Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی کوئٹہ میں شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتیں

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی کوئٹہ میں شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتیں

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)محمد عاطف مجتبیٰ نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال اور حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے سپنی روڈ، ویسٹرن بائی پاس، جبل نور، ہزارہ ٹاؤن، اختر آباد، شاہوانی ایونیو، کچی بیگ، سریاب روڈ، جناح روڈ، شاہراہ اقبال، میزان چوک، مشن روڈ اور سرکلر روڈ کا معائنہ کیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے مختلف مقامات پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور شہر میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔دورے کے دوران میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے شہید افسر انور کاکڑ کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ کو وطن کے لیے عظیم قربانی پیش کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا اور میجر انور کاکڑ شہید کے بیٹے سے خصوصی شفقت اور محبت کا اظہار کیا۔اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عظیم شہداء قوم کا فخر اور ماتھے کا جھومر ہیں، جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت ملک میں امن قائم ہے اور وطن محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

  • پاکستان کا چین کے جدید HQ-19 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی جانب اہم پیش رفت

    پاکستان کا چین کے جدید HQ-19 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی جانب اہم پیش رفت

    پاکستان کی جانب سے چین کے جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم HQ-19 کی ممکنہ خریداری کو جنوبی ایشیا کی جدید عسکری تاریخ کے اہم ترین دفاعی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے اس ممکنہ معاہدے کو خطے میں دفاعی اور ایٹمی توازن تبدیل کرنے والی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو بھارت کی میزائل حکمتِ عملی اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے مطابق HQ-19 سسٹم بیلسٹک میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں کو فضا کی بلندی پر ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام پاکستان کے دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بنتا ہے تو یہ بھارتی میزائل حملوں اور دور مار اسٹرائیک صلاحیت کے خلاف ایک نئی دفاعی تہہ فراہم کرے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان صرف HQ-19 تک محدود نہیں بلکہ چین کے J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیاروں کے حصول کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔ ان تمام سسٹمز کو ملا کر پاکستان ایک مربوط “کِل چین” دفاعی ڈھانچہ تشکیل دے سکتا ہے، جس کے ذریعے ریڈار نگرانی، اسٹیلتھ حملے اور میزائل دفاعی صلاحیت کو ایک مرکزی نیٹ ورک کے تحت مربوط کیا جا سکے گا۔جون 2025 میں پاکستان کے حکومتی ذرائع سے منسلک اعلان کے بعد اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ چینی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کے وسیع دفاعی تعاون پروگرام کے تحت HQ-19 سسٹم کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیغام صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ کے لیے بھی ایک واضح جیوپولیٹیکل اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کی رفتار بھارت اور پاکستان کے درمیان “آپریشن سندور” سے منسلک چار روزہ کشیدگی کے بعد تیز ہوئی، جس دوران بھارت نے براہموس سپرسونک کروز میزائل، SCALP-EG پریسیژن ہتھیاروں اور دیگر لانگ رینج اسٹرائیک سسٹمز کے ذریعے حملے کیے تھے۔ ان کارروائیوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً HQ-9B نیٹ ورک، کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔علاقائی دفاعی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستانی اہلکار چین میں پہلے ہی تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان خریداری کے مالیاتی ڈھانچے، تعیناتی کے مقامات اور سسٹم کی مرحلہ وار شمولیت سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگرچہ مغربی دفاعی اداروں نے ابھی تک 12 ارب ڈالر کے مکمل معاہدے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، تاہم پاکستانی اور چینی دفاعی ذرائع میں مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مذاکرات ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ممکنہ طور پر آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر HQ-19 پاکستان میں تعینات ہو جاتا ہے تو اس سے چین کا میزائل دفاعی اور نگرانی کا دائرہ اثر بحرِ ہند کے سیکیورٹی ماحول تک مزید گہرا ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی فضائی دفاعی نظام اور چین کے وسیع علاقائی نگرانی نیٹ ورک کے درمیان زیادہ مربوط تعاون ممکن ہو سکے گا۔

    بھارتی عسکری منصوبہ سازوں کے لیے پاکستان میں چینی ساختہ exo-atmospheric interception نظام کی موجودگی مستقبل میں تیز رفتار جوابی حملوں، گہرائی میں کیے جانے والے پریسیژن اسٹرائیکس اور روایتی جنگ میں برتری کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ چین اور پاکستان کے درمیان ایک ایسے مربوط اسٹریٹجک ایرو اسپیس شیلڈ کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے، جو جنوبی ایشیا میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فضائی، میزائل اور لانگ رینج اسٹرائیک برتری کو براہِ راست چیلنج کرے گی

  • پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر پٹرول بم ہے، سراج الحق

    پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر پٹرول بم ہے، سراج الحق

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر مہنگائی کے ستائے عوام پر “پٹرول بم” گرا دیا ہے۔

    اپنے بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر مزید ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور اب وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔سراج الحق نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو کم از کم ان کے مسائل میں اضافہ تو نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہر چیز کی قیمت بڑھانے کا سبب بنے گا، جس کے اثرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں گے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • گڈز،پبلک ٹرانسپورٹ نے کرائے بڑھا دیئے

    گڈز،پبلک ٹرانسپورٹ نے کرائے بڑھا دیئے

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں ازخود 5 فیصد اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔

    حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا۔پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں ازخود 5 فیصد اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی 10 فیصد تک بڑھادیئے گئے، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا اطلاق آج سے کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تاحال کرایوں میں اضافے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔سیکریٹری آر ٹی اے لاہور رانا محسن کا کہنا ہے کہ کرایوں میں اضافے کیلئے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کرلیا، مشاورتی اجلاس میں سرکاری سطح پر فیصلہ ہوگا کہ کرائے کتنے فیصد بڑھیں گے۔

  • پٹرول قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر

    پٹرول قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے پٹرول قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائرکر دی گئی

    محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی طرف سے پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے کو چیلنج کر دیا،9 مئی 2026 سے پٹرول 414 روپے 78 پیسے اور ڈیزل 414 روپے 58 پیسے مقرر کیے جانے کے خلاف درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت پٹرول قیمتیں شفاف فارمولا اور آئینی جواز کے بغیر بڑھا رہی ہے،موجودہ حکومت میں پٹرول قیمتوں میں تقریباً 186 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،پٹرول مہنگائی نے ٹرانسپورٹ، خوراک، زراعت اور بجلی کے بحران میں اضافہ کر دیا، پاکستان میں پٹرول خطے کے کئی ممالک سے زیادہ مہنگا، عدالت میں تقابلی اعدادوشمار پیش کئے گئے،بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، سعودی عرب اور یو اے ای کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول مہنگا ہے، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مسلسل اضافہ غیر آئینی قرار دیاجائے،پٹرولیم لیوی بڑھانے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، وزیراعظم یا وفاقی حکومت کے پاس نہیں، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے اضافی ٹیکس وصولی کو عدالت میں پہلے ہی چیلنج کیا جا چکا ہے،پٹرول قیمتوں میں اضافہ آئین کے آرٹیکل 3، 4، 9، 37 اور 38 کی خلاف ورزی قرار ہے،پٹرولیم لیوی کی قانونی حیثیت پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج اور زیر سماعت ہے،حکومت عوام پر معاشی بوجھ منتقل کر کے معاشی استحصال کر رہی ہے،

  • عالمی مارکیٹ کا نام  لے کر حکمران بھاری لیوی وصول کررہے ،حافظ نعیم

    عالمی مارکیٹ کا نام لے کر حکمران بھاری لیوی وصول کررہے ،حافظ نعیم

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ آج پھر 15 ، 15 روپے فی لیٹر بڑھادیے۔ حکومت نے پٹرول کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں جس کا پٹرولیم کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔اہم بات یہ ہے عالمی مارکیٹ میں چند دنوں میں تقریباً 8 ڈالر قیمت کم ہوئی ہے۔ اس وقت بھی فی لیٹر 150 روپے سے زائد ٹیکسز و لیوی وصول کی جارہی ہے۔ طالب علم، بائیکیا اور اِن ڈرائیو چلانے والے، مزدور، عام غریب اور مڈل کلاس شہری یہ لیوی ادا کررہے ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں، مراعات، اربوں روپے کے جہاز، پروٹوکول سب اسی طرح جاری ہیں۔ یہ دوہرا اور طبقاتی نظام زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا، پیٹرول اور ڈیزل مہنگی ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں۔ فی لیٹر پیٹرول پر 198 روپے اور ڈیزل پر 113 روپے سے زائد کے ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں۔

    پیٹرول کی ٹیکسز کے بغیر قیمت 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر پریمیم بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے ٹیکسز شامل ہیں، ٹیکسز کے بغیر اس کی فی لیٹر قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے لیوی،32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں تیل کمپنیوں کو 7٫87 روپے اور منافع 8٫64 روپے دیا جارہا ہے، 7 روپے 25 پیسے فریٹ مارجن، ڈھائی روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔

    صحافی عامر الیاس رانا ایکس پر کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف آپ کی حکومت نے لوگوں پر آخر کس طرح پیٹرولیم لیوی مزید بڑھا دی یہ ظلم ہے قیمتوں میں کمی کرنے کی بجائے اسے ٹیکس لگا کر اور بڑھانا ، وزیراعظم اس فیصلے کو فوری واپس لیجئے صرف یہی لیوی نہیں مزید بھی کمی کیجئے یہ کیا ہے کہ ایف بی آر کی ناکامیوں کا بدلہ عام آدمی سے لینا کہاں کی تک ہے

  • ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے۔

    ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن کی جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، ایرانی افواج اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پرتیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے، ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔

    دوسری جانب ا یران کے جزیرہ خارگ سے تیل کے اخراج کی اطلاع، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی،امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کے تیل کی برآمد کے اہم ٹرمینل سے جزیرہ خارگ کے ساحل پر تیل پھیل رہا ہے،فوری طور پر تیل کے اخراج کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی،تیل کے اخراج پر نظر رکھنے والے Orbital EOS کے مطابق، تیل 52 مربع کلومیٹر سعودی عرب کے پانیوں کی طرف پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے،جزیرہ خارگ میں ایران کا سب سے بڑا آئل ٹرمینل، آئل پائپ لائنز، اسٹوریج ٹینک اور متعلقہ انفرااسٹرکچر قائم ہے۔

  • واشنگٹن میں معرکۂ حق کی تاریخی فتح کی پہلی سالگرہ پر  تقریب کا انعقاد

    واشنگٹن میں معرکۂ حق کی تاریخی فتح کی پہلی سالگرہ پر تقریب کا انعقاد

    سفارت خانہ پاکستان میں معرکۂ حق کی تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک پروقار اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

    تقریب کے دوران “پاکستان ہمیشہ زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں اور ملی نغموں نے شرکاء کے جذبات کو گرما دیا جبکہ بنیان مرصوص کے جذبے کی یاد تازہ ہوگئی۔ شرکاء نے وطن عزیز کے تحفظ، سالمیت اور قومی وقار کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دوراندیش قیادت نے پاکستان کے عالمی اہمیت کے حامل ملک بننے کی پیش گوئی بہت پہلے کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی دراصل دنیا کے امن و سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔

    تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے شرکت کی اور قومی یکجہتی، استحکام اور ترقی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ اپنے وطن کے دفاع اور وقار کے لیے متحد رہیں گے۔

  • کراچی، پانی سے بھرےگڑھے میں ڈوب کر دو بچوں کی موت

    کراچی، پانی سے بھرےگڑھے میں ڈوب کر دو بچوں کی موت

    کراچی کے علاقے گلشن معمار کے قریب افسوسناک حادثے میں 2 بچے پانی سے بھرے گڑھے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 10 اور 11 سال تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں بچے کھیلتے ہوئے گڑھے کے قریب پہنچے جہاں وہ پانی میں ڈوب گئے۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچوں کی لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ضروری کارروائی کے بعد دونوں بچوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں ،اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے اور پانی سے بھرے گڑھوں کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔