لندن: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے فیصلے سے بادشاہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور لیبر پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کے لیے نامزدگیاں 9 جولائی سے وصول کی جائیں گی جبکہ 16 جولائی کو پارلیمنٹ کی گرمیوں کی تعطیلات سے قبل نامزدگیوں کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کے لیے مقابلہ ہوا تو ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس سے قبل نئی لیبر قیادت منتخب ہو جائے گی، جس سے حکومتی امور میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
اپنے الوداعی خطاب میں اسٹارمر نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں معیشت مضبوط ہوئی، اجرتوں میں افراطِ زر سے زیادہ اضافہ ہوا، سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی صحت کے نظام (این ایچ ایس) میں انتظار کی فہرستوں میں نمایاں کمی آئی، کارکنوں اور کرایہ داروں کے حقوق کو بہتر بنایا گیا جبکہ دفاعی اخراجات میں سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ کیا گیا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ انہوں نے اس سوال کے جواب کو قبول کر لیا ہے کہ آیا وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہ خوش دلی کے ساتھ لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑ رہے ہیں۔اسٹارمر نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے متعلق آج صبح بادشاہ کنگ چارلس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نئے قائد کے انتخاب کے عمل کی تکمیل تک وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے جانشین کو مکمل، واضح اور غیر مشروط حمایت فراہم کریں گے تاکہ حکومت اور پارٹی کے امور میں تسلسل برقرار رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، جبکہ برطانوی سیاست میں اس پیش رفت کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد برطانوی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ تیز ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت کے مستقبل اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
استعفے کی خبروں سے قبل ڈاؤننگ اسٹریٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، جہاں میڈیا نمائندوں اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ لیبر پارٹی کی بعض شخصیات گزشتہ چند روز سے اسٹارمر پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں، جس کے بعد ان کے اس اعلان کو برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
