پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے 2017 سے اب تک کا مکمل ریکارڈ 10 روز کے اندر طلب کر لیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کی پروازوں، ایندھن کے اخراجات، مرمت و دیکھ بھال اور عملے سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ معلومات تک رسائی سے متعلق درخواست پر کیا گیا۔فیصلے میں وفاقی حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا گیا جس میں قومی سلامتی اور قانونی استثنیٰ کی بنیاد پر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ طلب کی گئی معلومات نہ تو دفاعی نوعیت کی ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی حساس قومی سلامتی کے معاملے سے ہے۔پاکستان انفارمیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق معلومات عوام کا حق ہیں، اس لیے متعلقہ ریکارڈ مقررہ مدت کے اندر فراہم کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، جبکہ سربراہانِ مملکت کے اخراجات کے تعین کے لیے قانون سازی کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی۔ ایسے میں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور اس پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے سے حکومتی اخراجات کے حوالے سے مزید شفافیت متوقع ہے۔
