Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قتل کیس، وکلاء نے مبینہ تشدد کے ٹیکسٹ پیغامات کو دفاع کا حصہ بنا دیا

    قتل کیس، وکلاء نے مبینہ تشدد کے ٹیکسٹ پیغامات کو دفاع کا حصہ بنا دیا

    امریکا میں مشہور سبسکرپشن پلیٹ فارم اونلی فینز سے وابستہ ماڈل کورٹنی کلینی کے خلاف اپنے بوائے فرینڈ کرسچن اوبومسیلی کے قتل کے مقدمے میں ایک نئی قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی نئی دستاویزات کے مطابق کلینی کی قانونی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول کی جانب سے ماضی میں کیے گئے مبینہ جسمانی اور ذہنی تشدد کے شواہد، خصوصاً ٹیکسٹ پیغامات، مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ملزمہ نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔

    30 سالہ کورٹنی کلینی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپریل 2022 میں میامی کی ایک رہائشی عمارت میں اپنے بوائے فرینڈ کرسچن اوبومسیلی کو چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے خلاف سیکنڈ ڈگری قتل کا مقدمہ درج ہے، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت اگلے ماہ شروع ہونے والی ہے۔میامی ڈیڈ کرمنل کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں کلینی کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقتول نے قتل سے قبل کئی ماہ تک ان پر جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق کلینی نے دعویٰ کیا ہے کہ اوبومسیلی نے کم از کم نو مختلف مواقع پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جن میں چہرے پر مکے مارنا، پسلیاں توڑ دینا، کندھا اکھاڑ دینا، گلا دبانا، دھکے دینا اور بازو پکڑ کر گھسیٹنا شامل ہے۔

    دفاعی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ اپریل 2021 میں کلینی نے اپنے بوائے فرینڈ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کہ "تم نے میرے چہرے پر پوری طاقت سے مکا مارا۔”دستاویزات کے مطابق اوبومسیلی نے جواب میں کہا تھا کہ ان کا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان کا ہاتھ ہٹانا چاہتے تھے۔وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ مقتول مبینہ طور پر اپنے پرتشدد رویے کو معمولی قرار دیتا تھا اور اس کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرتا تھا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق اگست 2021 میں کلینی نے ایک اور پیغام میں الزام لگایا کہ اوبومسیلی نے انہیں پیٹھ پر مکے مارے اور حملہ کیا۔وکلاء کے مطابق یہ پیغامات مبینہ تشدد کے فوراً بعد بھیجے گئے تھے، اس لیے وہ ان کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔

    عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ "اوبومسیلی مسلسل جسمانی تشدد، دھمکیوں، خوف و ہراس، تعاقب، قابو میں رکھنے کی کوشش، نفسیاتی دباؤ اور جذباتی استحصال کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔”دفاعی ٹیم کے مطابق ستمبر 2021 میں ایک سوئمنگ پول سے واپسی کے دوران ہونے والی تلخ کلامی میں اوبومسیلی نے کلینی کی کلائی زور سے پکڑ کر پیچھے کھینچا، جس کے نتیجے میں ان کا کندھا مبینہ طور پر چوتھی مرتبہ اپنی جگہ سے نکل گیا۔اسی طرح دبئی کے سفر کے دوران بھی ایک واقعہ پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق کلینی نے اوبومسیلی کو متحدہ عرب امارات کے سخت قوانین کے باعث چرس استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا، جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا۔دفاعی مؤقف کے مطابق اوبومسیلی نے انہیں اتنی شدت سے دھکا دیا کہ وہ زمین پر گر گئیں اور ان کی پسلیاں متاثر ہوئیں، تاہم انہوں نے دبئی میں طبی امداد حاصل نہیں کی۔عدالتی دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوری 2022 میں آسٹن، ٹیکساس میں ایک اور جھگڑے کے دوران اوبومسیلی نے کلینی کا بازو زور سے پکڑا، جس سے ان کی انگلی زخمی ہوگئی۔

    کورٹنی کلینی پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ پر چاقو اپنے دفاع میں پھینکا تھا اور ان کا مقصد اسے قتل کرنا نہیں تھا۔دوسری جانب استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر قتل کا تھا، جبکہ دفاعی ٹیم عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزمہ ایک طویل عرصے سے گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور وقوعہ اسی پس منظر میں پیش آیا۔

  • قائمہ کمیٹی اجلاس،طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کرنے کی تجویز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کرنے کی تجویز

    سلام آباد، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں خواتین کے مالی تحفظ، طلاق کے بعد جائیداد میں حق، حج انتظامات اور آئندہ حج پالیسی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر سید علی ظفر نے ایک نجی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے طویل عرصے، بالخصوص 40 سال یا اس سے زائد عرصہ اکٹھے گزارنے کے بعد اگر شوہر بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اکثر خواتین معاشی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد خواتین نے شکایت کی ہے کہ طلاق کے بعد ان کے پاس نہ رہائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی گزر بسر کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ نکاح نامے میں شق شامل کی جائے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کیا جا سکے تاکہ اسے معاشی تحفظ حاصل ہو۔سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک، خصوصاً بعض اسلامی ممالک میں بھی اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایران، شام، لیبیا، اردن، ملائیشیا اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کی گھریلو خدمات، بچوں کی پرورش اور شوہر کی معاونت کو قانونی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر عدالتی سطح پر بھی غور کیا گیا، جہاں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس کیانی سمیت مختلف قانونی ماہرین نے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ شادی شدہ زندگی کے دوران بیوی کی خدمات کو بھی معاشی شراکت تصور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے برطانیہ، بھارت اور دیگر ممالک کے قوانین کا حوالہ بھی دیا۔

    سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ اگر بیوی معاشی طور پر مستحکم ہو اور شوہر کی معاونت کرے تو ایسے حالات میں شوہر کے حقوق کا بھی تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی اپنے خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے قانون سازی میں دونوں کے حقوق کو مساوی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں دوسری شادیوں اور کم عمر لڑکیوں سے شادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں، وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیئے۔ انہوں نے رائے دی کہ مجوزہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایا جائے تاکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے بعد خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے نہایت اہم ہے۔

    سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مغربی نظریات کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں خواتین کو عزت، احترام اور مکمل حقوق حاصل ہیں اور اسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مجوزہ بل کی موجودہ شکل کی حمایت نہیں کرتے۔سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اگر ترکی اور ایران جیسے اسلامی ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں تو انہیں قرآن و سنت کے منافی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل اس معاملے پر پہلے بھی غور کر چکی ہے، تاہم بہتر ہوگا کہ اس بل کو دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے تاکہ موجودہ حالات کے مطابق اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

    سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہندو پرسنل لا میں اس نوعیت کی گنجائش موجود ہے اور وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس پر رائے شماری کرائی جائے۔ کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا کہ مجوزہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے یا کونسل کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے ان کی رائے حاصل کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ قانون سازی کی جا سکے۔

    اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے حج 2026 کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال حاجیوں کی سہولیات اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایات بینکنگ سروسز (3,164)، آن لائن درخواست (Application) سروسز (2,552)، رہائش (Accommodation) (1,527)، حاجی کیمپ سروسز (1,242)، ٹرانسپورٹ (1,010)، خوراک سے متعلق مسائل (714)، متفرق امور (623) اور ویلفیئر اسٹاف سے متعلق شکایات (379) موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ سلام سم، قربانی، اسپلٹ فیملی، نسک کارڈ، طبی سہولیات، تربیت، ویکسینیشن، پاسپورٹ سے متعلق امور، امیگریشن کلیئرنس میں تاخیر اور ریاض الجنہ سے متعلق شکایات بھی سامنے آئیں۔ وزارت نے اوورسیز پاکستانیز افیئرز (OPAP)، بینکوں، سروس فراہم کرنے والے اداروں، سعودی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے تمام شکایات کا بروقت ازالہ کیا اور بعد ازاں حاجیوں سے فیڈبیک بھی حاصل کیا۔
    معاون مکہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال سی ٹائپ عمارتیں حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بہتر معیار کی بی ٹائپ عمارتیں کرائے پر لی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رہائش سے متعلق تقریباً 1200 شکایات موصول ہوئیں جنہیں فوری طور پر حل کیا گیا، جبکہ ناقص کارکردگی پر متعلقہ عمارتوں کے مالکان پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بعض مشکلات سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی شٹل سروس کے باعث پیش آئیں، جبکہ کھانے کے معیار سے متعلق بھی شکایات سامنے آئیں۔ آئندہ حج کے لیے فوڈ سروس میں مزید بہتری لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے سوال اٹھایا کہ حج انتظامات کے بعض ٹھیکے ایک ہی صوبے یا مخصوص اداروں کو بار بار کیوں دیے جاتے ہیں اور دیگر صوبوں کو بھی مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے حج انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی خرچ پر حج کے دوران سعودی عرب گئے تھے، تاہم متعلقہ حکام نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں مناسب تعاون فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا تو عام حاجیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی متعدد حاجیوں کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائش اور دیگر سہولیات کے حوالے سے کئی مسائل سامنے آئے جن کے حل کی یقین دہانی کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ سینیٹر دنیش کمار نے حج مشن کے بعض انتظامی معاملات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران، خصوصاً ڈی جی عبد الوھاب سومرو کو کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ وہ تمام معاملات پر وضاحت پیش کریں۔

    وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کمیٹی تحریری طور پر شکایات فراہم کرے تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر حج 2026 کے انتظامات گزشتہ برسوں کی نسبت بہتر رہے اور اس سال ایک لاکھ 19 ہزار پاکستانیوں نے حج ادا کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ الراجحی کمپنی کو مسلسل ٹھیکے کیوں دیے جا رہے ہیں، جس پر وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ اس سال دو مختلف کمپنیوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور تمام تقرریاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہیں۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ حج انتظامات، شکایات، رہائش، ٹرانسپورٹ اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گا، جبکہ ڈی جی عبد الوھاب سومرو سمیت ذمہ دار افسران سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔ کمیٹی اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے اعلان کیا کہ قائمہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29 جولائی 2026 کو منعقد ہوگا۔
    اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن، سینیٹر حسنہ بانو، سینیٹر حافظ عبدالکریم، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر سید علی ظفر، سینیٹر سرمد علی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، وزارت مذہبی امور کے سینئر حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی

  • اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد شہری کی خود کشی کی کوشش، سرکاری گاڑی نذرِ آتش

    اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد شہری کی خود کشی کی کوشش، سرکاری گاڑی نذرِ آتش

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں مشتعل افراد نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی، جبکہ واقعے کے باعث رائیونڈ روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ اہلکاروں نے کارروائی کے دوران ایک ریڑھی بان کی ریڑھی الٹ دی، جس پر متاثرہ شخص نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد موقع پر موجود افراد مشتعل ہوگئے اور شدید احتجاج شروع کر دیا۔رپورٹس کے مطابق علی ٹاؤن میٹرو اسٹیشن کے قریب نامعلوم افراد نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ کی گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے گاڑی مکمل طور پر جل گئی۔ واقعے کے باعث رائیونڈ روڈ سے علی ٹاؤن اور قزلباش چوک جانے والی سڑک پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران ایک گاڑی کے شیشے بھی توڑے گئے جبکہ ایک سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کیا گیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پا لیا، جس سے مزید نقصان ہونے سے بچ گیا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگانے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • طالبہ کے ٹرانس جینڈر طالب علم پر جنسی ہراسانی کے الزامات

    طالبہ کے ٹرانس جینڈر طالب علم پر جنسی ہراسانی کے الزامات

    واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین کے کھیلوں میں حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر شرکت کی اجازت دینے کے تاریخی فیصلے کے بعد ویسٹ ورجینیا کی طالبہ اڈیلیا کراس نے پہلی بار تفصیل سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے انہیں "ذہنی سکون” دیا ہے، کیونکہ اب دوسری لڑکیوں کو وہ مشکلات پیش نہیں آئیں گی جن کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اڈیلیا کراس نے دعویٰ کیا کہ جب وہ برج پورٹ مڈل اسکول میں آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں تو ایک ٹرانس جینڈر طالب علم، جو ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، نے لڑکیوں کے لاکر روم میں ان کے ساتھ نامناسب، جنسی نوعیت کے جملے کہے اور انہیں ہراساں کیا۔اڈیلیا کراس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن اب ان کی چھوٹی بہن، ان کی دوستوں اور دیگر طالبات کو محفوظ ماحول مل سکے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس طالب علم کے لیے بھی نیک خواہشات رکھتی ہیں اور ان کی دعا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں درست راستہ اختیار کرے۔

    اڈیلیا کراس نے بتایا کہ مذکورہ طالب علم کی لڑکیوں کی ٹیم میں شمولیت کے بعد پورے لاکر روم کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا۔ان کے مطابق بیشتر طالبات نے لاکر روم میں کپڑے تبدیل کرنا چھوڑ دیے تھے اور وہ واش روم کے بند کیبن یا الگ جگہوں پر کپڑے بدلنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے مقابلوں کے دوران بھی لڑکیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ اس طالب علم سے دور رہیں۔اڈیلیا کراس کے مطابق بعض دیگر اسکولوں کی ٹیموں نے بھی مقابلوں میں شرکت منسوخ کر دی تاکہ ان کی طالبات کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو اپنی نجی جگہوں میں محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے، مگر ان سے یہ حق چھین لیا گیا تھا۔

    دوسری جانب امریکن سول لبرٹیز یونین نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اور اس کی والدہ ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔تنظیم کے مطابق اسکول انتظامیہ نے شکایت کی تحقیقات کی تھیں، تاہم الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ادھر اڈیلیا کراس کی نمائندگی کرنے والی قانونی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکل نے متعدد عدالتی کارروائیوں میں حلف کے ساتھ اپنے مؤقف کو دہرایا ہے اور ان واقعات کے باعث انہیں اپنی پسندیدہ کھیلوں کی سرگرمیاں ترک کرنا پڑیں۔

    اڈیلیا کراس اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے کی باقاعدہ شکایت اسکول انتظامیہ کو دی تھی، لیکن انہیں کبھی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ان کے والد کا کہنا تھا کہ شکایت جمع کرانے کے بعد اسکول کی جانب سے کوئی مؤثر جواب نہیں ملا۔رپورٹ کے مطابق متعلقہ اسکول ڈسٹرکٹ سے بھی اس معاملے پر متعدد بار مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر شائع ہونے تک کوئی نیا جواب سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے 30 جون 2026 کو فیصلہ دیا تھا کہ ریاستیں خواتین اور لڑکیوں کے کھیلوں میں شرکت کے لیے حیاتیاتی جنس کو بنیاد بنا سکتی ہیں۔عدالت نے ویسٹ ورجینیا اور آئیڈاہو کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کو برقرار رکھا جن کے تحت خواتین کی کھیلوں کی ٹیموں میں صرف حیاتیاتی طور پر خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

    اڈیلیا کراس کا کہنا ہے کہ اس قانونی کامیابی کے باوجود انہیں ذاتی زندگی میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے کئی قریبی دوستوں نے ان سے تعلق ختم کر لیا، بعض اساتذہ نے بھی ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جبکہ انہیں دھمکیوں اور شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے اسکول کی اکثریت ان کی حمایت کرتی ہے، لیکن چند مخالف افراد کی مسلسل مخالفت نے ان کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلسل تنازعات اور دباؤ کے باعث وہ گزشتہ دو برس سے کھیلوں سے دور ہیں اور اب اپنے آخری تعلیمی سال میں دوبارہ مقابلوں میں واپسی کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

    اڈیلیا کراس نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار اس معاملے پر عوامی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا تو وہ صرف 14 برس کی تھیں اور شدید خوف کا شکار تھیں۔ان کے مطابق بائبل کی ایک آیت نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے اپنے تجربات دوسروں کے سامنے بیان کریں۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ معاشرہ ان لڑکیوں کی بات بھی سنے جو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

    یہ معاملہ امریکہ میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق اور خواتین کے کھیلوں میں ان کی شرکت سے متعلق جاری قومی بحث کا حصہ ہے۔ایک جانب اڈیلیا کراس اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص کھیلوں اور نجی مقامات کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ٹرانس جینڈر طلبہ کو بھی امتیازی سلوک سے پاک، محفوظ اور مساوی تعلیمی ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس مخصوص کیس میں دونوں فریق ایک دوسرے کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں اور الزامات و جوابات اپنی اپنی جگہ موجود ہیں

  • آزاد کشمیر انتخابات،عوام ترقی اور جمہوری استحکام کے لیے تیر پر مہر لگائیں، شازیہ مری

    آزاد کشمیر انتخابات،عوام ترقی اور جمہوری استحکام کے لیے تیر پر مہر لگائیں، شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا حقیقی ضامن سمجھتے ہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی ہے۔

    شازیہ مری نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور مسئلہ کشمیر پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور، نظریے اور سیاست کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر تاریخی اور جراتمندانہ مؤقف اختیار کیا، جبکہ ان کی کشمیر کاز سے وابستگی آج بھی پارٹی کی سیاسی سمت کا تعین کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جانب مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نوجوان قیادت کے ساتھ کشمیری عوام کی امید بن کر سامنے آئے ہیں اور ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی عوامی خدمت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

    مرکزی ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شاندار کامیابی عوام کے اعتماد کا واضح اظہار ہے اور اسی طرح آزاد کشمیر کے عوام بھی ترقی، خوشحالی اور جمہوری استحکام کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگا کر پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں گے۔شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کا نیا دور شروع کرے گی، جس سے عوامی فلاح، بہتر طرزِ حکمرانی، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی خوشحالی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست عوامی خدمت، جمہوریت، وفاق کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کا ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے گا، کیونکہ یہی وہ جماعت ہے جس کی کشمیر کے لیے جدوجہد تاریخ کا روشن باب ہے۔ شازیہ مری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر دور میں کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے، آئندہ بھی ان کے حقوق اور ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اور عوام کا اعتماد پارٹی کو آزاد کشمیر میں ایک نئی تاریخی کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

  • تیہاڑ جیل کا کھانے پر اعتراض، جھینگے اور پاستا کی اجازت مانگ لی، امریکی ملزم کی درخواست

    تیہاڑ جیل کا کھانے پر اعتراض، جھینگے اور پاستا کی اجازت مانگ لی، امریکی ملزم کی درخواست

    نئی دہلی: بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں گرفتار امریکی شہری میتھیو ایرن وین ڈائیک نے تہاڑ جیل میں فراہم کیے جانے والے کھانے پر اعتراض کرتے ہوئے دہلی کی عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسے جیل میں اپنا کھانا خود پکانے کی اجازت دی جائے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تہاڑ جیل کا کھانا زیادہ مصالحے دار، تیل والا اور گہری فرائی کیا ہوا ہوتا ہے، جسے وہ بطور امریکی شہری کھانے کا عادی نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے وہ 6 مئی 2026 سے بھوک ہڑتال پر ہے۔
    ملزم نے عدالت کو بتایا کہ مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث اس کا تقریباً 14 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، نظر متاثر ہوئی ہے اور جسمانی طاقت و مدافعت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔اس کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وین ڈائیک کو اپنی خوراک خود تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔ درخواست کے مطابق اس کا خاندان تمام اخراجات، خوراک، برتن اور دیگر سامان کی قیمت خود ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔درخواست میں دالیں، سرخ گوشت، چکن، مچھلی (خصوصاً جھینگے)، پاستا، کچے نوڈلز، چاول، آلو، پیاز، پھلیاں، مصالحے، بریڈ، مکھن، زیتون کا تیل، دودھ، سویا ملک اور بوتل بند پانی رکھنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انڈکشن چولہا، برتن، پیالے اور پلاسٹک کا چاپر رکھنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔عدالت نے تہاڑ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

    این آئی اے کے مطابق میتھیو وین ڈائیک کو 13 مارچ کو کولکاتا ایئرپورٹ سے چھ یوکرینی شہریوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیشی ادارے کا الزام ہے کہ ملزمان بھارت میں کالعدم باغی تنظیموں سے رابطے میں تھے، انہیں اسلحہ اور دیگر عسکری سامان فراہم کرتے تھے اور تربیت بھی دیتے تھے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان سیاحتی ویزے پر بھارت آئے، آسام اور میزورم کا سفر کیا اور بعد ازاں بغیر اجازت میانمار داخل ہوئے، جہاں مبینہ طور پر مسلح گروہوں کو تربیت دی اور ڈرونز کی ترسیل میں بھی سہولت فراہم کی۔این آئی اے نے تمام ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی مختلف دفعات، جن میں مجرمانہ سازش بھی شامل ہے، کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے، جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم اتارنے ،ریپ کرنےوالا امریکی سینیٹ امیدوار انتخابات سے فرار

    جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم اتارنے ،ریپ کرنےوالا امریکی سینیٹ امیدوار انتخابات سے فرار

    واشنگٹن: امریکی ریاست مین سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار گراہم پلیٹنر نے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات کے بعد اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پر ایک سابق خاتون ساتھی نے ریپ کا الزام عائد کیا، جسے پلیٹنر نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے، تاہم سیاسی دباؤ میں اضافے کے بعد انہوں نے بالآخر انتخابات سے دستبرداری اختیار کر لی۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خاتون کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں اور حامیوں نے گراہم پلیٹنر سے انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا۔ سابق امریکی سینیٹر باربرا باکسر نے بھی ان کی حمایت واپس لیتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے پوری زندگی جدوجہد کرتی رہی ہیں، اس لیے ایسے الزامات کے بعد پلیٹنر کی حمایت جاری نہیں رکھ سکتیں۔گراہم پلیٹنر نے بدھ کی شب 11 منٹ پر مشتمل ایک ویڈیو پیغام میں اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بااثر حلقے ان الزامات کو ان کی سیاسی مہم ختم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ویڈیو میں کسی قسم کی معذرت نہیں کی، جس پر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور پارٹی کارکنوں نے شدید تنقید کی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق پلیٹنر کے رویے نے پارٹی کے اندر مزید اختلافات کو جنم دیا۔ ان کے کئی قریبی مشیروں نے انہیں نرم لہجہ اختیار کرنے اور کارکنوں سے معذرت کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔

    رپورٹ کے مطابق گراہم پلیٹنر کی انتخابی مہم ابتدا ہی سے مختلف تنازعات کا شکار رہی۔ گزشتہ برس ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹس منظر عام پر آئیں، جن میں انہوں نے خواتین، جنسی ہراسانی اور پولیس سے متعلق متنازع تبصرے کیے تھے۔ بعد ازاں ان کے جسم پر ایک ایسا ٹیٹو بھی سامنے آیا جو نازی علامت سے مشابہت رکھتا تھا، جس پر انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اسے ختم کرانے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ ان کی اہلیہ نے بھی ماضی میں انتخابی مہم کے منتظمین کو بتایا تھا کہ پلیٹنر شادی کے ابتدائی عرصے میں دیگر خواتین کو نامناسب نوعیت کے پیغامات بھیجتے رہے تھے۔ بعد میں چند سابقہ ساتھی خواتین نے بھی ان پر دھمکی آمیز اور خوفزدہ کرنے والے رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    تازہ ترین بحران اس وقت پیدا ہوا جب جینی ریسیکوٹ نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ تقریباً پانچ سال قبل پلیٹنر نے نشے کی حالت میں ان کے گھر میں داخل ہو کر ان کے ساتھ زیادتی کی۔ پلیٹنر نے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے، تاہم اس الزام کے بعد ان کی حمایت میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی۔

    امریکی سینیٹ کے امیدوار گراہم پلاٹنر کو اپنی سابقہ ساتھی کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ سابقہ ساتھی لنڈسے فیفیلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2013 سے 2015 کے دوران تعلقات کے دوران پلاٹنر نے متعدد مواقع پر ان کی رضامندی کے بغیر کنڈوم ہٹا دیا۔لنڈسے فیفیلڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے بارہا واضح کیا تھا کہ وہ برتھ کنٹرول ادویات استعمال نہیں کر رہی تھیں، اس لیے محفوظ طریقہ اختیار کرنا ان کے لیے ضروری تھا۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ان کی رضامندی کے بغیر تحفظ ہٹایا جاتا رہا۔اس معاملے نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم ہٹانے کے عمل کو "اسٹیلتھنگ” کہا جاتا ہے۔ متعدد امریکی ریاستوں اور دیگر ممالک میں اس عمل کو قانونی طور پر سنگین جرم یا جنسی استحصال کی ایک شکل تصور کیا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق، لنڈسے فیفیلڈ اس سے قبل بھی پلاٹنر پر جسمانی تشدد اور بدسلوکی کے الزامات عائد کر چکی ہیں۔ تاہم، ان الزامات پر متعلقہ عدالتی کارروائی یا حتمی قانونی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

    امریکی سینیٹر برنی سینڈرز، جو پہلے پلیٹنر کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے، نے بھی انہیں انتخابات سے الگ ہونے کا مشورہ دیا۔ اسی طرح سینیٹر الزبتھ وارن سمیت متعدد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی ان سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔پلیٹنر کی دستبرداری کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس اب محدود وقت رہ گیا ہے تاکہ وہ ریاست مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے مقابلے کے لیے نیا امیدوار نامزد کر سکے۔ پارٹی قوانین کے مطابق پلیٹنر کی باضابطہ دستبرداری کے بعد 27 جولائی تک نئے امیدوار کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گراہم پلیٹنر کی مہم کا خاتمہ نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ امریکہ کی ترقی پسند سیاسی تحریک کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، کیونکہ انہیں پارٹی کے ابھرتے ہوئے چہروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ تاہم تازہ جنسی زیادتی کے الزامات نے ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا اور بالآخر انہیں انتخابی دوڑ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

  • شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    بھارتی بہار کے ضلع کیمور میں شادی کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں راجستھان سے آنے والے دولہے نے الزام لگایا ہے کہ شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقد رقم لے کر فرار ہو گئی۔

    متاثرہ دولہا گوتم کمار، راجستھان کے ضلع بیکانیر کے دیشنوک گاؤں کا رہائشی ہے۔ اس نے بھبھوا تھانے میں دلہن، اور ایک اور شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔شکایت کے مطابق گوتم کمار کے خاندان کی ملاقات سنتوش عرف ستیش تیواری نامی ایک شخص سے ہوئی، جس نے کیمور کے کرمچٹ تھانہ علاقے کی رہائشی 24 سالہ نیہا کماری سے شادی کرانے کا وعدہ کیا۔ الزام ہے کہ شادی کے انتظامات کے نام پر خاندان سے ایک لاکھ روپے نقد وصول کیے گئے، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار روپے مالیت کے زیورات اور دیگر سامان بھی لیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ شادی پر مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہوئے۔شکایت کے مطابق 7 جولائی کو بھبھوا کورٹ کے قریب شادی کی رسم مکمل کرائی گئی۔ بعد ازاں ملوانے والےنے خاندان کو ہوٹل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دلہن کو اگلی صبح ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا۔الزام ہے کہ اگلی صبح بھبھوا روڈ ریلوے اسٹیشن پر دلہن نے باتھ روم جانے کا بہانہ کیا اور باہر پہلے سے موجود موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئی۔ متاثرہ خاندان نے فوری طور پر دلہن سے ملوانے والے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد اس کا موبائل فون بھی بند ہو گیا۔

    بھبھوا تھانے کے ایس ایچ او مکیش کمار کے مطابق پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ،مل کر نمٹ سکتے ہیں،محسن نقوی

    دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ،مل کر نمٹ سکتے ہیں،محسن نقوی

    نیویارک، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے(یو این کوپس) اقوام متحدہ پولیس سربراہان کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام وزراء، پولیس چیفس اور معزز شخصیات کا اہم سمٹ میں خیرمقدم کرنا اعزاز کی بات ہے۔ آج دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایسے چیلنجز جو قومی سرحدوں پر نہیں رکتے بلکہ ماروائے سرحد ہیں۔ دہشت گردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات سمگلنگ، انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ،ان چیلنجز سے ہر ملک متاثر ہے۔کوئی ملک ان چیلنجز سے محفوظ نہیں اور کوئی ملک اکیلے ان سے نہیں نمٹ سکتا۔ان چیلنجز کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے اور کرنا ہے ۔ہمیں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چاہیے اور فوری طور پر معلومات کا اشتراک کرنا چاہیے۔ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کرنا ہوگی ۔ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔جرائم پیشہ افراد جرائم کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ہمیں اپنے پولیس افسران کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے ۔افسران کی تربیت کو مضبوط بنانا چاہیے اور جدت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہوگا ۔ سیشن میں دنیا کے تمام ملکوں سے تجربہ کار رہنما اکٹھے ہیں ۔آپ میں سے ہر ایک قیمتی علم اور عملی تجربہ رکھتا ہے۔آئیے ان خیالات کا اشتراک کریں اورآئیے ایک دوسرے کی کامیابیوں سے سیکھیں۔ آئیے مل کر کام کرنے کے نئے طریقے تلاش کریں۔اقوام متحدہ ہمیں اس کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔اقوام متحدہ پولیس کے ایڈوائزر فیصل شاکر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے ہم منصبوں اور دوستوں سے ملاقات کا موقع ملا۔یہ ہمیں اپنے ممالک کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ اکٹھا کرتا ہے۔اپنے لوگوں کی حفاظت اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے یہ سمٹ بہت خاص ہے۔

  • بوشہر  سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    بوشہر سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں بندر عباس، بوشہر، چغادک اور کنارک شامل ہیں۔

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں واقع بوشہر اور قریبی شہر چغادک میں 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کونارک میں بھی تین دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق جنوبی ایران میں بوشہر اور اس سے ملحقہ شہر چغادک کے اطراف دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ کونارک میں بھی 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،ایران کے شہر بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے،بوشہر وہ شہر ہے جہاں ایران کا اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے،

    بوشہر کے ایک مقامی سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ممکنہ طور پر فضائی دفاعی نظام متحرک ہوا، تاہم یہ بھی زیرِ تفتیش ہے کہ آیا کسی دشمن میزائل یا ڈرون کو نشانہ بنایا گیا یا کسی فوجی تنصیب پر حملہ ہوا۔بعد ازاں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ بوشہر کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈہ امریکی حملے کا نشانہ بنا، جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے ایسے کسی نئے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی تازہ فضائی کارروائی نہیں کی۔

    اس دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوجی قیادت کے مطابق مستقبل میں مزید بڑے فوجی آپریشنز کا امکان موجود ہے اور فضائیہ کو ہر وقت فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران امریکی افواج نے ایران میں سڑکوں، پلوں اور ان بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی عسکری نقل و حرکت اور اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو بحرین اور دیگر خطوں میں امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کیا، جبکہ امریکی فوجی اڈوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم میزائلوں کے ملبے سے چند غیر فوجی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔