وہ اپنے وفاداروں کے ذریعے ھمیں روند رہے ہیں اور ہم انکا مقابلہ باجے بجا کر، نغمے گا کر اور ٹک ٹاک پر جزبہ دکھا کر کر رہے ہیں ،جابجا پرچم پاکستان اور افسوس بعد میں یہی پرچم سڑکوں پر کچرے اور کوڑے کے ڈھیروں میں گرے ہوتے ہیں۔ پرچم کا احترام خود بھی کریں’ اور اپنے بچوں کو بتائیں یہ کوئی عام چیز نہیں ہے۔ ہوش کے ناخن لیں قائد اعظم کی جنگ آج بھی جاری ہے ہماری کشتی آج بھی طوفان میں ہے وطن دشمنوں کے خلاف اٹھنے میں مزید دیر نہ کریں۔ ورنہ غلامی ہمیشہ آپکا مقدر رہے گی ۔
