لاہور کے علاقے چوبرجی چوک میں واقع ثریا عظیم ہسپتال کے بارے میں ایک شہری نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربے کی بنیاد پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے علاج کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
شہری کے مطابق ہسپتال کی عمارت پر نصب بورڈز اور تشہیری مہم میں زکوٰۃ، صدقات اور فطرانے کی اپیل کے ساتھ فری علاج کی بات کی جاتی ہے، تاہم عملی طور پر مریضوں سے مختلف مدات میں فیس وصول کی جاتی ہے۔ثریا عظیم ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہسپتال میں موٹر سائیکل پارکنگ فیس 30 روپے ، ایمرجنسی پرچی فیس 100 روپے، معمولی پٹی کی فیس 300 روپے اور درد کا انجیکشن لگانے کی فیس 500 روپے وصول کی گئی،اس طرح ایک عام مریض کو علاج کے لیے قابلِ ذکر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات قریبی مارکیٹ یا دیگر فارمیسیوں سے دستیاب نہیں ہوتیں اور مریضوں کو ہسپتال کی فارمیسی سے ہی ادویات خریدنے کا کہا جاتا ہے،ثریاعظیم کی انتظامیہ ایک طرف سارا سال صدقات ، زکواۃ مانگتی رہتی لیکن علاج کے لئے شہریوں کو لوٹ رہی ہے
شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ ثریا عظیم ہسپتال کاسالانہ آڈٹ کروایا جائے،آمدن و اخراجات کا حساب قوم کے سامنے رکھا جائے، قوم سے چندہ بھی اور پھر شہریوں کے جیبوں پر ڈاکہ،اگر اتنی بھاری فیسیں لینی ہیں تو پھر سارا سال چندہ کیوں مانگا جاتا ہے، اگر ہسپتال واقعی فلاحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے تو فیسوں اور چارجز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ فری علاج کے دعووں اور عملی صورتحال کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
اس حوالے سے ثریا عظیم ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف لینے کے لئے ہسپتال کی ویب سائٹ پر دیئے گئے نمبر +92 321 888 0 755 پر رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، ہسپتال انتظامیہ اگر مؤقف دینا چاہے تو خبر کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا
