Baaghi TV

بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج،تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم سرچارج کی مد میں 1727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بھی بجٹ کا اہم حصہ ہوگا۔

سیاسی محاذ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادیوں نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں پاک سیکریٹریٹ کے سرکاری ملازمین بجٹ پیش ہونے سے قبل ہی شاہراہ دستور پر سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے سمیت 13 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی کے موقع پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مختلف صوبوں سے ملازمین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کے لیے پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ملازمین کی نمائندہ تنظیم "اگیگا” کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ کے مطابق صوبوں سے آنے والے ملازمین کی شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان کے مسائل اور مطالبات کو شامل کیا جائے۔

مظاہرین نے 10 مارچ 2025 کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں سو فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کیا جائے جبکہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔سرکاری ملازمین نے کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے، پینشن اصلاحات واپس لینے اور موجودہ پینشن نظام برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہوں میں تفاوت کم کرنے کے لیے مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب ختم کی جائے اور پہلے سے کٹی ہوئی رقم واپس کی جائے۔ انہوں نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کی بحالی اور نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ تجاویز پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری مرحلہ جاری ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے مراعات کی منظوری دیں گے۔ تنخواہ دار طبقے کو کم از کم 10 فیصد یا اس سے زائد ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔مجوزہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اقتصادی ترقی کا مقررہ ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔

بجٹ تجاویز کے تحت تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروبار کے لیے خصوصی اقدامات متوقع ہیں، جبکہ زراعت اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مراعات دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے 10 سال تک سنگل ڈیجٹ شرح سود کی سہولت متعارف کرائی جا سکتی ہے تاکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔علاوہ ازیں بیوٹی انڈسٹری کو بھی ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ اقدامات کے تحت میک اپ مصنوعات، سرخی پاؤڈر، مسکارا اور شیمپو سمیت متعدد اشیا سستی ہو سکتی ہیں۔ ریٹیلرز کے لیے نئے ٹیکس ماڈل کے تحت فیس لیس ڈیجیٹل ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

More posts