Baaghi TV

امریکا میں شدید سردی کی لہر، 16 کروڑ افراد خطرناک برفانی طوفان کے لیے تیار

امریکا بھر میں موسمِ سرما کا ایک طویل اور خطرناک برفانی طوفان متوقع ہے، جس کے باعث کم از کم 16 کروڑ امریکی شہری شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی قومی محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ طویل المدتی سرمائی طوفان وسطی اور مشرقی امریکا کے وسیع علاقوں کو متاثر کرے گا اور اس کے اثرات ہفتے کے آخر سے آئندہ ہفتے کے آغاز تک جاری رہیں گے۔نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ طاقتور برفانی نظام جمعے کے روز جنوبی ہائی پلینز اور راکی پہاڑی سلسلے سے حرکت شروع کرے گا، ہفتے کے روز مِڈ ساؤتھ اور اوہائیو ویلی سے گزرے گا، جبکہ اتوار کو مڈ اٹلانٹک اور شمال مشرقی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے شمالی حصوں میں شدید برفباری متوقع ہے، جہاں اوکلاہوما سے میساچوسٹس تک کئی علاقوں میں برف کی موٹائی تقریباً ایک فٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ادھر طوفان کے جنوبی حصوں میں ٹیکساس، مِڈ ساؤتھ، کیرولائناز اور ورجینیا پیڈمونٹ کے علاقوں میں برف، اولے اور منجمد بارش (فریزنگ رین) کا امتزاج دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکساس سے لے کر جنوبی ریاستوں کے کچھ حصوں تک شدید آئس اسٹورم کا خدشہ ہے، جو بجلی کے طویل بریک ڈاؤن، درختوں کے بڑے پیمانے پر نقصان اور انتہائی خطرناک ڈرائیونگ حالات کا سبب بن سکتا ہے۔محکمے کے مطابق شدید سرد ہوائیں، منفی درجۂ حرارت اور خطرناک ونڈ چِل شمالی وسطی امریکا سے جنوبی پلینز، مسیسیپی ویلی اور مڈویسٹ تک پھیل جائیں گی۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ حالات ہائپوتھرمیا اور کھلی جلد پر فراسٹ بائٹ کے جان لیوا خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

نیشنل ویدر سروس کے ویدر پریڈکشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور آرکٹک فرنٹ امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ادارے کے مطابق اتوار تک شمالی اور وسطی پلینز سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں میں درجۂ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جائے گا، جبکہ ہفتے کے روز شدید سردی خلیجِ میکسیکو کے مغربی ساحل تک پہنچے گی اور منگل تک مشرق کی جانب پھیلتی رہے گی۔ متعدد علاقوں میں ریکارڈ کم درجۂ حرارت متوقع ہے۔کینیڈا سے آنے والی سرد ہواؤں کے باعث شکاگو اور آئیوا کے شہر ڈیس موئنز میں سرکاری اسکولوں نے جمعے کے روز کلاسز منسوخ کر دیں۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں منفی 35 ڈگری فارن ہائیٹ تک ونڈ چِل ریکارڈ ہو سکتی ہے، جس سے صرف 10 منٹ میں فراسٹ بائٹ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، ایسے میں بچوں کا اسکول جانا یا بس کا انتظار کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین موسمیات نے یہ بھی بتایا ہے کہ منجمد درجۂ حرارت فلوریڈا تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر آئس سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والا نقصان سمندری طوفان (ہریکین) کے برابر ہو سکتا ہے۔برفباری کے بعد شدید سردی کے باعث برف اور آئس کے پگھلنے میں وقت لگے گا، جس سے بجلی کی لائنوں اور درختوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور کئی علاقوں میں دنوں تک بجلی بند رہنے کا خدشہ ہے۔ سڑکیں اور فٹ پاتھ آئندہ ہفتے تک پھسلن کا شکار رہ سکتے ہیں۔محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سرمائی طوفانوں کی پیش گوئی خاصی مشکل ہوتی ہے، کیونکہ صرف ایک یا دو ڈگری درجۂ حرارت کا فرق صورتحال کو تباہ کن یا محض بارش میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا درست تعین طوفان کے آغاز کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

اسی تناظر میں جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے دیگر ریاستی گورنرز کی طرح ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض پیش گوئیوں کے مطابق اٹلانٹا میں شدید سرمائی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ ماڈلز کے مطابق شہر بڑے نقصان سے بچ بھی سکتا ہے۔طوفان سے قبل شہریوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اٹلانٹا کی رہائشی جینیفر گیرارڈ نے اپنے 21 ماہ کے بچے کے ساتھ قریبی والمارٹ سے کمبل اور بیٹریاں خریدیں۔ دکانوں میں ڈبہ بند خوراک، بیٹریاں اور پانی سب سے زیادہ خریدے جانے والے سامان میں شامل ہیں، جس کے باعث شیلف معمول سے کم بھرے نظر آئے۔جینیفر گیرارڈ کا کہنا تھا“میں پہلے فلوریڈا میں رہتی تھی، وہاں ہم سمندری طوفانوں کے سیزن میں ہمیشہ ایسی تیاری کرتے تھے، اس لیے یہ سب میرے لیے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔”

محکمۂ موسمیات نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، ہنگامی سامان تیار رکھنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔

More posts