Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور میں نہ لایا جائے، سعد رفیق کا بلاول کو جواب

    کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور میں نہ لایا جائے، سعد رفیق کا بلاول کو جواب

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں جس انداز سے بلدیاتی انتخابات ہوئے، اس سے بہتر ہے کہ ایسے انتخابات نہ ہی کرائے جائیں۔

    اپنے بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ مطالبہ درست ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں بلدیاتی نظام لایا جائے، لیکن یہ نظام کراچی جیسا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے طرز پر الیکشن کرانے سے بہتر ہے کہ انتخابات نہ کرائے جائیں۔ ان کے مطابق لاہور پر کراچی جیسا بلدیاتی نظام نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔سعد رفیق نے مزید کہا کہ اگر کسی کو ان کے مؤقف کی مزید تفصیل جاننی ہو تو وہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان یا ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی حکومتیں موجود ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور میں بھی نافذ کیا جائے اور اسلام آباد میں بھی بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور گلگت بلتستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔

  • سوات،اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی دم توڑ گئی، دو ملزمان گرفتار

    سوات،اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی دم توڑ گئی، دو ملزمان گرفتار

    سوات: سوات میں اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید افسوس اور غم کی لہر دوڑ گئی۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد لڑکی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔

  • صرف کراچی کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔شرمیلا فاروقی

    صرف کراچی کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کراچی میں شہری مسائل کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، اس لیے صرف کراچی کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔

    شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ اس وقت فرانس شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں گرمی کے باعث متعدد افراد نہانے کے لیے پانی میں گئے اور مختلف حادثات میں تقریباً 40 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدا نہ کرے ایسا ہی کوئی افسوسناک واقعہ کراچی میں پیش آتا تو فوراً وزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا جاتا۔شرمیلا فاروقی نے مزید کہا کہ گزشتہ سال وہ نیویارک میں موجود تھیں، جہاں شدید بارشوں کے باعث انہیں دو روز تک ہوٹل سے باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے بقول نیویارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی، جہاں نکاسیٔ آب کا منظم نظام موجود ہے، موسمی حالات کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر بڑے شہر میں مختلف نوعیت کے مسائل پیش آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لیں، ان کا اعتراف کریں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے نظام میں خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ شہری مسائل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    واضح رہے کہ چند ماہ قبل شرمیلا فاروقی نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کراچی کا موازنہ پیرس سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہ رہے ہوں”، جس پر انہیں سوشل میڈیا اور مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • اسرائیلی صدر کے ہیلی کاپٹر سے پرندہ ٹکرا گیا، ہنگامی لینڈنگ

    اسرائیلی صدر کے ہیلی کاپٹر سے پرندہ ٹکرا گیا، ہنگامی لینڈنگ

    مقبوضہ بیت المقدس سے شمالی اسرائیل جانے والے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ہیلی کاپٹر کو دورانِ پرواز ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جب ایک پرندہ ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا، جس کے باعث پائلٹ کو احتیاطی طور پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر اسحاق ہرزوگ سرکاری دورے پر شمالی اسرائیل جا رہے تھے۔ پرندہ ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد فضائی عملے نے حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر قریبی مقام پر ہیلی کاپٹر اتارنے کا فیصلہ کیا۔رپورٹس کے مطابق ہنگامی لینڈنگ کامیابی سے مکمل ہوئی اور واقعے میں صدر اسحاق ہرزوگ، فضائی عملے یا دیگر کسی بھی شخص کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم احتیاطی معائنے کے لیے اسے سروس سے ہٹا دیا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ کو متبادل ہیلی کاپٹر فراہم کیا گیا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔فضائی ماہرین کے مطابق پرندوں کے طیاروں یا ہیلی کاپٹروں سے ٹکرانے کے واقعات، جنہیں "برڈ اسٹرائیک” کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں فضائی سفر کے دوران پیش آنے والے عام خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں حفاظتی اصولوں کے مطابق احتیاطی لینڈنگ کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

  • کینیڈین ائیرلائن کے مسافر طیارے کے پائلٹ کی طبیعت خراب،ہنگامی لینڈنگ

    کینیڈین ائیرلائن کے مسافر طیارے کے پائلٹ کی طبیعت خراب،ہنگامی لینڈنگ

    کینیڈین ائیرلائن کے مسافر طیارے کے دورانِ پرواز پائلٹ کی اچانک طبیعت خراب ہونے کے باعث پرواز کو ہنگامی طور پر اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا، تاہم فرسٹ آفیسر کی بروقت کارروائی سے طیارے کو بحفاظت بوسٹن میں اتار لیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین ائیرلائن کی پرواز امریکی ریاست نیو جرسی سے کینیڈا جا رہی تھی کہ دورانِ سفر مرکزی پائلٹ کو اچانک طبی مسئلہ پیش آیا۔ اس صورتحال کے باعث طیارہ ایک لمحے کے لیے جھٹکے سے اپنے معمول کے راستے سے ہٹ گیا، جس پر کاک پٹ میں موجود فرسٹ آفیسر نے فوری طور پر طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ائیرلائن حکام کے مطابق حفاظتی ضوابط پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ پائلٹ کو عملے کی مدد سے کاک پٹ سے باہر منتقل کیا گیا، جبکہ فرسٹ آفیسر نے قریبی ہوائی اڈے کا رخ کرتے ہوئے طیارے کو امریکی شہر بوسٹن میں بحفاظت ایمرجنسی لینڈ کر دیا۔

    حکام نے بتایا کہ طیارے میں عملے کے ارکان کے علاوہ 61 مسافر سوار تھے اور ہنگامی لینڈنگ کے دوران کسی مسافر یا عملے کے رکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ متاثرہ پائلٹ کو فوری طور پر بوسٹن کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم ان کی طبی حالت یا بیماری کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ادھر ایک مسافر نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کو بظاہر دورے پڑ رہے تھے اور یہ کیفیت تقریباً 40 منٹ تک برقرار رہی۔واقعے کے بعد ایوی ایشن حکام نے معمول کے مطابق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ دورانِ پرواز پیش آنے والی اس ہنگامی صورتحال کی وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے، جبکہ مسافروں نے فرسٹ آفیسر اور فضائی عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائی کے باعث ایک ممکنہ حادثہ ٹل گیا۔

  • اسلام آباد،  انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف،5 گرفتار

    اسلام آباد، انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف،5 گرفتار

    وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف سامنے آیا ہے

    ہیومن پلیسینٹا بیرون ملک اسمگل کرنے والا گینگ گرفتار کر لیا گیا،ایف آئی اے اسلام آباد زون کی رات گئے بڑی کارروائی،مصدقہ اطلاع پر سیکٹر ایف سیون اسلام آباد میں واقع ایک گھر میں چھاپہ مارا گیا،چھاپے کے دوران مذکورہ گھر میں انسانی اعضاء بالخصوص ہیومن پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے مکمل پلانٹ قائم پایا گیا,ترجمان ایف آئی اے کے مطابق انکشاف ہوا کہ ملزمان مذکورہ پلانٹ میں ہیومن پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس اور ڈرائے کرتے تھے,تیار شدہ مصنوعات "شی پلیسینٹا” کے نام سے بیرون ملک ویتنام برآمد کی جاتی تھیں,کارروائی میں 5 ملزمان گرفتار، جن میں 3 چینی شہری اور 2 پاکستانی شہری شامل ہیں،اسی نیٹ ورک کی نشاندہی پر ایف سیون / ای الیون سیکٹر اسلام آباد میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا گیا,مذکورہ مقام پر بھی اسی نوعیت کا ایک مکمل پروسیسنگ سینٹر فعال پایا گیا,ملزمان کے قبضے سے پراسیسنگ کے آلات اور تیار شدہ مال برآمد کر لیا گیا,استغاثہ پر ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا,

  • یومِ عاشور،ملک بھر میں  جلوس برآمد، سخت سیکیورٹی انتظامات

    یومِ عاشور،ملک بھر میں جلوس برآمد، سخت سیکیورٹی انتظامات

    اسلام آباد: نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار 72 رفقاء کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں شبیہِ علم، تابوت اور ذوالجناح کے جلوس برآمد کیے جا رہے ہیں، جبکہ عزادار حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک میں مرکزی مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا، جہاں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مقررہ مقام پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ادھر کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ پر واقع شہداء چوک سے برآمد ہوا۔ جلوس کے روٹس کی جانب جانے والے تمام راستے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ راستے میں واقع تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بند رکھے گئے ہیں۔ جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مغرب کے وقت علمدار روڈ پر واقع مومن آباد امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔کوئٹہ میں شبیہِ ذوالجناح، تعزیوں اور علموں پر مشتمل جلوس 35 دستوں پر مشتمل ہے، جس کی قیادت بلوچستان شیعہ کانفرنس کے قائدین کر رہے ہیں۔ شیعہ کانفرنس کے مطابق جلوس کے ساتھ تقریباً 1200 رضاکار مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ عزاداروں کی سہولت کے لیے راستے میں 30 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق یومِ عاشور کے موقع پر کوئٹہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایف سی، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے 17 ہزار اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ جلوس کے راستوں کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

    لاہور میں نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ کی جانب گامزن ہے۔ جلوس میں ہزاروں عزادار مرد، خواتین اور بچے شریک ہیں اور مختلف مقامات پر نوحہ خوانی، ماتم اور مجالسِ عزا کا سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح پشاور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور دیگر شہروں میں بھی یومِ عاشور کے مرکزی جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون نگرانی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

    یومِ عاشور کے موقع پر حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں تین روز کی بھوک اور پیاس کے بعد دی جانے والی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں سبیلوں اور نیاز کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے عزاداروں اور شہریوں میں ٹھنڈے پانی، شربت اور کھانے کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔دریں اثنا صدر مملکت اور وزیر اعظم نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا حق، انصاف، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا لازوال درس دیتا ہے، جس سے پوری امت مسلمہ کو رہنمائی حاصل ہوتی رہے گی۔

  • کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی  کا دورہ

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی رپورٹر ( شاہد خان ) کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے سلسلے میں ہسپتال میں کیے گئے خصوصی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے ایم ایس ڈاکٹر ارسلان احمد شاہ، ڈی ایم ایس ڈاکٹر ایمن واحد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی سروسز کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے مریضوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور علاج معالجے کے معیار اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
    دورے کے دوران کمشنر نے ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری چیک کی اور ہدایت کی کہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کے ذخائر، طبی آلات کی فعالیت اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم سمیت مختلف انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
    اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہدایت کی کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام طبی اور انسانی وسائل مکمل طور پر فعال رکھے جائیں تاکہ عزاداران اور عوام کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ہسپتال انتظامیہ نے کمشنر کو محرم الحرام کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات، ایمرجنسی پلان، اضافی عملے کی تعیناتی اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمشنر نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔

  • کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و  اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پولیس اور بھارتی فوج کے درمیان ایک غیرمعمولی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہونے، اہلکاروں پر تشدد کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن پر حملے، اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقدمے میں ایک کمانڈنگ آفیسر، ایک میجر، ایک نائب صوبیدار سمیت دیگر فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 30 سے 40 نامعلوم فوجی اہلکاروں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 17/2026، 24 جون کو پولیس اسٹیشن اتھولی میں درج کی گئی۔ مقدمے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی 17 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں اقدامِ قتل، سرکاری ملازمین پر حملہ، غیر قانونی داخلہ، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ’’پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ‘‘ کی دفعہ 3(1) بھی عائد کی گئی ہے۔پولیس کی شکایت کے مطابق واقعہ دوپہر 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان پیش آیا۔ اس وقت پولیس اسٹیشن اتھولی کے ایس ایچ او ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے پڈر کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں موجود تھے، جہاں ضلع کمشنر تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سنگین واقعہ رونما ہوا ہے، جس پر وہ فوری طور پر واپس روانہ ہوئے۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 سے 40 فوجی اہلکار اپنے کمانڈنگ آفیسر کی ہدایات پر پولیس اسٹیشن پہنچے۔ پولیس کا الزام ہے کہ فوجی اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، اسلحے اور گولہ بارود سے لیس تھے اور انہوں نے مرکزی دروازے اور چار دیواری عبور کرکے زبردستی پولیس اسٹیشن میں داخلہ حاصل کیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے اندر موجود اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق جب ایس ایچ او موقع پر واپس پہنچے تو ایک میجر کی قیادت میں موجود فوجی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان پر بھی حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑ دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس آفیسر وجے کمار بھگت سمیت متعدد اہلکاروں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس کے مطابق اسپیشل پولیس آفیسر سریش کمار کو رائفل کے بٹ سے گردن پر وار کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔واقعے کے وقت کشتواڑ کے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر اور ان کے ذاتی سکیورٹی اہلکار بھی پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    شکایت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ARTO، SHO اور SDPO کی سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب بھارتی فوج نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتھولی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کا معاملہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت زیر غور ہے۔ فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج قانونی کارروائی اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی اور مشترکہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی تفصیلی شکایت کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی یا تصادم کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اور بیانات سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت واضح ہو سکے گی۔

  • عاشورہ 10 محرم الحرام: اوکاڑہ پولیس کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    عاشورہ 10 محرم الحرام: اوکاڑہ پولیس کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    44 جلوس اور 18 مجالس کی سیکیورٹی کے لیے 2400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات، ڈرون، سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی

    اوکاڑہ : (نامہ نگار ملک ظفر ) ضلع اوکاڑہ میں 10 محرم الحرام (عاشورہ) کے موقع پر امن و امان کے قیام، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور عزاداران کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اوکاڑہ پولیس نے جامع اور فول پروف سیکیورٹی پلان مرتب کر لیا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے مطابق ضلع بھر میں عاشورہ کے روز 18 مجالس اور 44 جلوس برآمد ہوں گے جن کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ڈی پی او اوکاڑہ نے بتایا کہ ضلع میں برآمد ہونے والے 44 جلوسوں میں 24 لائسنسی جبکہ 20 روایتی جلوس شامل ہیں۔ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے 9 جلوسوں کو کیٹیگری اے، 19 کو کیٹیگری بی اور 16 جلوسوں کو کیٹیگری سی میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح منعقد ہونے والی 18 مجالس میں سے 2 مجالس کیٹیگری اے، 6 مجالس کیٹیگری بی اور 10 مجالس کیٹیگری سی میں شامل ہیں۔
    ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے مطابق عاشورہ محرم الحرام کے موقع پر 2400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت ایک ایس پی، 7 ڈی ایس پیز، 26 انسپکٹرز، 101 سب انسپکٹرز، 186 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 64 ہیڈ کانسٹیبلز، 106 لیڈی پولیس اہلکاروں اور 1945 کانسٹیبلز کو مختلف ڈیوٹی پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈرون کیمروں، سیف سٹی کیمروں، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور سرویلنس وینز کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ڈی پی او اوکاڑہ نے مزید بتایا کہ انتظامی اور سیکیورٹی امور کو مؤثر بنانے کے لیے ضلع کو 5 سیکٹرز اور 21 سب سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ ڈیوٹی کی نگرانی کے لیے 8 خصوصی ویجیلنس ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ روف ٹاپ ڈیوٹی کے علاوہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی جلوسوں اور مجالس کے روٹس پر تعینات رہیں گے تاکہ مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
    سیکیورٹی انتظامات کے تحت مجالس اور جلوسوں کے راستوں کو خاردار تاروں اور قناتوں کے ذریعے محفوظ بنایا جائے گا جبکہ عزاداران کی سہولت اور شہریوں کی مشکلات میں کمی کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر کے متبادل راستوں کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔
    ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے کہا کہ ضلعی کنٹرول روم کو ڈی ایس پی لیگل کی زیر نگرانی فعال کر دیا گیا ہے۔ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال، مشکوک سرگرمی یا مشتبہ فرد کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے 044-7132244، 044-9200093 یا پکار 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
    انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    آخر میں ڈی پی او اوکاڑہ نے شہریوں، علمائے کرام، منتظمین مجالس و جلوس اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ پرامن معاشرے کے قیام، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ عاشورہ محرم الحرام کے تمام پروگرامز پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں۔