Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی B52 بمبار طیاروں کا آج رات ایران پر حملہ کا امکان

    امریکی B52 بمبار طیاروں کا آج رات ایران پر حملہ کا امکان

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے برطانیہ کے اہم فوجی اڈے فیئر فورڈ ایئر بیس پر اپنے مزید اسٹریٹجک بمبار طیارے تعینات کر دیے ہیں، جس کے بعد ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکی وزیر دفاع کی جانب سے آج رات ایران کے خلاف بڑی کاروائی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ آج امریکہ کی جانب سے ان طیاروں سے حملہ کیا جائے گا

    اطلاعات کے مطابق آج مزید 3 امریکی B-52 اسٹریٹجک بمبار اس اڈے پر پہنچے ہیں۔ اس وقت اس بیس پر مجموعی طور پر 6 B-52 Stratofortress اور 12 B-1B Lancer بمبار موجود ہیں، جو طویل فاصلے تک بھاری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے ایران کے اندر حملوں کو “جنگ کا سب سے شدید مرحلہ” قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ 
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور جنگ کے دوران مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی کارروائیاں روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور آج ایران پر حملوں کا سب سے سخت دن ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت کے اہم رہنما زیر زمین پناہ گاہوں میں چلے گئے ہیں۔‎اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ ایران پر فوجی کارروائیوں کو آج چودہ دن مکمل ہو گئے ہیں اور آج کے حملے شدت کے اعتبار سے اب تک کے سب سے بڑے حملے ہوں گے۔‎انہوں نے مزید بتایا کہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کو بڑی حد تک غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ خطے میں موجود اتحادی افواج اور تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

  • تل ابیب اور سعودی عرب سے فضا میں امریکی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی

    تل ابیب اور سعودی عرب سے فضا میں امریکی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی

    امریکی فضائیہ کے KC‑135 ٹینکرز اسرائیل کے شہر تل ابیب اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس میں لڑاکا اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

    فضائی ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر طیارے امریکی فضائی مشنز کی مدد کر رہے ہیں تاکہ جنگی طیارے اور جاسوس طیارے طویل وقت تک ایران کے قریب فضائی گشت اور آپریشن جاری رکھ سکیں۔ ماہرین کے مطابق فضائی ری فیولنگ کسی بھی جدید فضائی جنگ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے طیاروں کو زمین پر واپس آئے بغیر دوبارہ ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے۔فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق KC-135 طیارے بنیادی طور پر لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف طیاروں کی پرواز کا دورانیہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے بلکہ وہ زیادہ فاصلے تک حملے یا نگرانی کے مشن بھی انجام دے سکتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شہزاد ہ سلطان ایئر بیس پر امریکی فضائیہ کی سرگرمیوں میں حالیہ ہفتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ اس اڈے کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی آپریشنز کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے مختلف جنگی اور معاون طیارے خطے میں تعینات کیے جاتے ہیں۔

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،دبئی کی جائیداد مارکیٹ کو شدید خطرات،قیمتوں میں 70 فیصد کمی کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،دبئی کی جائیداد مارکیٹ کو شدید خطرات،قیمتوں میں 70 فیصد کمی کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تازہ معاشی تجزیوں کے مطابق اگر خطے میں جاری تنازعات طویل ہو گئے تو 2026 کے آخر تک دبئی میں جائیدادوں کی قیمتیں 60 سے 70 فیصد تک گر سکتی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق رئیل اسٹیٹ مارکیٹ انڈیکس پہلے ہی تقریباً 20 فیصد تک گر چکا ہے جس کے نتیجے میں 2025 کے دوران ہونے والا تقریباً تمام قیمتوں کا اضافہ ختم ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث ممکنہ خریدار ایسی جائیدادوں میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں جن کی قیمت آنے والے مہینوں میں مزید 30 سے 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو موسمِ گرما 2026 تک دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں کم از کم 50 فیصد تک گر سکتی ہیں جبکہ طویل جنگ کی صورت میں یہ کمی 60 سے 70 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دبئی سے بڑی تعداد میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ مشرقی ایشیا کے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کا رخ سنگا پور اور ہانگ کانگ کی جانب موڑ دیا ہے جبکہ یورپی اور روسی سرمایہ کار تھائی لینڈ،ترکی میں متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ، جو ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں، سیاحوں اور ہائی اینڈ خدمات کی طلب پر انحصار کرتی تھی، اب شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کئی سرمایہ کار تیزی سے اپنی جائیدادیں کم قیمت پر فروخت کر کے مارکیٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جیوپولیٹیکل خطرات، میزائل حملوں کے خدشات اور خلیجی خطے میں اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث دبئی کو اب ایک نسبتاً پرخطر سرمایہ کاری کے علاقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو سابقہ سطح پر واپس آنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے قریب جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اس شہر کی سلامتی اور معاشی استحکام کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  • ایران کے کلسٹر بموں نے صیہونی دارالحکومت کو آگ کے گولوں میں بدل دیا

    ایران کے کلسٹر بموں نے صیہونی دارالحکومت کو آگ کے گولوں میں بدل دیا

    ایران کے کلسٹر بموں نے صیہونی دارالحکومت کو آگ کے گولوں میں بدل دیا،ایرانی کلسٹر میزائل نے تل ابیب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، ایرانی حملوں سے تل ابیب میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی،ہر طرف چیخیں، خوف کی فضا،گاڑیاں جل رہی، آگ کے شعلے آسمان تک بلند ہوتے دکھائی دیئے

    اسرائیلی حکام کے مطابق ایرانی ہتھیاروں کے گرنے والے ملبے کے باعث تل ابیب کے دو نواحی علاقوں میں آگ لگ گئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور جغرافیائی تصدیق سے معلوم ہوا ہے کہ تل ابیب کے مغرب میں واقع شہر شوام میں ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں اور ریسکیو اہلکار آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی طرح تل ابیب کے جنوب میں واقع نواحی علاقے رشون لیزیون میں بھی کئی گاڑیوں کو آگ لگنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایک ویڈیو میں سڑک کے کنارے کھڑی متعدد گاڑیوں کو جلتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بارے میں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آگ میزائل روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی وجہ سے لگی۔

    اسرائیلی پولیس کے ترجمان کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں شوہم میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے اور ممکنہ طور پر ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اسی طرح ریشون لی زیون میں بھی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں گاڑیوں میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔پولیس کے ایک اور ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے وسطی علاقوں میں کئی مقامات پر میزائلوں کے ملبے گرنے کی اطلاعات کے بعد بم ڈسپوزل یونٹس اور فائر فائٹرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں رات کے وقت اسرائیلی فضاء میں متعدد روشن نارنجی چنگاریاں دیکھی گئیں، جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کلسٹر میونیشن سے لیس میزائلوں کے ذیلی حصے تھے۔ ماہرین کے مطابق ایران حالیہ حملوں میں کلسٹر ہتھیاروں کا استعمال کر کے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،امریکا کا میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،امریکا کا میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر تین امریکی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ یہ یونٹ ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل دینے والی فورس ہوتی ہے۔

    حکام کے مطابق میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ عام طور پر تقریباً 2500 میرینز اور بحریہ کے اہلکاروں پر مشتمل ہوتی ہے، جو سمندر اور خشکی دونوں محاذوں پر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس یونٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا یا اسے خطے میں کس مقام پر تعینات کیا جائے گا۔فوجی ماہرین کے مطابق ایسے یونٹس ماضی میں بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائیوں، سمندر سے خشکی تک فوجی آپریشنز، چھاپہ مار کارروائیوں اور حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان یونٹس میں زمینی اور فضائی جنگی دستے بھی شامل ہوتے ہیں، جبکہ بعض دستوں کو خصوصی آپریشنز کے لیے بھی تربیت دی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کی تعیناتی سے امریکی فوجی کمانڈرز کو خطے میں پیدا ہونے والی مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید آپشنز دستیاب ہو جائیں گے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ فی الحال متعلقہ ملک میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے اس تعیناتی کی خبر رپورٹ کی تھی، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نیشنل پریس کلب اسلام آباد انتخابات،صدر،سیکرٹری کی سیٹ ڈیموکریٹک پینل جیت گیا

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد انتخابات،صدر،سیکرٹری کی سیٹ ڈیموکریٹک پینل جیت گیا

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات ،ڈیموکریٹ پینل کے عبدالرزاق سیال 1067 ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے

    جرنلسٹ پینل کی صدارتی امیدوار نیئر علی 1052 ووٹ لے سکیں،ڈیموکریٹ پینل کے فرقان راو 1024 ووٹ لے کر سیکرٹری منتخب ہو گئے،جرنلسٹ پینل کے خالد محمود 1002 ووٹ لے کر رنر آپ رہے،جرنلسٹ پینل کے عابد عباسی 1061 ووٹ لے کر سیکرٹری خزانہ منتخب ہو گئے، ڈیموکریٹ پینل کے خاور نواز راجہ 1032 ووٹ لے سکے

    جرنلسٹ گروپ بیس سال بعد صدر اور سیکرٹری کی دونوں پوزیشن کھو بیٹھا ،اپوزیشن اتحاد نے ایگزیکٹوز کی گیارہ سیٹوں میں سے صدر ، سیکرٹری اور دو نائب صدور کی سیٹیں جیت لیں ،ڈیموکریٹ پینل کے عبدالرزاق سیال 1067 ووٹ لیکر صدر منتخب ہوئے،سیکرٹری کی سیٹ پر ڈیموکریٹ پینل کے ڈاکٹر فرقان راؤ نے 1025 ووٹ حاصل کئے ،فنانس سیکرٹری کی سیٹ پر جرنلسٹ پینل کے عابد عباسی نے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار رکو شکست دی،احتشام الحق نے 1202ووٹ لیکر سینئر نائب صدر منتخب ہو گئے،نائب صدور کی پوزیشن پر جرنلسٹ پینل کی سحر قریشی 1049 ووٹ حاصل کئے،یموکریٹ پینل کے عثمان خان نے 1015ووٹ اور بشیر چوہدری نے 1076ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ، جوائنٹ سیکرٹریز کی چاروں پوزیشن جرنلسٹ پینل کے امیدواران اپنےنام کرنے میں کامیاب رہے،جرنلسٹ گروپ کے شیراز گردیزی ۔1228ووٹ لیکر سینئر جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے،شکیلہ جلیل 1162 ، عون شیرازی نے 1121 اور جاوید بھاگٹ نے 865 ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی،گورننگ باڈی کی پندرہ نشستوں پر نتائج اتوار کو سنائے جائیں گے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ نیشنل پریس کے انتخابات میں نو منتخب صدر رزاق سیال کو کامیابی پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں. پر امید ہوں کہ نیشنل پریس کلب کی نو منتخب کابینہ صحافتی اقدار کی پاسداری اور صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے شب روز محنت کریں گے اور عوامی ایشوز کو اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر احتشام الحق کو سینئر نائب صدر، سحرش قریشی، عثمان خان اور بشیر چوہدری کو نائب صدور، فرقان راؤ کو سیکریٹری، عابد عباسی، شیراز گردیزی، عون شیرازی، جاوید بھاگٹ اور شکیلہ جلیل سمیت تمام کابینہ کو بھی بھرپور مبارکباد. انشاءاللہ ہم مل کر صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔

  • سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو ڈرون کامیابی کے ساتھ مار گرائے ہیں، جس کے نتیجے میں کسی فوجی تنصیب یا اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد تنظیم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دو ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز استعمال کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ڈرونز کو مؤثر کارروائی کے بعد مار گرایا گیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم گرنے والے ملبے کی وجہ سے قریبی علاقے میں معمولی نقصان ہوا، جسے فوری طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ افغان طالبان رجیم خطے میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کیے جانے والے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ افغان وزارت دفاع اور رجیم سے وابستہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کے حوالے سے بدنام ہیں۔حالیہ دنوں میں انہی اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کا ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ پائلٹوں کی گرفتاری سے متعلق بھی بے بنیاد اطلاعات پھیلائی گئیں۔ بعد ازاں افغان رجیم سے منسلک اکاؤنٹس نے خاموشی سے یہ دعوے حذف کر دیے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت سامنے آ کر رہتی ہے اور سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور کسی بھی دہشت گرد خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اب اپنے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر میونیشنز (Cluster Munitions) نصب کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    رات کے وقت اسرائیلی آسمان پر نارنجی روشنی کے چھوٹے چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں خطرے کے سائرن گونج رہے ہوتے ہیں۔ دراصل یہ روشنی کے ذرات چھوٹے بم ہوتے ہیں جو ایک بیلسٹک میزائل کے سرے سے بلند فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر وسیع علاقے میں بکھر کر زمین پر گرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم (بومبلٹس) لے جا سکتے ہیں جبکہ ایران کا ایک میزائل خرمشہر (Khorramshahr) 80 تک بومبلٹس لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر بومبلٹ میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ایران کے دو حملوں میں یہ بومبلٹس 7 سے 8 میل تک پھیلے علاقے میں گرے۔ ان میں گھروں، کاروباری مراکز، سڑکوں اور پارکوں سمیت مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل میں میزائل حملوں سے پہلے وارننگ سسٹم اور بنکرز کی موجودگی شہریوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے تل ابیب کے مضافات میں ایک بومبلٹ گرنے سے دو تعمیراتی مزدور ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مزدور حملے کے وقت کسی محفوظ مقام پر موجود نہیں تھے۔

    کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وسیع علاقے میں بغیر امتیاز کے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آباد علاقوں میں ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ سال ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے مشکل
    اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام نے اگرچہ اکثر بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن چھوٹے بومبلٹس کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔اسرائیلی میزائل ماہر تال انبار کے مطابق ایران کا مقصد فعال میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات اسرائیلی دفاعی نظام میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بومبلٹس زمین پر گر جاتے ہیں، کیونکہ یا تو میزائل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا یا وہ پہلے ہی بومبلٹس چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا ایک مقصد اسرائیل کو اپنے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل زیادہ تعداد میں استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات کئی انٹرسیپٹر داغنے پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ممکنہ طور پر طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایک میزائل بھی اسرائیل کے لاکھوں شہریوں کو بنکروں میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔اسلحہ ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری آبادی میں خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج اور ہوم فرنٹ کمانڈ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ بومبلٹس بعد میں بھی گر سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر پھٹنے والے بومبلٹس کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ جیسی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسی حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل کے فضائی دفاع بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

  • ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    متحدہ عرب امارات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں ایک برطانوی سیاح سمیت 21 افراد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    یہ معلومات قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیم Detained in Dubai نے جاری کی ہیں۔تنظیم کے مطابق 60 سالہ برطانوی سیاح کو پیر کے روز دبئی میں اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جو ایسی تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے یا شیئر کرنے سے روکتا ہے جو عوام میں خوف و ہراس یا افواہیں پھیلانے کا باعث بن سکتی ہوں۔
    برطانوی سیاح نے مبینہ طور پر اپنے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی ویڈیو بنائی تھی تاہم پولیس کی ہدایت پر اس نے ویڈیو فوراً حذف کر دی۔ اس کے باوجود حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔تنظیم کی سربراہ کے مطابق اس شخص سمیت 20 دیگر افراد کو بھی اسی فردِ جرم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت صرف ویڈیو شیئر کرنے ہی نہیں بلکہ اسے دوبارہ پوسٹ کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے والے افراد کو بھی مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو کے باعث درجنوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بن سکتے ہیں کیونکہ حکام ان سرگرمیوں کو جھوٹی خبروں، افواہوں یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت قرار دے سکتے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ایک علیحدہ واقعے میں دبئی یونیورسٹی کے ایک بھارتی طالب علم کو بھی پام آئی لینڈز کے قریب میزائل حملے کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ طالب علم نے ویڈیو صرف اپنے اہلِ خانہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی تھی، تاہم وہ اب بھی حکام کی تحویل میں ہے۔تنظیم کے مطابق اس سے قبل دو فرانسیسی شہریوں کو بھی میزائلوں کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بغیر کسی مقدمے کے رہا کر دیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم دو سال قید اور دو لاکھ درہم (تقریباً 54 ہزار امریکی ڈالر) جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایک شخص پر متعدد الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ امارات میں ایک برطانوی شہری کی گرفتاری کے معاملے پر مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات یا حملوں کے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے قومی سلامتی اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے شہریوں اور غیر ملکیوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں۔

    سرکاری حکام کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے “شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، افواہیں پھیلانا جرم ہے۔”

  • افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کی عبوری حکومت باز نہ آئی، پاکستان کی طرف ڈرون بھیج دیئے،راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شام ڈرون سرگرمیوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ احتیاطی اقدامات کے طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو ڈرون پشاور اور دیگر شمالی علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے اٹک کے راستے راولپنڈی کی سمت بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر یہ ڈرون اٹک شہر کے اوپر سے گزرے اور ان کی ممکنہ سمت واہ کینٹ اور اسلام آباد بتائی جا رہی تھی۔دوسری جانب کوہاٹ کینٹ کے علاقے میں مبینہ کامی کازی ڈرون حملے کی تین مختلف جگہوں پر اطلاعات موصول ہوئیں۔پہلا دھماکہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔دوسرا واقعہ صبح 8 بج کر 55 منٹ پر پاک فضائیہ کے آفیسرز میس کے قریب پیش آیا جبکہ تیسرا واقعہ صبح 9 بج کر 7 منٹ پر پاک فضائیہ کے افسران کی رہائشی کالونی کے قریب لاگ ہاؤس کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ابھی ان مقامات کا مکمل تکنیکی تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر 13 مارچ 2026 کو شام تقریباً 7 بجے راولپنڈی کے حمزہ کیمپ میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق ڈرون بلاک 28 کی افسران کی رہائش گاہ کی بالائی منزل سے ٹکرایا تاہم خوش قسمتی سے اس میں دھماکہ نہیں ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مزید اطلاعات کے مطابق ایک اور ڈرون اسلام آباد کے سیکٹر I-8 کے قریب گرنے یا ٹکرانے کی خبر بھی زیر گردش ہے،

    صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے 100 فیصد اسٹینڈ ٹو نافذ کر دیا ہے، کینٹ کے تمام چیک پوسٹس بند کر دی گئی ہیں اور صرف محدود آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ فوری ردعمل کی فورسز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے جبکہ سی ایم ایچ کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر حساس مقامات کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔