Baaghi TV

ٹک ٹاک پر داعش کی بدلتی حکمتِ عملی، نوجوانوں کو خفیہ انداز میں متاثر کرنے کی کوششیں

لندن: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک عناصر نے اپنی آن لائن سرگرمیوں کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے مختصر ویڈیوز کے پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر خفیہ اور جدید انداز میں اپنا بیانیہ پھیلانا شروع کر دیا ہے، جس کا بنیادی ہدف نوجوان صارفین ہیں۔

تحقیق کے مطابق داعش سے وابستہ اکاؤنٹس اب روایتی پروپیگنڈے یا کھلے عام تنظیمی تشہیر کے بجائے مزاح، میمز، مقبول ثقافتی حوالوں، علامتی زبان اور خفیہ اشاروں کے ذریعے اپنے نظریات کو عام صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں، تاکہ ان کا مواد بظاہر عام تفریحی مواد کا حصہ محسوس ہو۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ماہ کے دوران 355 ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 30 اکاؤنٹس ایسے تھے جن پر داعش سے متعلق مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔ تحقیق کے مطابق یہ مواد اکثر براہِ راست نہیں بلکہ تبدیل شدہ الفاظ، مخصوص نعروں، علامتی تصاویر اور خفیہ کوڈز کے ذریعے نشر کیا جاتا ہے، جس سے اس کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک کا سفارشاتی (Recommendation) نظام بھی اس مواد کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر کوئی صارف ایسے مواد کو دیکھے، پسند کرے یا متعلقہ اکاؤنٹس کو فالو کرے تو پلیٹ فارم اسے مزید اسی نوعیت کا مواد تجویز کر سکتا ہے، جس سے بتدریج انتہا پسندانہ بیانیے کی نمائش بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ داعش سے منسلک مواد میں تنظیم کے ماضی کے دورِ اقتدار کو مثبت انداز میں پیش کرنے، گروہی وابستگی، شناخت، قربانی اور مظلومیت جیسے جذباتی موضوعات کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ مغربی ممالک اور بعض علاقائی حکومتوں کو منفی انداز میں دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق شدت پسند عناصر مقبول ٹی وی شوز، ٹرینڈنگ آڈیوز، قدرتی مناظر، طرزِ زندگی سے متعلق ویڈیوز اور عام تصاویر کے ساتھ نظریاتی پیغامات کو اس انداز میں جوڑتے ہیں کہ عام صارف کو فوری طور پر اس کا مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ بعض اکاؤنٹس کھانے، روزمرہ زندگی یا دیگر عام موضوعات کی تصاویر کے ساتھ خفیہ نظریاتی پیغامات اور مخصوص ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں، جبکہ تنظیم سے منسلک سابق رہنماؤں اور پرانے پروپیگنڈا مواد کو بھی نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ پلیٹ فارم کے خودکار نظام سے بچا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر ویڈیو پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ مواد اب براہِ راست بھرتی مہم کے بجائے تدریجی، علامتی اور جذباتی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کی بروقت شناخت اور مؤثر نگرانی پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔تحقیق کے مطابق اس رجحان سے نمٹنے کے لیے صرف مواد حذف کرنا کافی نہیں بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ شدت پسند گروہ جدید سوشل میڈیا کی زبان، انداز اور الگورتھمز کو کس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

More posts