معروف صحافی اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے اے آر وائی نیوز سے 21 سالہ وابستگی کے بعد باقاعدہ استعفیٰ دے دیا ہے۔
اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اے آر وائی نیوز اور اپنی سیاسی تحریک “عوام راج” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، لہٰذا انہوں نے “عوام راج” کا راستہ اختیار کیا۔اقرار الحسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 21 سال کا شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے پروگرام “سرِ عام” کو ملنے والی محبتوں، دعاؤں اور عوامی پذیرائی پر ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے شمار یادوں کے ساتھ اس نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔
اقرار الحسن نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز اُس وقت کیا تھا جب اے آر وائی نیوز کی نشریات دبئی سے جاری ہوتی تھیں۔ ابتدائی دور میں انہوں نے بطور نیوز کاسٹر اپنی شناخت بنائی، جبکہ بعد ازاں کرپشن کے خلاف اپنے مشہور پروگرام سرِ عام کے ذریعے ملک بھر میں شہرت حاصل کی۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک وہ اے آر وائی نیوز کا نمایاں چہرہ رہے اور پاکستانی میڈیا میں ایک بااثر آواز کے طور پر جانے گئے۔ ان کی صحافتی خدمات اور تحقیقاتی رپورٹس نے انہیں عوامی حلقوں میں خاص مقام دلایا۔
اقرار الحسن کے استعفے کی بنیادی وجہ ان کی نئی سیاسی جماعت عوام راج کو قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافت اور سیاست کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت کے مشن کو ترجیح دی۔اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے اے آر وائی نیوز کی قیادت، ساتھیوں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 سال ان کی زندگی کا یادگار ترین باب رہے گا۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “عوام راج پائندہ باد” کے نعرے بھی درج کیے
