Baaghi TV

امریکی B52 بمبار طیاروں کا آج رات ایران پر حملہ کا امکان

b52

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے برطانیہ کے اہم فوجی اڈے فیئر فورڈ ایئر بیس پر اپنے مزید اسٹریٹجک بمبار طیارے تعینات کر دیے ہیں، جس کے بعد ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکی وزیر دفاع کی جانب سے آج رات ایران کے خلاف بڑی کاروائی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ آج امریکہ کی جانب سے ان طیاروں سے حملہ کیا جائے گا

اطلاعات کے مطابق آج مزید 3 امریکی B-52 اسٹریٹجک بمبار اس اڈے پر پہنچے ہیں۔ اس وقت اس بیس پر مجموعی طور پر 6 B-52 Stratofortress اور 12 B-1B Lancer بمبار موجود ہیں، جو طویل فاصلے تک بھاری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے ایران کے اندر حملوں کو “جنگ کا سب سے شدید مرحلہ” قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ 
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور جنگ کے دوران مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی کارروائیاں روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور آج ایران پر حملوں کا سب سے سخت دن ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت کے اہم رہنما زیر زمین پناہ گاہوں میں چلے گئے ہیں۔‎اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ ایران پر فوجی کارروائیوں کو آج چودہ دن مکمل ہو گئے ہیں اور آج کے حملے شدت کے اعتبار سے اب تک کے سب سے بڑے حملے ہوں گے۔‎انہوں نے مزید بتایا کہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کو بڑی حد تک غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ خطے میں موجود اتحادی افواج اور تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

More posts