Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام

    پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام

    پنجگور: بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کی ایک بڑی سازش ناکام بنا دی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی سامان برآمد کر لیا۔ کارروائی کے دوران ایک گاڑی سے چار راکٹ فیوز، متعدد دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) اور دیگر حساس مواد قبضے میں لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد کسی بڑے دہشت گرد حملے میں استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں علاقے کو ممکنہ بڑی تباہی اور جانی نقصان سے محفوظ بنا لیا گیا۔ فورسز نے برآمد شدہ مواد کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک اور اس کے سہولت کاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔علاقے کے مکینوں نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہری کا پاکستان کی عسکری قیادت  سے والہانہ محبت کااظہار

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہری کا پاکستان کی عسکری قیادت سے والہانہ محبت کااظہار

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہری کا پاکستان کی عسکری قیادت سے والہانہ محبت کااظہار سامنے آیا ہے

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہری نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیخلاف سخت ایکشن لینےکی اپیل کر دی، سری نگر کے لال چوک سےکشمیری شہری کاویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں شہری کا کہنا تھا کہ امریکا، ایران امن معاہدے کے پس پردہ پاکستان کی عسکری قیادت کا اہم کردار ہے. جنگ بندی کرانے پر پاکستانی عسکری قیادت کوسلام پیش کرتےہیں.مقبوضہ جموں وکشمیرکے شہری نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کوبھی آڑے ہاتھوں لےلیا.

    مقبوضہ کشمیر کےشہری نےکالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ قراردے دیا،کہاآزادجموں وکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی بھارتی ایجنڈے پر کام کررہی ہے.بیرونی طاقتوں کےایجنڈے پر کام کرنے والوں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے. پورا یقین ہےکہ فیلڈ مارشل سیدعاصم منیرمقبوضہ کشمیرسےاٹھنے والی آوازوں کاساتھ دینگے.

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوبڑا جھٹکا،باغ سے  کور ممبر افتخار  محمود کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوبڑا جھٹکا،باغ سے کور ممبر افتخار محمود کا لاتعلقی کا اعلان

    بیرونی ایماء پر آزاد جموں و کشمیر میں افراتفری اور قتل وغارت پھیلانے والی انتشاری کمیٹی سے اپنے ارکان بھی لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں،کور ممبر افتخار محمود نے ویڈیو پیغام میں کالعدم کمیٹی کے انتشار کو مسترد کر کے نوجوانوں کو مثبت سیاست کی جانب واپس آنے کی اپیل کر دی

    باغ سے تعلق رکھنے والے کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور ممبر افتخار محمود نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بطور کور ممبر وچیئرمین آل آزاد کشمیرانجمن تاجران انتشاری کمیٹی کی سرگرمیوں سے شدید اختلاف کرتا ہوں،ریاست مخالف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث کالعدم ایکشن کمیٹی سے مکمل لاتعلقی اور بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں، ہماری پرامن تحریک کا رخ موڑ کر اسے پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کیاگیا ہے، انتشاری کمیٹی کے کچھ لوگ پاکستان کیخلاف زہرالگنے کیلئے پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں ، نوجوانوں اپنے مستقبل کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ، ریاست پاکستان کیخلاف اٹھنے والی کسی آواز ،سرگرمی یا پھرعلیحدگی پسند تنظیم سے نہ ہمارا کوئی تعلق نہیں،

    کورممبر افتخار محمود سے قبل کورممبرانجم زمان اور امجد علی خان ایڈووکیٹ بھی کالعدم ایکشن کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کر چکےہیں ،ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم کمیٹی کےکورممبر افتخار محمود کی طرف سے دیئے جانے والے پیغام سے شرپسند ٹولے کا انتشاری ایجنڈا کھل کر سامنے آگیا ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبران کی علیحدگی سے واضح ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کےعوام اس انتشاری کمیٹی کے مذموم مقاصد کو خود ناکام بنا رہے ہیں ،

  • رومبور،  نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور، نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور (فتح اللہ) لوئر چترال کی وادی رمبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبے کے خلاف مقامی عوام نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

    احتجاجی اجتماع سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، نائب چیئرمین، رحمت زار، موجودہ چیئرمین ویلج کونسل رمبور سلطان، خواتین نمائندہ رکیم گل، فلم، رابی گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ سے گومبیک تک آباد کالاش اور مسلم برادری صدیوں سے اس پانی پر انحصار کرتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چشمہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، زرعی آبپاشی، پن چکیوں، مقامی توانائی ذرائع اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی عوامی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی اجتماعی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اس موقع پر برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کیلاش برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور مقامی لوگوں کے نزدیک یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ وادی کے طرزِ زندگی اور شناخت سے جڑا ہوا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کے باوجود منصوبہ نافذ کیا گیا تو عوام خود کو اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کریں گے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے لوگوں میں اپنے آبائی علاقے سے محرومی یا نقل مکانی کا احساس جنم لے۔

    احتجاجی شرکاء نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آیون کے لیے پانی درکار ہے تو نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لے کر اجتماعی حل تلاش کیا جائے، تاہم مکمل نوک تھوں چشمے کا رخ بڑی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل آزادانہ ماحولیاتی، سماجی اور قانونی جائزہ ناگزیر ہے۔

    اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خواتین بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین اور بچیاں بھی احتجاجی عمل میں شامل ہوں گی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معاملے کو مزید کشیدہ ہونے سے پہلے مقامی تجاویز اور متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے غور کرے۔احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے، تمام قانونی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس بلایا جائے اور وادی کے دیرپا آبی حقوق اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ثریا عظیم ہسپتال،علاج کیلیے سارا سال چندہ مانگ کر بھی شہریوں کو لوٹا جانے لگا

    ثریا عظیم ہسپتال،علاج کیلیے سارا سال چندہ مانگ کر بھی شہریوں کو لوٹا جانے لگا

    لاہور کے علاقے چوبرجی چوک میں واقع ثریا عظیم ہسپتال کے بارے میں ایک شہری نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربے کی بنیاد پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے علاج کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    شہری کے مطابق ہسپتال کی عمارت پر نصب بورڈز اور تشہیری مہم میں زکوٰۃ، صدقات اور فطرانے کی اپیل کے ساتھ فری علاج کی بات کی جاتی ہے، تاہم عملی طور پر مریضوں سے مختلف مدات میں فیس وصول کی جاتی ہے۔ثریا عظیم ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہسپتال میں موٹر سائیکل پارکنگ فیس 30 روپے ، ایمرجنسی پرچی فیس 100 روپے، معمولی پٹی کی فیس 300 روپے اور درد کا انجیکشن لگانے کی فیس 500 روپے وصول کی گئی،اس طرح ایک عام مریض کو علاج کے لیے قابلِ ذکر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات قریبی مارکیٹ یا دیگر فارمیسیوں سے دستیاب نہیں ہوتیں اور مریضوں کو ہسپتال کی فارمیسی سے ہی ادویات خریدنے کا کہا جاتا ہے،ثریاعظیم کی انتظامیہ ایک طرف سارا سال صدقات ، زکواۃ مانگتی رہتی لیکن علاج کے لئے شہریوں کو لوٹ رہی ہے

    شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ ثریا عظیم ہسپتال کاسالانہ آڈٹ کروایا جائے،آمدن و اخراجات کا حساب قوم کے سامنے رکھا جائے، قوم سے چندہ بھی اور پھر شہریوں کے جیبوں پر ڈاکہ،اگر اتنی بھاری فیسیں لینی ہیں تو پھر سارا سال چندہ کیوں مانگا جاتا ہے، اگر ہسپتال واقعی فلاحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے تو فیسوں اور چارجز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ فری علاج کے دعووں اور عملی صورتحال کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔

    اس حوالے سے ثریا عظیم ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف لینے کے لئے ہسپتال کی ویب سائٹ پر دیئے گئے نمبر +92 321 888 0 755 پر رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، ہسپتال انتظامیہ اگر مؤقف دینا چاہے تو خبر کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا

  • مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی،وزیراعظم

    مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الحمداللہ، اسلام آبادایم اویوکے تحت اعلیٰ سطح کمیٹی کاپہلااجلاس کامیابی سے اختتام پذیرہوا.مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ60دن کے اندرحتمی معاہدے تک پہنچنے کےلئے روڈمیپ پراتفاق ہوا.روڈمیپ کے تحت سیاسی نگرانی کےلئے اعلیٰ سطح کمیٹی کاقیام عمل میں لایاگیا.روڈ میپ کے تحت مزید تکنیکی سطح کے مذاکرات کاآغاز ہوگا. امریکہ اور ایران کی قیادت کو تعمیری روابط برقرار رکھنے کے عزم پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں. تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کرنے والے تمام برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں. برادر ملک قطر نے مذاکرات کے لیے ضروری سازگار ماحول پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں نے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کیا.فیلڈمارشل کی لگن، عزم اور ثابت قدمی قابلِ ستائش ہیں. نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی سفارتی کاوشوں پرمبارکباد پیش کرتا ہوں. وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی محنت اور کردار کو سراہتا ہوں جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں نمایاں حصہ ڈالا.پاکستان پائیدار امن کیلئے مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دینے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا.

  • ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا

    ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا

    ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

    بی وائے سی کے 2024 کے احتجاج میں گوادر میں ایف سی کے جوان بشیر بلوچ کو شہید کرنے اور لاش کی بے حرمتی کرنے کے کیس میں ماہرنگ لانگو اور اس کے ساتھی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،نسداد دہشت گردی عدالت نے فیصلہ سنایا۔فروری 2024 میں ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں "راجی مچھی” مارچ کے دوران گوادر میں مارچ کے شرکا نے ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کو گھیر کر پتھراؤ کیا، جس سے ان کی موت ہو گئی۔ دو سال کی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو قصوروار قرار دیا اور سزا سنائی

    فروری 2024 کا وہ بھیانک دن جب ماہرنگ اور اس کے حواریوں نے راجی مچھی کے نام سے ایک انتشار بھرا مارچ نکالا۔ کوئٹہ سے شروع ہونے والے مارچ میں ماہرنگ نے ہر موڑ ہر راستے پر انتشار پھیلایا اور اس کے قافلے میں شامل دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز پر بے شمار حملے کئے۔جب اس کا مارچ گوادر کے پرامن علاقے میں پہنچا تو ماہرنگ اور صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں حیوانیت کی ایک نئی داستان لکھی گئی۔ جب ڈیوٹی پر معمور ایف سی کے جوان شبیر بلوچ کو انتشاریوں نے گھیرا اور پتھروں کے وار سے اس کی جان لے لی۔ اس کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی بھی کی۔دو سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد، جس میں ماہرنگ اور اس کے حواریوں نے ججوں کو دھمکایا اور کیس میں خلل ڈالنے کی بے پناہ کوشش کی، آج کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے فتنہ الہندستان کی ریکروٹمنٹ ایجنٹ ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

  • برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    لندن: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے فیصلے سے بادشاہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور لیبر پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کے لیے نامزدگیاں 9 جولائی سے وصول کی جائیں گی جبکہ 16 جولائی کو پارلیمنٹ کی گرمیوں کی تعطیلات سے قبل نامزدگیوں کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کے لیے مقابلہ ہوا تو ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس سے قبل نئی لیبر قیادت منتخب ہو جائے گی، جس سے حکومتی امور میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

    اپنے الوداعی خطاب میں اسٹارمر نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں معیشت مضبوط ہوئی، اجرتوں میں افراطِ زر سے زیادہ اضافہ ہوا، سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی صحت کے نظام (این ایچ ایس) میں انتظار کی فہرستوں میں نمایاں کمی آئی، کارکنوں اور کرایہ داروں کے حقوق کو بہتر بنایا گیا جبکہ دفاعی اخراجات میں سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ کیا گیا۔

    کیئر اسٹارمر نے کہا کہ انہوں نے اس سوال کے جواب کو قبول کر لیا ہے کہ آیا وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہ خوش دلی کے ساتھ لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑ رہے ہیں۔اسٹارمر نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے متعلق آج صبح بادشاہ کنگ چارلس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نئے قائد کے انتخاب کے عمل کی تکمیل تک وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے جانشین کو مکمل، واضح اور غیر مشروط حمایت فراہم کریں گے تاکہ حکومت اور پارٹی کے امور میں تسلسل برقرار رہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، جبکہ برطانوی سیاست میں اس پیش رفت کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد برطانوی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ تیز ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت کے مستقبل اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    استعفے کی خبروں سے قبل ڈاؤننگ اسٹریٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، جہاں میڈیا نمائندوں اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ لیبر پارٹی کی بعض شخصیات گزشتہ چند روز سے اسٹارمر پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں، جس کے بعد ان کے اس اعلان کو برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوایک اوربڑا جھٹکا، ممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا

    بیرونی اشاروں پر افراتفری اور قتل وغارت پھیلانے والی انتشاری کمیٹی سے ارکان لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں.کورممبرانجم زمان اعوان نے انتشار کو مسترد کر کے نوجوانوں کو مثبت سیاست کی جانب واپس آنے کی اپیل کر دی،کورممبر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی انجم زمان اعوان نے اپنے ویڈیو پیغام منظر عام پر آگیا، جس میں کہا گیا کہ
    نوجوانوں کوبتانا چاہتا ہوں کہ علیحدگی اورخودمختاری کے جن نعروں پراکسایا جا رہا ہے ان کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں ہیں۔کچھ عناصر نوجوانوں کو ورغلا رہےہیں،ان عناصر کے پیچھے پاکستان دشمن ایجنسیاں اور پس پردہ ڈیل ہیں۔ہماری پرامن تحریک کا رخ بدل کر نوجوانوں کو قانون شکنی پر مجبور کیاگیا۔قانون شکنی سے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی تباہ کن سیاست سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ کسی ایسے گروہ یا تنظیم کا حصہ نہ بنیں جس کے اندر پاکستان دشمنی کا ایجنڈا موجود ہو۔ماہرین کے مطابق انجم زمان سے قبل امجد علی خان ایڈووکیٹ بھی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کر چکےہیں۔

    انجم زمان کےپیغام سے شرپسند ٹولے کا انتشاری ایجنڈا کھل کر سامنے آگیا ہے۔ انجم زمان نے پاک فوج اور پاکستان کیخلاف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اتنشاری کمیٹی سے خود کو الگ کرلیا ہے

  • لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش   انتظامی بحران کا شکار

    لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش انتظامی بحران کا شکار

    لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں عرب اور لبنانی ثقافت کی پہچان سمجھے جانے والے معروف لبنانی ریسٹورنٹ گروپ ماروش کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کمپنی انتظامی نگرانی ے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ نے ان خبروں کے باوجود اپنے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے اور مستقبل میں بھی خدمات فراہم کرنے کا عزم برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق لبنانی نژاد میاں بیوی معروف اور ہدیٰ ابوزکی نے 1981 میں ماروش کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ جوڑا لبنان کی خانہ جنگی کے دوران لندن منتقل ہوا تھا اور اس نے برطانوی عوام کو مستند لبنانی کھانوں اور ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ایج ویئر روڈ پر پہلا ریسٹورنٹ قائم کیا۔چند ہی برسوں میں ماروش لندن کے عرب کمیونٹی مراکز میں شمار ہونے لگا اور اس نے برطانوی اور عرب صارفین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ایج ویئر روڈ پر قائم اس کا مرکزی ریسٹورنٹ اپنی پرجوش فضا، رات گئے تک سروس، لبنانی موسیقی اور روایتی تفریحی پروگراموں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن گزٹ میں شائع ہونے والے ایک نوٹس کے بعد کمپنی انتظامی عمل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ماروش انتظامیہ نے اس حوالے سے براہِ راست کوئی وضاحت نہیں کی۔ ریسٹورنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’ماروش بدستور کھلا ہے اور معمول کے مطابق اپنے صارفین کی خدمت کر رہا ہے۔ ہم 1981 سے لندن کا حصہ ہیں اور آنے والے کئی برسوں تک اپنے مہمانوں کی میزبانی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘

    دوسری جانب مالی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی گزشتہ چند برسوں سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔ مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ماروش کو 34 لاکھ پاؤنڈ سے زائد خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ آڈیٹرز نے بھی کمپنی کے مستقبل میں کاروبار جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق برطانیہ کی مہمان نوازی اور ریسٹورنٹ انڈسٹری اس وقت بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت، افرادی قوت کی کمی اور صارفین کے بدلتے ہوئے اخراجاتی رجحانات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، جس کے باعث متعدد کاروبار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاحال منتظمین کی جانب سے کمپنی کی مالی مشکلات کی وجوہات یا ماروش برانڈ کے مستقبل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بہترین لبنانی کھانوں اور مہمان نوازی کی روایت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے