جیمز براڈنیکس کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن ہنٹس ول میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی، جس سے قبل ان کی برطانوی بیوی کی دل دہلا دینے والی چیخوں نے وہاں موجود افراد کو جذباتی کر دیا۔
37 سالہ براڈنیکس کو جمعرات کے روز زہر کے انجیکشن کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ سزائے موت سے قبل ان کی اہلیہ نے جیل کے شیشے کے پار کھڑے ہو کر بلند آواز میں آئی لو یو کہا اور بازو پھیلا کر اپنے شوہر کی جانب جھک گئیں، جس کے بعد انہیں عملے کی مدد سے وہاں سے باہر لے جایا گیا۔ جیمز براڈنیکس کو 2008 میں ایک میوزک اسٹوڈیو کے باہر دو افراد کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق براڈنیکس اور اس کے کزن کو گولی مار کر لوٹا تھا۔ کمنگز کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اپنے آخری بیان میں براڈنیکس نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا “ٹیکساس نے غلط فیصلہ کیا ہے، میں بے گناہ ہوں۔”تاہم انہوں نے مقتولین کے اہل خانہ سے معافی بھی طلب کی اور کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ ان کی معافی قبول ہو جائے۔
سزائے موت سے چند گھنٹے قبل امریکی سپریم کورٹ نے براڈنیکس کی سزائے موت روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شریک ملزم ے حال ہی میں خود کو اصل قاتل قرار دیا ہے،پراسیکیوشن نے ان کے ریپ گانے کے بول بطور ثبوت استعمال کر کے انہیں خطرناک ثابت کیا
مہلک دوا پینٹوباربیٹل دیے جانے کے دوران براڈنیکس نے اپنے حامیوں سے کہا کہ “ہار نہ مانیں”، تاہم چند لمحوں بعد ان کی سانس رک گئی اور 21 منٹ بعد انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق،امریکہ میں رواں سال اب تک 10 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جن میں سے تین کا تعلق ٹیکساس سے ہے، جو تاریخی طور پر سب سے زیادہ سزائیں دینے والی ریاست رہی ہے۔
