Baaghi TV

ایران سے مذاکرات پر امریکا پُرامید، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے غیر یقینی برقرار

امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کے آغاز سے قبل اب بھی کئی رکاوٹیں اور غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جبکہ دو ہفتے کی جنگ بندی بھی اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی چند روز میں ختم ہونے والی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد میں نئے دور کے مذاکرات متوقع ہیں۔ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور مذاکرات کل ہونے کے راستے پر ہیں۔ ذریعے کے مطابق اگر کسی معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر یا ورچوئل طور پر شریک ہو سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی مذاکرات میں شرکت پر مثبت غور کی تصدیق کی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت ایک ڈالر سے زائد کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً دو فیصد نیچے آگیا۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مذاکرات کی کامیابی سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور توانائی کی سپلائی پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

دوسری جانب ایران نے امریکی ناکہ بندی، ایرانی تجارتی جہاز توسکا کی ضبطی اور دیگر اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے جہاز اور عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایرانی فوجی کمانڈرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت دوبارہ ہوئی تو فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات نہیں کریں گے۔

پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ انعقاد کے پیش نظر اسلام آباد میں تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کرے گا اور امید ہے کہ ایک منصفانہ معاہدہ ہوگا، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

More posts