Baaghi TV

ایران میں قید برطانوی جوڑے کی جان کو خطرات لاحق

برطانوی جوڑا کریگ اور لنڈسے فورمین ایران میں قید کے دوران اپنی جان کے خطرے میں مبتلا ہیں، کیونکہ جیل میں قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد، پرتشدد جھڑپوں اور غیر محفوظ حالات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ دونوں 53 سالہ برطانوی شہری جنوری 2025 میں اس وقت گرفتار ہوئے جب وہ یورپ سے آسٹریلیا تک موٹر سائیکل کے ذریعے دنیا کے سفر پر تھے۔ ایرانی حکام نے ان پر برطانیہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا، جسے دونوں نے سختی سے مسترد کیا ہے۔فروری میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی اور اس وقت سے وہ تہران کی بدنام زمانہ جیل میں قید ہیں، جہاں ماضی میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سخت حالات کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔قیدیوں کے مطابق جیل میں حالات نہایت خراب ہیں۔ صفائی کی شدید کمی، خوراک کی قلت اور طبی سہولیات تک محدود رسائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی قیدیوں کو مہینوں تک بنیادی علاج بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔

کریگ نے بتایا کہ ان کے کئی ساتھی قیدیوں کو دورانِ قید سزائے موت دی گئی، اور ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت قیدیوں کو پہلے خاندانی ملاقات کے بہانے لے جایا جاتا ہے اور بعد میں ان کی سزائے موت پر عمل کیا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق جیل ماضی میں فضائی حملوں کی زد میں بھی رہی ہے، جس کے بعد صورتحال مزید غیر محفوظ ہو گئی۔ قیدیوں نے بتایا کہ جیل جنگی زون کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ مسلسل خوف اور دباؤ میں رہتے ہیں۔لنڈسے فورمین نے اپنے ڈائری نوٹس میں لکھا کہ انہیں احساس ہو رہا ہے کہ وہ طویل عرصے تک قید رہ سکتے ہیں، جبکہ قیدیوں نے برطانوی حکومت سے فوری اور واضح سفارتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے نجی سفارتکاری کافی نہیں، بلکہ ایران پر کھلا اور مسلسل دباؤ ضروری ہے تاکہ ان کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔برطانوی دفتر خارجہ نے اس کیس کو “انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں شہریوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔موجودہ حالات میں برطانوی جوڑے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل میں جاری پرتشدد واقعات اور سیاسی کشیدگی ان کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ مسلسل ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

More posts