بجٹ سے قبل حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایم کیو ایم کے وفد نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بجٹ تجاویز، بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل اور سندھ میں گورنر کے عہدے سمیت اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے کراچی کے لیے 20 ارب روپے اور حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی منظوری پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے بھی حکومت نے تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی۔ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرتی ہے اور اس حوالے سے مثبت پیش رفت کے لیے کردار ادا کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے سندھ میں گورنر شپ کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ کا عہدہ ان کا حق ہے۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے جواب دیا کہ فی الحال گورنر سندھ سے متعلق معاملات طے ہو چکے ہیں، البتہ مستقبل میں اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت خالد مقبول صدیقی نے کی، جبکہ وفد میں فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور توقیر شاہ بھی موجود تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ سے قبل ہونے والی یہ ملاقات حکومتی اتحادیوں کو ساتھ رکھنے اور اہم آئینی و ترقیاتی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
