Baaghi TV

رومبور، نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

رومبور (فتح اللہ) لوئر چترال کی وادی رمبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبے کے خلاف مقامی عوام نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی اجتماع سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، نائب چیئرمین، رحمت زار، موجودہ چیئرمین ویلج کونسل رمبور سلطان، خواتین نمائندہ رکیم گل، فلم، رابی گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ سے گومبیک تک آباد کالاش اور مسلم برادری صدیوں سے اس پانی پر انحصار کرتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چشمہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، زرعی آبپاشی، پن چکیوں، مقامی توانائی ذرائع اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی عوامی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی اجتماعی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس موقع پر برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کیلاش برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور مقامی لوگوں کے نزدیک یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ وادی کے طرزِ زندگی اور شناخت سے جڑا ہوا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کے باوجود منصوبہ نافذ کیا گیا تو عوام خود کو اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کریں گے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے لوگوں میں اپنے آبائی علاقے سے محرومی یا نقل مکانی کا احساس جنم لے۔

احتجاجی شرکاء نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آیون کے لیے پانی درکار ہے تو نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لے کر اجتماعی حل تلاش کیا جائے، تاہم مکمل نوک تھوں چشمے کا رخ بڑی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل آزادانہ ماحولیاتی، سماجی اور قانونی جائزہ ناگزیر ہے۔

اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خواتین بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین اور بچیاں بھی احتجاجی عمل میں شامل ہوں گی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معاملے کو مزید کشیدہ ہونے سے پہلے مقامی تجاویز اور متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے غور کرے۔احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے، تمام قانونی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس بلایا جائے اور وادی کے دیرپا آبی حقوق اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

More posts