Baaghi TV

لندن میں حملے کے بعد یہودی کمیونٹی میں غم و غصہ

لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں حالیہ چاقو حملے کے بعد برطانیہ میں یہودی کمیونٹی نے غیرمعمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ شدید غم و غصہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیونٹی کے بعض افراد نے حکومت، خصوصاً وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر پر سخت تنقید کی ہے۔

حکام نے ملک میں دہشتگردی کے خطرے کی سطح کو “سبسٹینشل” سے بڑھا کر “سیویئر” کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ مہینوں میں حملے کا امکان زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے مجموعی خطرات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔انسداد دہشتگردی پولیس کے سربراہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات شدت پسند گروہوں اور انفرادی عناصر کی جانب سے بڑھ رہے ہیں، جن میں دائیں بازو اور اسلامسٹ دونوں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہودی کمیونٹی نے ایک طرف غیرمعمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا، جبکہ دوسری جانب حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف بیانات دیے جا رہے ہیں، عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ایک متاثرہ شخص نے اسپتال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کریں اور فوری عملی اقدامات کریں۔واقعے کے بعد لندن میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرین نے حکومت سے یہود دشمنی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب گولڈرز گرین میں 100 سے زائد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے یکجہتی واک میں شرکت کی، جس کا مقصد یہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی تھا۔

اسی دوران شمالی لندن کے علاقے اسٹیمفورڈ ہل میں ایک مکان میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، تاہم فائر بریگیڈ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ مشکوک نہیں لگتا۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ یہود دشمنی کے خلاف واضح اور فوری اقدامات کرے۔ مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

More posts