Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی،کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی،کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی رینجرز اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ طور پر رئیس گوٹھ کے علاقے میں کی۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ، ڈیٹونیٹرز اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تخریب کاری کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔رینجرز کے مطابق گرفتار دہشت گرد سجاد شاہ نے سنہ 2020 میں کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ کراچی سمیت اندرون سندھ میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

  • خاتون کی جانب سے پولیس انسپکٹر پر زیادتی کا الزام،مقدمہ درج

    خاتون کی جانب سے پولیس انسپکٹر پر زیادتی کا الزام،مقدمہ درج

    تبسم عباس نامی خاتون کا راجن پور میں تعینات انسپکٹر ابرار احمد پر زیادتی کے الزام کا معاملہ ،آر پی او ڈی جی خان محمد اظہر اکرم کے خصوصی حکم پر خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    آر پی او نے مقدمہ کی تفتیش میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کی بنیاد پر مکمل کرنے کا حکم دے دیا، تفتیشی عمل کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے انسپکٹر ابرار احمد کو کلوز ٹو لائن کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے،آر پی او کے حکم پر مقدمہ کی تفتیش مکمل ہونے تک انسپکٹر ابرار احمد کلوز ٹو لائن رہیں گے ،آرپی او ڈی جی خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے،مقدمہ کی تفتیش میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، آر پی او محمد اظہر اکرم کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں کسی بھی فریق کے خلاف زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی،محکمۂ پولیس اپنے اہلکاروں کے غیر قانونی و غیر اخلاقی طرزِ عمل پر سخت محکمانہ کارروائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،ترجمان پولیس کے مطابق خاتون نے آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد اظہر اکرم کی کھلی کچہری میں پیش ہو کر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا،آر پی او محمد اظہر اکرم کے فوری نوٹس لینے پر حسب ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی،

  • بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی،پٹرول کی پرانی قیمتیں مقرر کی جائیں، خالد مسعود سندھو

    بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی،پٹرول کی پرانی قیمتیں مقرر کی جائیں، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی حکمرانوں کی واضح نااہلی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے کمی کی بجائے پرانی قیمتیں مقرر کی جائے،آمدہ وفاقی بجٹ میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کی لئے860 ارب روپے کے نئے ٹیکس، پیٹرول و ڈیزل سبسڈی کا خاتمہ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے نئے طوفان کی راہ ہموار کی جارہی ہے،مرکزی مسلم لیگ عوام دشمن فیصلوں کو مسترد کرتی ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں، معیشت سست روی کا شکار ہے، کاروبار تباہ ہورہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت مسلسل نئے ٹیکس لگا کر عوام کا جینا دوبھر کررہی ہے،عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور یہاں پٹرولیم لیوی بڑھا رہے ہیں، پاکستان ایک آزاد و خودمختار ملک ہے،آئی ایم ایف کی ہر شرط من و عن مان کر پاکستان کی معاشی خودمختاری کو داؤ پر لگایا جارہا ہے،حکمران اشرافیہ اپنی مراعات کم کرنے کے بجائے غریب آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، پٹرول، ڈیزل، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی مزید پس جائے گا،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ پہلے اپنی شاہ خرچیاں ختم کرے، کرپشن اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، اور عوام پر نئے ٹیکسوں کا ظلم بند کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ عوامی جذبات کی ترجمانی کرے گی، کسی بھی عوام دشمن فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا،

  • قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،محمد ناظم الدین

    قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،محمد ناظم الدین

    خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکثر پرائیویٹ تعلیمی ادارے عدالت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کررہے ہیں جبکہ محکمہ تعلیم بھی خاموش تماشائی بن گیا ہے جس وجہ سے عوام میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ بچوں کے والدین بھی محکمہ تعلیم کی اس غفلت اور لاپرواہی پر پریشان ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالت اپنے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اس مقصد کی خاطر انسپکیشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دورے کریں اور عدالتی احکامات سے روگردانی کرنے والے تعلیمی اداروں کی سخت باز پرس کی جائے اور ایسے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے ۔

    انھوں نے کہا کہ ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں 2020 میں انٹرا کورٹ اپیل کے دوران جسٹس افضل چوہدری اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پہلی کلاس سے پانچویں تک سرکاری اور تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن اور ترجم القرآن کی تدریس کو یقینی بنانے کے واضح احکامات جاری کیے تھے اور اس فیصلے کے تحت قرآنِ پاک کو نصاب میں بطور لازمی مضمون شامل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں ۔تاہم اس کے باوجود بہت سے تعلیمی ادارے عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے جس پر عدالت نے محکمہ تعلیم کو انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دینے اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ اس طرح سخت عدالتی احکامات کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تدریس کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔اب پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن مجید اور ترجمۃ القرآن کی تدریس کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ۔ صرف 8سے 10فیصد پرائیویٹ تعلیمی ادارے تدریس قرآن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کا فوری نوٹس لے اور قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے فی الفور احکامات جاری کرے

  • جنوبی وزیرستان، وانا میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، قبائلی رہنما سمیت افراد جاں بحق

    جنوبی وزیرستان، وانا میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، قبائلی رہنما سمیت افراد جاں بحق

    خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا کے رستم بازار کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔

    پولیس حکام کے مطابق دھماکا اُس وقت ہوا جب علاقے میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں، جس کے باعث موقع پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ڈی پی او محمد طاہر نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں احمد زئی وزیر قبیلے کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    لاہور: ن لیگی ایم پی اے عظمیٰ کاردار جم میں ورزش کے دوران حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہوگئیں۔ مسلم لیگ ن کی رکنِ پنجاب اسمبلی کے سر پر راڈ لگنے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    عظمیٰ کاردار نے چوٹ لگنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرینر کی عدم موجودگی میں وہ خود ورزش کے آلات درست طریقے سے سیٹ نہیں کر پائیں، جس کے باعث دورانِ ورزش راڈ آ کر ان کے سر پر لگی۔واقعے کے بعد لیگی ایم پی اے کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طبی معائنے کے بعد عظمیٰ کاردار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

  • بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول

    بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول

    ملک بھر کے بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث گھریلو اور صنعتی صارفین شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے توانائی کے شعبے کو ٹیکس وصولی کے اضافی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں مختلف مدات کے تحت متعدد ٹیکس شامل کیے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس شامل ہیں۔ ان اضافی ٹیکسز کی وجہ سے صارفین کو اصل بجلی قیمت کے علاوہ بھاری اضافی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی پر عائد اضافی ٹیکسوں سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ

    امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ

    مریکی ریاست آئیڈاہو میں ائیر شو کے دوران امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی جبکہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے ائیر شو میں امریکی نیوی کے دو EA-18G گرولر لڑاکا طیارے دورانِ پرواز ایک دوسرے سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں دونوں طیارے زمین پر گر کر تباہ ہوگئے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ماؤنٹین ہوم ائیر فورس بیس سے تقریباً 2 میل دور پیش آیا۔ دونوں طیاروں میں سوار 4 پائلٹس نے بروقت ایمرجنسی ایجیکشن کر کے اپنی جانیں بچالیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ زخمیوں اور نقصانات کے حوالے سے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ماؤنٹین ہوم ائیر فورس بیس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

  • پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے سابق شوہر کا بھائیوں سمیت منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    لاہورپولیس کا کہنا تھاکہ انمول عرف پنکی کا سابق شوہر ناصر دو بھائیوں سمیت اس منشیات کے کاروبار میں ملوث تھا،پولیس کابتانا ہے کہ ناصر اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ گوجرانوالہ سے لاہور آگیا جہاں تینوں بھائیوں نے مل کر پہلے گیسٹ ہاؤسز اور شراب کا کاروبار شروع کیا، بعد ازاں ناصر نے اپنے دو بھائیوں، ایک دوست اور بہنوئی کے ساتھ مل کر کوکین کا کاروبار شروع کیا، ناصر نے ہی انمول عرف پنکی کو کوکین بنانے کا ماہر بنایا، دونوں میاں بیوی مل کرلاہور اور کراچی سمیت پورے پاکستان میں کوکین سپلائی کرتے جبکہ بعد ازاں ناصر بھائیوں سمیت کوکین کا کاروبار کراچی لے گیا،لاہور پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی نے سابق انسپکٹر رانا اکرم کے کہنے پر 2021 میں ناصر سے طلاق لے لی تھی۔ اب گرفتاری کے بعد پنکی نے الزام عائد کیا کہ اس کے خلاف یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اس کا سابق شوہر ملوث ہے۔

  • جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    پاکستان کے معروف میڈیا گروپ جنگ / دی نیوز، جو کہ میر شکیل الرحمان کی ملکیت ہے، نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں قائم اپنے میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد صحافتی اور میڈیا حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والے اشتہار کے مطابق لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی میں واقع گروپ کے اہم میڈیا دفاتر فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔ ان میں لاہور کے ڈیوس روڈ پر قائم پرنٹنگ پریس اور میڈیا دفتر، راولپنڈی میں مری روڈ پر ریلوے برج کے قریب مرکزی دفتر، اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب بلیو ایریا میں واقع میڈیا آفس، جبکہ کراچی میں مین ملیر کالا بورڈ روڈ پر قائم دفتر شامل ہیں۔

    اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ان دفاتر میں آفس اسپیس، پریس ایریاز، پارکنگ اور دیگر آپریشنل سہولیات موجود ہیں، جبکہ خریداروں کیلئے رابطہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    میڈیا ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی روایتی پرنٹ میڈیا انڈسٹری کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، اشتہارات میں کمی، بڑھتے اخراجات اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانب تیزی سے منتقلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی بڑے میڈیا ادارے اخراجات کم کرنے اور آپریشنز محدود کرنے کیلئے ری اسٹرکچرنگ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

    اس پیش رفت کے بعد صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ میڈیا حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دفاتر منتقل یا آپریشنز محدود کیے گئے تو ادارے سے وابستہ صحافیوں، ٹیکنیکل اسٹاف، پرنٹنگ ورکرز اور دیگر ملازمین کی بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔