Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔وزیراعظم

    بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدا رت خطے میں صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت و انکے اثرات پر گفتگو ہوئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا. تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح State owned enterprises اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا.

    وزیرِ اعظم نےدنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے.آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے 3rd party audit کروایا جائے گا۔ اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرا مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی پر عائد رہے گی. ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے.اجلاس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • فیکٹ چیک: افغان طالبان کے پاک فوج سے متعلق دعوے بے بنیاد قرار

    فیکٹ چیک: افغان طالبان کے پاک فوج سے متعلق دعوے بے بنیاد قرار

    سوشل میڈیا اور بعض افغان طالبان سے منسلک میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا گیا اور ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا۔ تاہم دستیاب معلومات اور زمینی حقائق کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس میں پاکستانی فوج کی کسی چیک پوسٹ پر قبضہ کیا گیا ہو یا پاکستانی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خبریں محض پروپیگنڈا ہیں جن کا مقصد غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔

    دوسری جانب اطلاعات کے مطابق 13 مارچ تک آپریشن “غضب للحق” کے دوران افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کے 663 جنگجو ہلاک، 887 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 249 چوکیوں کو تباہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 44 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور 224 بکتر بند عسکری گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے دعوے درست ہوتے تو وہ اس حوالے سے کم از کم کوئی قابل تصدیق ویڈیو، تصاویر یا دیگر شواہد پیش کرتے، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں معلوماتی جنگ کا استعمال بڑھ گیا ہے، جہاں فریقین سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی دعوے کو تسلیم کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

  • ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا،  مولانا فضل الرحمان

    ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمان

    امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے،

  • وفاقی وزارتوں کے ای آفس سسٹم کو سائبر حملوں سے بچانے کیلئے اہم ایڈوائزری جاری

    وفاقی وزارتوں کے ای آفس سسٹم کو سائبر حملوں سے بچانے کیلئے اہم ایڈوائزری جاری

    وفاقی حکومت کی وزارتوں میں استعمال ہونے والے ای آفس سسٹم کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے اہم سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔

    ایڈوائزری میں تمام وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جدید سیکیورٹی اقدامات فوری طور پر نافذ کریں تاکہ حساس سرکاری ڈیٹا اور سرکاری نظام کو ہیکنگ یا سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزارتوں کے نیٹ ورک کی مسلسل نگرانی کے لیے نیکسٹ جنریشن فائر وال نصب کیے جائیں اور ہر وزارت میں ڈائریکٹر سائبر سیکیورٹی کے عہدے پر ماہر افسر تعینات کیا جائے، جو ڈیجیٹل سیکیورٹی کے معاملات کی براہ راست نگرانی کرے۔ایڈوائزری میں مزید تجویز دی گئی ہے کہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں ایک خصوصی سائبر سیکیورٹی ٹیم قائم کی جائے، جو ای آفس سسٹم کی حفاظت، مانیٹرنگ اور ممکنہ سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کے لیے کام کرے۔

    سیکیورٹی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کو 30 دن کے اندر اندر ان حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی سائبر خطرات کے پیش نظر سرکاری ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق نیشنل سرٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے سیکیورٹی سفارشات 43 وفاقی وزارتوں اور اہم سرکاری محکموں کو ارسال کر دی ہیں، جبکہ وزارتوں کے ساتھ رابطہ اور عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری ڈائریکٹر نیشنل سرٹ خرم جاوید کو سونپی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور سرکاری نظام کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

  • پاکستان کا غیر ملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا

    پاکستان کا غیر ملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا

    پاکستان کا غیر ملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا، گاڑیوں اور اسمارٹ موبائل فونز سمیت متعدد غیر ملکی لگژری اشیاء کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگیا، موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران مجموعی درآمدات 45 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔

    آئی ایم ایف کی ایک قسط سے زیادہ مالیت کے تو صرف اسمارٹ موبائل فونز اور گاڑیاں امپورٹ کی گئیں، زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد بھی بڑھ گئیں۔رپورٹ کے مطابق غیرملکی درآمدات میں 8.21 فیصد اضافہ ہوا، حجم 45 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، جولائی تا فروری امپورٹس میں 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا امپورٹڈ خوراک پر انحصار بڑھنے لگا، غذائی اشیا کی درآمدات میں 18.42 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 6.41 ارب ڈالر ہوگیا، گزشتہ سال کے مقابلے ایک ارب ڈالر کی اضافی غذائی اشیاء امپورٹ ہوئیں۔دستاویز کے مطابق مہنگی کاروں کی امپورٹ 126 فیصد اضافے سے 1.53 ارب ڈالر سے زائد رہی، چینی، خشک میوے، چائے، مصالحے، سویا بین اور پام آئل کی امپورٹ بھی بڑھی۔

  • ورلڈ کپ کیلئے بہت پرامید تھے، افسوس ہے نتائج نہیں آئے، سلیکشن کمیٹی پی سی بی

    ورلڈ کپ کیلئے بہت پرامید تھے، افسوس ہے نتائج نہیں آئے، سلیکشن کمیٹی پی سی بی

    پی سی بی کی نیشنل سلیکشن کمیٹی نے لاہور میں پریس کانفرنس کی، عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈ کپ میں توقعات کے مطابق نتائج نہیں آئے، ٹیم کو کم سے کم سیمی فائنل میں جانا چاہیے تھا، ورلڈ کپ کیلئے بہت پرامید تھے، افسوس ہے نتائج نہیں آئے، پاکستان کرکٹ ٹیم کسی کی ضد نہیں، سابق کرکٹرز ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر کوچ فیصلہ کرتے تھے، پلئینگ الیون سلیکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ہوتی تھی، ہم نے پروفیشنل کوچ لانا تھا، ٹیم بنانے کیلئے آزادی ملنی چاہیے، ہمیشہ کوچ کو ساتھ بٹھاتے ہیں تاکہ مشاورت شامل ہو، مقصد ہے بہترین ٹیم کی سلیکشن ہو۔عاقب جاوید نے کہا کہ ہیڈ کوچ سے مل کر مستقبل کا پلان بنائیں گے، ٹیمیں متفقہ طور پر تشکیل دی جاتی ہیں، نوجوان کھلاڑی پرفارمنس کے بعد ٹیم میں آئے، کسی ایک پرفارمنس پر کسی کو کھلاسکتے ہیں نہ ہی نکال سکتے ہیں۔سلیکشن کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ بابراعظم فٹ نہ ہونے کی وجہ سے بنگلادیش سیریز، نیشنل ٹی 20 نہیں کھیل رہے، ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد بابراعظم اور فخرزمان کی انجریز سامنے آئیں، بابراعظم اور فخرزمان کی انجریز کی انکوائری کرائیں گے، فخر زمان ابتدائی میچز کیوں نہیں کھیلے؟ یہ کوچ بتاسکتے ہیں۔

    سرفراز احمد نے کہا کہ تین سے چار وکٹ کیپر لائن میں ہیں، غازی غوری کو محمد رضوان کا متبادل دیکھ رہے ہیں، شامل حسین سے متعلق بہت لوگ بات کررہے ہیں، شامل حسین کی قائداعظم ٹرافی سمیت دیگر ٹورنامنٹس میں پرفامنس اچھی ہے۔

    قبل ازیں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے سلیکشن کمیٹی نے ملاقات کی، چیئرمین نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا۔محسن نقوی نے کہا کہ بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے فرائض سرانجام دیں، سلیکشن کمیٹی کسی کی تنقید کی پرواہ نہ کرے، میری مکمل سپورٹ سلیکشن کمیٹی کے ساتھ ہے۔سلیکشن کمیٹی کے ممبران مصباح الحق، سرفراز احمد، اسد شفیق اور عاقب جاوید نے اعتماد کرنے پر چیئرمین پی سی بی سے اظہار تشکر کیا۔

  • ایران کا بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل حملہ

    ایران کا بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل حملہ

    ایران نے بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل حملہ کیا، جس سے سفارتخانے کی حدود میں آگ بھڑک اٹھی۔

    ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ 15ویں روز میں داخل ہوگئی، فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔الجزیرہ کے مطابق بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل حملہ کیا گیا، امریکی سفارتخانے کی حدود میں آگ بھڑک اٹھی،ایک عراقی سکیورٹی اہل کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آج ہفتے کے روز ایک ڈرون طیارہ سفارت خانے سے ٹکرایا، جس کے دوران وہاں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اہل کار نے مزید بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں سفارتی مشن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا ہے۔دیگر عراقی حکام نے ذکر کیا ہے کہ ایک میزائل سفارت خانے میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر لگا۔سفارت خانے کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس، جو دنیا میں امریکہ کی بڑی سفارتی تنصیبات میں سے ایک ہے، اس سے قبل بھی ایران کی اتحادی ملیشیاؤں کی جانب سے داغے گئے کئی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

    دوسری جانب امریکی قیادت مسلسل ایران کی تباہی اور قیادت کے خاتمے پر بضد ہے۔نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بار پھر وثوق سے کہا کہ نئے سپریم لیڈر زخمی ہیں لیکن جب اُن سے میناب اسکول پر حملے کا سوال ہوا تو جواب گول کرگئے، بات یہ کہہ کر گھمادی کہ ایران میں اِس وقت افراتفری مچی ہے۔

    ایران نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں صیہونی ریاست پر میزائل داغ دیے۔ایران نے لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا آئرن ڈوم ایک بار پھر ناکام ہوگیا، متعدد میزائل نشانے پر لگے، مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی، سائرن بجنے لگے۔ایران نے توانائی انفرااسٹرکچر پر حملے پر سخت ردعمل کا اعلان کیا، کہا کہ تیل تنصیبات پر حملہ ہوا تو امریکا سے منسلک کمپنیاں نشانہ بنیں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے سینٹرل کمانڈ نے میرے حکم پر ایران کے خارگ جزیرے پر بڑاحملہ کیا، یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی شدید ترین بمباری تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کردیا، جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو فی الحال محفوظ رکھا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امریکا یا عالمی سلامتی کو خطرہ پہنچانے کی کوئی صلاحیت نہیں، ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، ایرانی فوج ہتھیار ڈال کر ملک کے باقی حصے کو بچائے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کا ایرانی منصوبہ ناکام ہوگیا، امریکا نے دنیا کی سب سے مہلک اور مؤثر فوج تیار کر رکھی ہے۔

  • پاکستان کسٹمز نے  سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا،شرجیل میمن

    پاکستان کسٹمز نے سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پاکستان کسٹمز نے سندھ حکومت کی سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا۔

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کو گاڑی سے متعلق تمام سرکاری دستاویزات دکھائی گئیں لیکن اس کے باوجود سرکاری گاڑی ضبط کر لی گئی،ضبط کی گئی گاڑی محکمہ اطلاعات سندھ کی ملکیت ہے،گاڑی انڈس موٹر کمپنی کے آفیشل آؤٹ لیٹ سے خریدی گئی تھی،صوبائی حکومت کےادارے کےساتھ ایسا رویہ قبول نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کسٹمز فوری طور پر گاڑی کو محکمے کے سپرد کرے اور معاملے پر تحریری معذرت جاری کرے۔

    دوسری جانب سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عید الفطر کے موقع پر زائد کرایوں کے خلاف مہم شروع کرنے کی ہدایات دی ہیں،پولیس، تمام اضلاع کی انتظامیہ، این ایچ اے، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام متعلقہ حکام کو کارروائیوں کی ہدایات دیتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بعض ٹرانسپورٹرز کی جانب سے خودساختہ طور پر کرایوں میں اضافہ مسافروں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے،عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور بغیر اجازت کرایوں میں اضافہ روکنا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے،تمام افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری کارروائی کریں،روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ محکمہ کو ارسال کی جائے، زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے رہی ہے، مسافروں کو سرکاری مقررہ کرایوں پر محفوظ اور سہل سفر کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں متحرک رہیں، عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں،

  • ایران،اسرائیل کشیدگی، امریکی حملے اور خلیجی خطے میں سکیورٹی اقدامات تیز

    ایران،اسرائیل کشیدگی، امریکی حملے اور خلیجی خطے میں سکیورٹی اقدامات تیز

    مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں، جن میں فوجی کارروائیاں، سکیورٹی اقدامات اور سفارتی دباؤ شامل ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں پولیس نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے 45 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ افراد مبینہ طور پر حملوں یا سکیورٹی واقعات کے مقامات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے تھے اور بعض صورتوں میں غلط یا غیر مصدقہ معلومات بھی پھیلا رہے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیاں عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور سکیورٹی آپریشنز کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں ایسی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ حالیہ حملوں میں نہ تو کوئی راکٹ زمین پر گرا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے۔تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق شمالی اسرائیل کے علاقے میں ایک یہودی بستی کی عمارت میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، جس کی مزید تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔

    ایک اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ کو نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن سمیٹنے کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران میں نہ تو حکومت کی تبدیلی کے آثار ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔اسرائیلی حلقے اس کارروائی کو بڑی حد تک اسٹریٹیجک کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم واشنگٹن کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری آپریشن کے دو ہفتوں کے دوران امریکی فوج کو قابلِ ذکر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔رپورٹ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے،10 شدید زخمی ہیں،مجموعی طور پر تقریباً 200 فوجی مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئے،یہ اعداد و شمار امریکی فوج کے لیے اس آپریشن کے دوران اب تک کے سب سے بڑے نقصانات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

    عرب ذرائع ابلاغ کی غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر شارجہ کی بندرگاہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع ملی ہے۔تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایران کے اہم تیل کے مرکز Kharg Island پر امریکی بمباری دکھائی گئی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی "مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین فضائی حملوں میں سے ایک” ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں واقع یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔