Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس،محرم الحرام سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ

    طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس،محرم الحرام سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے لیے تیار کیے گئے سکیورٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ مجموعی انتظامات کا جامع جائزہ بھی لیا گیا۔ شرکاء نے امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کو مزید مؤثر اور فول پروف بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔طلال چوہدری نے ہوم سیکرٹریز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو سکیورٹی اقدامات مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

    اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ وزیر مملکت نے صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے درکار معاونت اور ضروریات سے وفاقی حکومت کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ فوری اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔

  • محرم الحرام کے موقع پر پنجاب بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

    محرم الحرام کے موقع پر پنجاب بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

    عاشورۂ محرم الحرام کے موقع پر پنجاب بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب نے 9ویں محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے پرامن انعقاد کے لیے صوبہ بھر میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق عاشورۂ محرم کے دوران صوبے بھر میں ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ 9ویں محرم کو لاہور سمیت پورے پنجاب میں 70 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔پنجاب بھر میں 1697 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 3869 مجالس منعقد کی جائیں گی۔ ان میں اے کیٹیگری کے 208 جلوس اور 337 مجالس شامل ہیں۔ لاہور میں 81 عزاداری جلوس اور 386 مجالس منعقد ہو رہی ہیں، جن میں اے کیٹیگری کے 26 جلوس اور 46 مجالس شامل ہیں۔

    آئی جی پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ شرپسند عناصر، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور دفعہ 144 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی لیڈرز، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے 9ویں محرم کا پرامن انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے علما کرام اور کمیونٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور برداشت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ آئی جی پنجاب کے مطابق آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ٹریفک افسران خود سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    محکمہ داخلہ، سیف سٹیز اتھارٹی اور مختلف کنٹرول رومز سے سکیورٹی انتظامات کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈٹیکٹرز اور جدید سکیورٹی آلات کے ذریعے چیکنگ کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق عزاداری جلوسوں کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات ہیں جبکہ جلوسوں کے ساتھ سادہ لباس میں کمانڈوز بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ صوبائی وزرا، علما کرام، پاک فوج، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے، جس کی بدولت محرم الحرام کے تمام پروگراموں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  • اسرائیل کا امریکا سے تل ابیب ائیرپورٹ خالی کرنے کا مطالبہ

    اسرائیل کا امریکا سے تل ابیب ائیرپورٹ خالی کرنے کا مطالبہ

    اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب کے مرکزی بن گورین ائیرپورٹ پر موجود فوجی اور ایندھن بردار طیاروں کی تعداد کم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ بن گورین ائیرپورٹ سے مزید امریکی ایندھن بردار اور فوجی طیارے منتقل کیے جائیں تاکہ شہری پروازوں کی روانی متاثر نہ ہو۔رپورٹس کے مطابق امریکا پہلے ہی بن گورین ائیرپورٹ سے 28 ایندھن بردار طیارے دوسری جگہ منتقل کر چکا ہے، تاہم اسرائیل نے مزید 20 فوجی طیارے بھی ہٹانے کی درخواست کی ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران مسافر پروازوں میں اضافے کے باعث ائیرپورٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی شہری فضائی آپریشنز میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

    اسرائیل نے بن گورین ائیرپورٹ پر تعینات امریکی فوجی طیاروں کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مسافر پروازوں کی آمد و رفت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر اسرائیلی اور امریکی حکام کے درمیان سفارتی رابطے اور مشاورت جاری ہے، جبکہ طیاروں کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • گلگت،برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جان کی بازی ہار گیا

    گلگت،برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جان کی بازی ہار گیا

    گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کی خوبصورت وادی ہوشے میں واقع 7,282 میٹر بلند بلتستان پیک سر کرنے کی بین الاقوامی مہم اس وقت سانحے کا شکار ہو گئی جب برفانی تودہ گرنے سے ایک فرانسیسی کوہ پیما جان کی بازی ہار گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق 40 سالہ فرانسیسی کوہ پیما پیئر گیلوم تین رکنی بین الاقوامی مہم کا حصہ تھا، جو بلتستان پیک کی چوٹی سر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چڑھائی کے دوران اچانک برف اور چٹانوں کا تودہ کوہ پیما پر آ گرا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔حادثے کے فوری بعد متعلقہ اداروں نے سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ امدادی ٹیمیں دشوار گزار اور برف پوش علاقے میں زخمی کوہ پیماؤں تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔گلگت بلتستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) طفیل احمد میر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور تمام متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق جاں بحق کوہ پیما کی شناخت فرانسیسی شہری پیئر گیلوم کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت اور حادثے سے متعلق مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی دشوار جغرافیائی صورتحال اور غیر یقینی موسمی حالات کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر دنیا کی بلند اور خطرناک چوٹیوں پر کوہ پیمائی کے دوران درپیش خطرات کو اجاگر کر دیا ہے

  • وینزویلا میں زلزلے کے جھٹکے،ہر طرف تباہی،32ہلاک، 700 زخمی

    وینزویلا میں زلزلے کے جھٹکے،ہر طرف تباہی،32ہلاک، 700 زخمی

    وینزویلا میں پے در پے زلزلے کے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی اور ہزاروں اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق وینزویلا میں پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا تھا جس کے چند منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آیا جس سے عمارتیں لرز اٹھیں،رپورٹ کے مطابق زلزلے سے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 32 افراد کی ہلاکت اور 700 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے،حکومت کی جانب سے ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔وینزویلا میں ایمرجنسی نافذ،سکول اورٹرین سروس معطل،موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثرہوئی ہے، زلزلے سے تباہی کے بعد وینزویلا کا مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ بند کر دیاگیا

    اس کے علاوہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا جس کی شدت 5.6 نوٹ کی گئی اور 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔امریکی جیولیوجیکل سروے نے وینزویلا میں زلزلے کے باعث دس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان اموات اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں زلزلے سے ابتدائی رپورٹ اچھی نہیں، بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں، امریکی اداروں کو فوری مدد کی ہدایت کردی ہے

  • بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں 25ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں لمحہ فکریہ ہیں، سیف اللہ قصوری

    بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں 25ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں لمحہ فکریہ ہیں، سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں 25ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں لمحہ فکریہ ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب عوام کو بھکاری بنانے کا پروگرام ہے، اس کو فوری ختم کیا جائے اور اس کی مد میں خرچ ہونے والی رقم انہی خواتین کو ہنر مند بنانے پر خرچ کی جائے

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مالی سال 2024-25ء کیلئے آڈٹ سال 2025-26ء کی رپورٹ غریب عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے اور قومی خزانے کی بدترین لوٹ مار کا ناقابل تردید ثبوت ہے، چھ لاکھ سے زائد نااہل افراد کو اربوں روپے کی ادائیگیوں سے واضح ہوتا ہے کہ بی آئی ایس پی میں شفافیت، نگرانی اور احتساب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے،سرکاری ملازمین، پنشنرز، گاڑیوں کے مالکان، دہری رجسٹریشن رکھنے والے افراد اور جعلی اندراجات کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ حقیقی مستحقین اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اسکینڈل کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ آڈٹ رپورٹ میں جن افسران، اہلکاروں اور عناصر کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہوتی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے،فلاحی منصوبوں کو سیاسی مقاصد اور کرپٹ نیٹ ورکس کے لیے استعمال کرنا قومی جرم ہے، بی آئی ایس پی کے تمام مشکوک ریکارڈز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے اور تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ قومی دولت کی لوٹ مار کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔

  • برطانیہ کے خصوصی ایلچی کی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق

    برطانیہ کے خصوصی ایلچی کی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق

    برطانیہ کے خصوصی ایلچی نے ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق کی اور پاکستان کے حقِ دفاعِ پر زور دیا

    ایک ٹی وی انٹرویو میں برطانیہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ لنڈسے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کابل اور قندہار میں موجود حکام کو افغان سرزمین سے جنم لینے والے خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی کیمپوں، اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور سرحد پار سہولت کاری کا وجود خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہر ریاست کو واضح دہشت گرد خطرات کے خلاف اپنے دفاع کا جائز اور قانونی حق حاصل ہے۔

    رچرڈ لنڈسے کے بیانات اس بین الاقوامی مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔انٹرویو میں افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کی موجودگی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کو اجاگر کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کابل اور قندہار کے حکام کو اس حوالے سے مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔محفوظ ٹھکانے، تربیتی مراکز، اسلحے کی ترسیل اور دہشت گرد عناصر کو مالی معاونت پاکستان اور پورے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو فروغ دینے والے عوامل ہیں۔

    برطانوی خصوصی ایلچی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاستوں کو واضح اور فوری نوعیت کے دہشت گرد خطرات کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا جائز حق حاصل ہے، اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اسی اصولِ دفاعِ خودی پر مبنی ہوتے ہیں۔لنڈسے نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کا سدباب کرنا اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ان افراد کی ذمہ داری ہے جو اس وقت افغانستان میں اختیار رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، مالی و لاجسٹک معاونت کے نظام کو توڑنے اور دہشت گرد عناصر کو سرحدی علاقوں سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

    یہ انٹرویو ٹی ٹی پی کی مسلسل سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر پر زور دیتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو تشدد جاری رکھنے کے لیے درکار جگہ اور معاونت سے محروم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

  • علیمہ خان کی وفاقی و صوبائی وزرا  کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد

    علیمہ خان کی وفاقی و صوبائی وزرا کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد

    انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں علیمہ خان کی جانب سے وفاقی و صوبائی وزرا سمیت 21 افراد کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

    اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے دو وفاقی وزرا اور ایک صوبائی وزیر کو عدالتی گواہ کے طور پر طلب کرنے کی استدعا خارج کر دی۔عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمے کے ٹرائل کے دوران استغاثہ کے 19 گواہان پر تفصیلی اور طویل جرح کی جا چکی ہے، لہٰذا عدالتی گواہان کو طلب کر کے اسی نوعیت کی کارروائی دوبارہ نہیں دہرائی جا سکتی۔

    علیمہ خان نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے کے حقائق واضح کرنے کے لیے دو وفاقی وزرا، ایک صوبائی وزیر اور دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر 21 گواہان کو طلب کیا جائے۔سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالتی گواہان کو طلب کرنے کی درخواست کی مخالفت میں دلائل دیے، جبکہ علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے گزشتہ ہفتے درخواست کے حق میں اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔دالت کے فیصلے کے بعد مقدمے کی مزید کارروائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

  • آئین پر عمل نہیں ہو رہا تو اپنے گریباں میں جھانکیں،فاروق ستار

    آئین پر عمل نہیں ہو رہا تو اپنے گریباں میں جھانکیں،فاروق ستار

    ایم کیو ایم کے رہنما رہنما فاروق ستار نے کہا ہےکہ اگر کراچی کی طرف توجہ نہ دی گئی تو کراچی ایکشن کمیٹی بھی بنے گی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کوئی 100 فیصد درست نہیں، ہم 100 فیصد اپوزیشن کو غلط کہہ سکتے ہیں نہ 100فیصد خود کو درست، دونوں جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر آئین پر عمل نہیں ہو رہا تو اپنے گریباں میں جھانکیں، آرٹیکل 7، 32 اور آرٹیکل 40 اے پرکوئی بات نہیں کرتا،ہمیں ایک قومی مصالحت اور قومی مفاہمت کی ضرورت ہے،آج آپ مسائل کو ایڈریس کریں ورنہ پھرکراچی سمیت دیگر شہروں سے انہیں وفاق کے زیرانتظام ہونے کا مطالبہ آئےگا، اگر آپ نے اس طرف توجہ نہ دی تو کراچی ایکشن کمیٹی بھی بنے گی

    ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے تحریک کے مرکزی رہنما زاہد ملک کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور سید امین الحق بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے ،خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کو مسائل سے نجات دلانے کا اہم قدم بن سکتا ہےآئین میں آرٹیکل 140 اے کی ترمیم کی جدوجہد جاری رکھیں گے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں تنظیم سازی سے متعلق کاوشوں پر زاہد ملک کے جذبے اور کام کو سراہا ،زاہد ملک کا کہنا تھا کہ تحریک کو متحد رکھنے میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تاریخی کردار ادا کیا،زاہد ملک نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو پنجاب میں تنظیم سازی سے متعلق امور پر بریف کیا ،زاہد ملک نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق تیاری اور تنظیمی سرگرمیوں سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی

  • بلاول زرداری سے علیم خان کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    بلاول زرداری سے علیم خان کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول زرداری اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں گلگت بلتستان میں حکومت سازی سمیت باہمی سیاسی تعاون اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی اور باہمی دلچسپی کے مختلف سیاسی معاملات پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان میں آئندہ بھی سیاسی تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے عون چوہدری، گل اصغر بگھور اور منزہ حسن نے ملاقات میں شرکت کی۔سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو گلگت بلتستان کی آئندہ سیاسی صورتحال اور حکومت سازی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کے امکانات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔