Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تصاویر،ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،ملاقاتیں

    تصاویر،ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،ملاقاتیں

    ایران کے صدر مسعود پژشکیان نے پاکستان کا دورہ کیا ہے، دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں ہوئی ہیں،

    ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اسلام آباد پہنچے ےو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا نورخان ایئربیس آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجودتھے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایران کا اعلیٰ سطح وفد بھی صدر مسعود پزشکیان کے ہمرا ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا، انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے بھی انہیں سلامی پیش کی۔ اس موقع پر روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے صدر مسعود پزشکیان کو پھول پیش کئے جبکہ پاکستان اور ایران کے پرچم تھامے بچوں نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا۔

  • اٹھارہویں ترمیم ، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا ،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    اٹھارہویں ترمیم ، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا ،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم حکومتوں کو طوالت دینے، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا اسکے ساتھ وفاق کو بھی کمزور کیا گیا صوبے بھی عوام کو حق دینے میں ناکام رہے، غلطیوں کی اصلاح ہونی چاہئے ،اتفاق رائے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی نظام کو مضبوط نہیں کیا، سڑکوں پر آنے، توڑ پھوڑ سے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیشہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا چاہئے،

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں غلطیاں ہوئیں، یہ ایسی ہڈی ہے جو نہ نگلی جا رہی ہے نہ اگلی جا رہی، جو غلطیاں ہیں،سب مل بیٹھ کر اسکی اصلاح کریں، پیپلز پارٹی پنجاب کے حصے بخرے چاہتی ہے لیکن سندھ میں نئے صوبے بنانے کی اجازت نہیں دیتی، جذباتی باتیں،سڑکوں‌پر آنے کی، توڑ پھوڑ یہ نہیں ہونا چاہئے، اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کے لئے ڈائیلاگ ہونا چاہئے، صوبوں میں دس دس طرح کے نظام تعلیم ہونے کی بجائے یکساں نصاب تعلیم ہوناچاہئے،پورے ملک میں تعلیم وصحت کی سہولیات کی ایک جیسی فراہمی ہونی چاہئے، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے مقامی حکومتوں کو مضبوط اور بااختیار بنایا ہو،بلدیاتی انتخابات صوبوں میں نہیں ہو رہے، ضلع کی سطح پر میئر، ضلع ناظم کو عوامی ووٹوں سے منتخب ہونا چاہئے، گٹروں کے ڈھکن لگوانا یہ وزیراعلیٰ کا کام نہیں،وزیراعلیٰ عوام کوریلیف دیں، مہنگائی ،بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کام کریں، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے،

  • ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، سفارتی توازن کی کامیاب حکمتِ عملی قرار

    ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، سفارتی توازن کی کامیاب حکمتِ عملی قرار

    اسلام آباد: ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ برس ہونے والی جنگ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی مثبت روابط قائم رکھ کر ایک متوازن سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور امریکا بھی تنازع میں شامل ہوگیا تھا تو پاکستان کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم بعد کے واقعات نے ان خدشات کو غلط ثابت کیا۔
    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس دوران اپنے بین الاقوامی روابط کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ تہران میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مشکل حالات میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت ایران کے لیے مددگار ثابت ہوئی۔

    مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔ ان کے دورۂ اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے خطے کی پیچیدہ صورتحال میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنائی، جس کے باعث وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے نہ صرف اسلام آباد اور تہران کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں سفارتی تعاون اور استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی ،گرفتار استاد کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی ،گرفتار استاد کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بینچ نے آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں گرفتار اسکول ٹیچر کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم کی رہائی نہ صرف متاثرہ طالبہ بلکہ دیگر طلبہ و طالبات کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ مستقبل میں دیگر بچوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔عدالتی فیصلے میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اساتذہ کی تقرری سے قبل ان کا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور نادرا ریکارڈ لازمی طور پر چیک کیا جائے تاکہ ماضی میں جرائم میں ملوث افراد کو تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں نہ سونپی جائیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ماضی کے مجرموں کو تعلیمی اداروں میں ملازمت دی جاتی رہی تو اسکول اور دیگر تعلیمی مراکز بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ عدالت نے بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم بدستور عدالتی تحویل میں رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے

    اسلام آباد: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کے خصوصی طیارے نے پاکستانی سرزمین پر لینڈ کیا۔

    نور خان ایئربیس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایرانی صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ ایرانی صدر کے ہمراہ وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستان کی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایرانی صدر امریکا ایران جنگ کے دوران جنگ بندی اور امن کوششوں میں پاکستان کے کردار پر شکریہ بھی ادا کریں گے۔ایرانی صدر کی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

    ایرانی صدر جس طیارے پر پاکستان آئے اس کا نام ’میناب‘ ایران میں اسکول پر حملے میں شہید بچوں کے نام پر رکھا گیا ہے،

  • ایم کیو ایم کے مطالبات، وزیراعظم کی کمیٹی بنانے کی ہدایت

    ایم کیو ایم کے مطالبات، وزیراعظم کی کمیٹی بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد میں وزیراعظم سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں پارٹی کی جانب سے شہری سندھ سے متعلق مختلف مطالبات اور آئینی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور امین الحق شریک ہوئے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق وفد نے وزیراعظم کے سامنے چار اہم نکات پیش کیے۔ پارٹی نے شہری علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج کا مطالبہ کیا اور بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم پر بھی اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ کی گورنرشپ، بلدیاتی اختیارات اور ایم کیو ایم کے لاپتا کارکنان کی بازیابی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ وفد نے لاپتا کارکنان کے مسئلے کے حل کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی بل کا جائزہ لینے اور لاپتا کارکنان کے معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ملاقات کو وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان جاری سیاسی رابطوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،اسلام آباد کی سفارتی اہمیت بڑھ گئی

    ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،اسلام آباد کی سفارتی اہمیت بڑھ گئی

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے ایک روزہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ملکی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ صدر پزشکیان کا پہلا غیر ملکی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد ایک جامع اور حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون، سرحدی سیکیورٹی، علاقائی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان نے ثالثی اور رابطہ کاری کے کردار کے ذریعے خطے میں اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے، جس کے باعث اس کی سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔

    حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیکیورٹی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں قبول کی تھیں، تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ نہ صرف ایران کے لیے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کے تاثر کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔

  • قومی اسمبلی نے قومی بجٹ 2026.27 کی منظوری دے دی

    قومی اسمبلی نے قومی بجٹ 2026.27 کی منظوری دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی پہنچنے پر محمود خان اچکزئی اور دیگر اپزیشن لیڈرز سے مصافحہ کیا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزراء کے ہمراہ اجلاس میں پہنچے، انہوں نے اپنی سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر سمیت دیگر رہنماؤں سے مصافحہ کیا۔

    قومی اسمبلی نے قومی بجٹ 2026.27 کی منظوری دیدی، قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026 منظور کرلیا،فنانس بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا، تحریک انصاف منظوری کے دوران موجود نہ تھی، بجٹ میں شامل ٹیکس و ڈیوٹی سے متعلق ترامیم پر عمل درآمد یکم جولائی سے شروع ہوگا ،بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار ارب روپے سے زائد ہے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ حکومت جائز نہیں ہے اگر 2018 کی حکومت جائز تھی تو یہ حکومت بھی جائز ہے اس وقت تو جہاز بھر بھر کر پٹے پہنا کر حکومت بنائی گئی ،آپ کو تحقیقات کا شوق ہے تو 2018 سے شروع کرلیں اس کے بعد 2024 کے انتخابات پر بھی آجائیں گے۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اپوزیشن لیڈر کے ان پر الزامات پر برس پڑے منہ توڑ جواب دیا اچکزئی سپیکر کا جواب سنے بغیر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ،سپیکر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مجھے کہا گیا میں نے آئین توڑا ،مجھے بتایا جائے میں نے کون سا آئین توڑاہے ،اگر آپ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کا ساتھ دینے کا اعلان کریں گے تو میں اپکو نہیں کرنے دوں گا اگر آپ فوج اور عدلیہ کے خلاف بات کریں گے تو نہیں کرنے دوں گا ۔اگر پاکستان کے آئین پر عمل کرنا آئین توڑنا ہے تو بار بار توڑوں گا۔سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کے الزامات کا جواب دیتے جذباتی ہوگئے

  • کیمرے کی آنکھ دیکھے گی اور ڈیجیٹل سسٹم ٹیکس چوری کو پکڑے گا،وزیراعلیٰ پنجاب

    کیمرے کی آنکھ دیکھے گی اور ڈیجیٹل سسٹم ٹیکس چوری کو پکڑے گا،وزیراعلیٰ پنجاب

    لاہور: پنجاب حکومت نے ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے میرج ہالز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑی فوڈ چینز کی مؤثر مانیٹرنگ کیلئے جدید کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق جعلی رسیدیں جاری کرنے، سیلز چھپانے اور ٹیکس فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے ریسٹورنٹس میں نقد ادائیگی کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ کو لازمی قرار دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مالی لین دین کو شفاف بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا نقد ادائیگیوں سے ڈیجیٹل نظام کی جانب منتقل ہو سکتی ہے تو پاکستان بھی یہ تبدیلی اپنا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہر قسم کی بے ضابطگی پر نظر رکھی جائے گی۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ "کیمرے کی آنکھ دیکھے گی اور ڈیجیٹل سسٹم ٹیکس چوری کو پکڑے گا”، جبکہ متعلقہ اداروں کو ٹیکس وصولیوں اور مختلف شعبوں کی سیکٹرل میپنگ سے متعلق ہر ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی کاریاست مخالف مسنگ پرسنزبیانیہ ایک بارپھربری طرح فلاپ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کاریاست مخالف مسنگ پرسنزبیانیہ ایک بارپھربری طرح فلاپ

    فتنہ الہندوستان کی حمایت یافتہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے ریاست مخالف ’’مسنگ پرسنز‘‘ بیانیے کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچا ہے، جب تنظیم کی جانب سے لاپتہ قرار دیے گئے ایک شخص کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 17 اگست 2025 کو یوسف نامی شخص کو جبری گمشدگی کا شکار قرار دیتے ہوئے اس کی گمشدگی کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا تھا۔ یوسف کو بی وائی سی کے احتجاجی دھرنوں اور بیانات میں بطور ’’لاپتہ فرد‘‘ پیش کیا جاتا رہا۔تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یوسف درحقیقت 2025 میں بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان میں شامل ہوا تھا، جس کا اعتراف خود تنظیم کی جانب سے بھی کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یوسف 5 مارچ 2026 کو ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز پر کیے گئے ایک دہشت گردانہ حملے کے دوران مارا گیا۔ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جن افراد کو ’’لاپتہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، ان میں سے بعض بعد میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ وابستہ پائے جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یوسف کے معاملے نے ایک بار پھر مسنگ پرسنز سے متعلق پیش کیے جانے والے بعض بیانیوں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

    سیکیورٹی حلقوں کے مطابق ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایسے واقعات حقائق کی بنیاد پر تحقیقات اور معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔