Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل مچ گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کرکے پنجاب بھر کے مبینہ ڈرگ ڈیلرز کی فہرست اور انمول پنکی کے بیانات طلب کرلیے ہیں۔

    پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، لاہور کے مقدمات کی تفتیش کیلئے بھی کراچی پولیس سے تفصیلات حاصل کرلی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق انمول پنکی کا ریکٹ کراچی سے لاہور میں بھی آپریٹ کرتا رہا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنکی کے پنجاب میں ڈرگ ڈیلرز سے متعلق انکشافات کو لاہور پولیس کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، لاہور پولیس کو ملزمہ پنکی کے بیانات اور منشیات ریکٹ کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاہور میں انمول پنکی کو 2024ء میں اس وقت کے پولیس نارکوٹکس یونٹ نے گرفتار کیا تھا۔

    علاوہ ازیں منشیات سے متعلق کیس میں انمول عرف پنکی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    ، 2019 میں تھانہ لیاقت آباد میں منشیات ایکٹ کی دفعہ 9C کے تحت درج مقدمے میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقدمے میں طاہر سلیم کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس نے دورانِ تفتیش مؤقف اختیار کیا کہ وہ انمول عرف پنکی کا مبینہ مال فروخت کرتا رہا ہے۔تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے سی آر او برانچ کو خصوصی ٹاسک سونپا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس سال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر تفتیش میں غفلت سامنے آئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی.

  • منی پور،مسیحی تنظیم کے صدر سمیت تین عیسائی رہنما قتل

    منی پور،مسیحی تنظیم کے صدر سمیت تین عیسائی رہنما قتل

    بھارت کی ریاست منی پور میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین مذہبی رہنماؤں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے گھات لگا کر عیسائی رہنماؤں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین اہم مذہبی شخصیات جان کی بازی ہار گئیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عیسائی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کے خلاف مقامی تنظیموں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ کئی علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی۔ احتجاج کے باعث کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی منی پور میں علیحدگی پسندوں نے آسام رائفلرز کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد ریاست میں امن و امان کی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • حنا الطاف کو دوران شوٹنگ ہراسانی کا سامنا

    حنا الطاف کو دوران شوٹنگ ہراسانی کا سامنا

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حنا الطاف نے ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے خوفناک اور غیر محفوظ تجربے سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے خواتین کو درپیش ہراسانی کے مسئلے پر آواز بلند کر دی۔

    اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا کہ شوٹنگ سیٹ پر موجود ایک شخص کے رویے نے انہیں شدید غیر محفوظ اور بے حد غیر آرام دہ محسوس کروایا۔ حنا الطاف کے مطابق جیسے ہی اس شخص نے ان سے بات کی، انہیں فوری طور پر اندازہ ہو گیا کہ صورتِ حال محفوظ نہیں، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر خود کو اس ماحول سے الگ کر لیا۔حنا الطاف نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس واقعے سے متعلق متعلقہ پروڈکشن ہاؤس کو بھی آگاہ کیا اور اس شخص کے رویے کے خلاف رپورٹ درج کروائی۔ اداکارہ کے مطابق خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ خوف اور دباؤ کے بغیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

    اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ان کے حوصلے اور بہادری کو سراہا جا رہا ہے۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ “آپ نے آواز اٹھا کر بہت بہادری کا مظاہرہ کیا”، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ “خواتین کو ہر شعبے میں ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، محفوظ ورک پلیس وقت کی اہم ضرورت ہے۔”حنا الطاف کی جانب سے اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو سوشل میڈیا پر ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ٹرمپ کا چین کا دورہ مکمل،واپس روانہ

    ٹرمپ کا چین کا دورہ مکمل،واپس روانہ

    امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے روانگی اختیار کر لی۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے دورے کے دوران چینی صدر سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں جبکہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بھی تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال، تجارت اور خطے کی سکیورٹی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات کے دوران کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران کے معاملے پر خصوصی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانکے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے بھی طے پائے ہیں، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا

    سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا

    لاہور کی سیشن عدالت نے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا سنادی۔

    لاہور میں تھانہ چوہنگ پولیس اسٹیشن میں 2024ء میں درج مقدمے پر ایڈیشنل سیشن جج ظفریاب چدھڑ نے فیصلہ سنادیا، سوتیلی بیٹی سے زیادتی کا الزام ثابت ہونے پر مجرم کو عمر قید کی سزا سنادی۔پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ لڑکی کی والدہ نے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد مجرم سے شادی کی تھی، مجرم نے سوتیلی بیٹی سے حمل ضائع کروانے کی کوشش کی۔پراسیکیوٹر رضوان محمود نے 17 گواہوں پر جرح کروائی۔ مجرم کے خلاف بیوی نے تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کروایا تھا۔

  • پنجگور ،گاڑی پر فائرنگ،3 افراد کی موت،5 زخمی

    پنجگور ،گاڑی پر فائرنگ،3 افراد کی موت،5 زخمی

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ پنجگور کے علاقے کاٹاگری میں پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • مولانا شیخ ادریس قتل کیس،7 ملزمان گرفتار

    مولانا شیخ ادریس قتل کیس،7 ملزمان گرفتار

    چارسدہ میں چند روز قبل قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سابق رکن اسمبلی مولانا شیخ ادریس قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے مبینہ ملزمان کو مردان ریجن سے حراست میں لیا گیا، جن سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات اور ممکنہ سہولت کاروں تک رسائی کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں جیوفینسنگ کا عمل بھی جاری ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد کی نقل و حرکت اور رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کے چارسدہ سے فرار ہونے کی ویڈیو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیرِ جائزہ ہے۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں مبینہ ٹارگٹ کلر کو پشاور کے علاقے چمکنی اور کوہاٹ روڈ پر دیکھا گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم واردات کے روز صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے موٹرسائیکل پر چمکنی سے سروس روڈ کے ذریعے چارسدہ پہنچا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات میں سیف سٹی ٹیم اور دیگر تفتیشی یونٹس بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی شواہد کی مدد سے ملزمان کے نیٹ ورک تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ 5 مئی کو چارسدہ میں نامعلوم دہشت گردوں نے معروف عالم دین اور جے یو آئی کے سابق رکن اسمبلی مولانا شیخ ادریس کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

  • قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    زیادتی کا الزام یا انتقامی کارروائی؟ قاضی عتیق نے الزامات کو گواہی سے روکنے کی سازش قرار دیا خاتون نے کا ویڈیو بیان بھی جاری
    گوجر خان زیادتی مقدمے کی شفاف انکوائری اور موبائل ڈیٹا سی ڈی آر چیک کرنے کا مطالبہ پولیس کا میرٹ پر تفتیش کا عزم

    گوجر خان (قمرشہزاد)گوجر خان کے نواحی علاقے قاضیاں میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے نے ایک نئی اور انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے تانے بانے چند ہفتے قبل ہونے والے ایک ہائی پروفائل قتل کیس سے ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس واقعے کو محض ایک جرم کے طور پر نہیں بلکہ سابقہ دشمنی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ وکٹم خاتون نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تین ماہ بعد رپورٹ آئے گی حقائق سامنے آ جائیں گے دو ملزمان مجھے بیڈ روم لے گے میں بھاگتی رہی دونوں نے زیادتی کی تیسرے نے ویڈیو بنائی۔

    تفصیلات کے مطابق، چند ہفتے قبل قاضیاں میں قاضی عمیر نامی نوجوان کو سرعام قتل کر دیا گیا تھا، جس میں قاضی عتیق نامی شہری زخمی ہوئے تھے۔ اس قتل کیس میں قاضی حیدر اور قاضی کلیم نامزد ملزمان ہیں۔ اب حالیہ واقعے میں ملزم قاضی حیدر کی ملازمہ نے قاضی عتیق کے بیٹے اور بھانجے پر زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جسے قاضی عتیق نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔قاضی عتیق کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سراسر بے بنیاد اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا واحد مقصد انہیں قتل کیس میں گواہی دینے سے روکنا اور دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کا بیٹا گھر پر موجود تھا اور مخالف فریق قانونی گرفت سے بچنے کے لیے خواتین کو ڈھال بنا کر انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔انہوں نے اے ایس پی گوجر خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ جدید تکنیکی شواہد، موبائل لوکیشن (CDR) اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور کسی بے گناہ کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تمام سائنسی و قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ تھانہ گوجرخان کی چوکی قاضیاں کی حدود میں درندگی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے خاتون کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    قاضیاں کی رہائشی مسمات ش نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کام پر اور بچے سکول گئے ہوئے تھے کہ صبح نو بجے کے قریب وہ گھر کا فرش دھو رہی تھی قاضی مہتاب اور قاضی حماس نامی ملزمان ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے خاتون کو کمرے میں لے جا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ان کا تیسرا نامعلوم ساتھی اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بناتا رہا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی انچارج چوکی قاضیاں لیاقت شاہ نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور متاثرہ خاتون کو طبی معائنے کے لیے لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 382/26 بجرم 375A اور 292 ت پ کے تحت درج کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرخان سرکل میں خواتین اور بچوں کیساتھ ہراسانی اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اب تک رپورٹ ہونے والے کسی بھی کیس میں نہ تو پولیس کا روایتی نیفے میں پستول چلنے پولیس مقابلے والا خوف نظر آیا اور نہ ہی ایسے کیسز کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی کے حوالے کیا گیا۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے کیسسز فوری طور پر سی سی ڈی کے سپرد کیے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے اور خواتین اور بچے خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

  • ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    بایومیٹرک مانیٹرنگ کا سنسنی خیز انکشاف 40 ہزار تنخواہ کے بدلے 26 ہزار کیوں؟ غیر حاضر ملازمین کا احتجاج کے نام پر بلیک میلنگ کا دھندہ بے نقاب
    عوامی حلقوں کا شدید غم و غصہ گلیاں گندگی سے تعفن زدہ، سوزوکیوں پر چکر لگا کر غائب ہونے والے بھوت ورکرز کے خلاف فوری انکوائری اور برطرفی کا مطالبہ

    گوجرخان(قمرشہزاد)حکومتِ پنجاب کا اربوں روپے کا ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں افسر شاہی، سینیٹری ورکرز کی کام چوری اور مبینہ بلیک میلنگ کی نذر ہو گیا۔ ایک طرف صفائی ملازمین نے تنخواہوں کی کٹوتی اور اعزازیہ نہ ملنے کا رونا رو کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے، تو دوسری طرف شہر کی گلی محلے اور تجارتی مراکز کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس نے حکومتی دعووں کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق احتجاجی ورکرز کا مؤقف ہے کہ ان کی تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے مگر انہیں صرف 26 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، جو ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ دوسری جانب آپریشنل مینیجر بابر شکیل نے اس احتجاج کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے سنسنی خیز حقائق سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ 40 ہزار روپے کی پوری تنخواہ کے لیے ماہانہ 26 دن کی حاضری لازمی ہے، جبکہ تمام ورکرز کی حاضری کا نظام مکمل طور پر بائیومیٹرک ہے۔ اس ڈیجیٹل حاضری کی مانیٹرنگ براہِ راست اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تنخواہیں صرف ان ورکرز کی کاٹی گئی ہیں جو ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور جن کی حاضری پوری نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اس سارے ڈرامے پر گوجرخان کے شہریوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چشم کشا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے کہ احتجاج کرنے والے یہ مٹھی بھر ورکرز کبھی گلیوں یا سڑکوں پر صفائی کرتے نظر نہیں آئے۔ صفائی کے نام پر صرف یہ ہوتا ہے کہ سرکاری سوزوکیاں اتی ہیں، ورکرز چکر لگا کر غائب ہو جاتے ہیں اور گندگی کے ڈھیر جوں کے توں پڑے رہتے ہیں جب ان پر سختی کی جائے یا کام لیا جائے تو یہ لوگ افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔شہر کی سماجی و عوامی تنظیموں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مانیٹرنگ حکام سے اس سنگین معاملے پر فوری اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر افسران ورکرز کا حق مار رہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اگر بائیومیٹرک ریکارڈ کے مطابق ورکرز کی حاضری کم ہے اور وہ محض اپنی کام چوری چھپانے کے لیے شہر کو یرغمال بنا رہے ہیں، تو ایسے اشتعال انگیز، شر پسند اور بلیک میلر ڈیلی ویجز و سرکاری ملازمین کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے۔ گوجرخان کے عوام نے دوٹوک کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کام چوروں اور بلیک میلروں کی جیبوں میں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

  • چین کا دورہ بہت اچھا رہا،ٹرمپ

    چین کا دورہ بہت اچھا رہا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کا دورہ بہت اچھا رہا، چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر وہ مسائل حل کیے جو دوسرے نہیں کرسکتے تھے، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیئں، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چینی صدر سے ایران تنازع کو ختم کرنے پر بات ہوئی۔

    چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازع کا جلد حل خطے کے مفاد میں ضروری ہے، مذاکراتی چینل کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مکمل جنگ بندی ضروری، تاکہ امن و استحکام بحال ہوسکے، امریکی صدر اور صدر شی کے درمیان متعدد نئے اتفاقِ رائے قائم ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو ’زوال پزیر ملک‘ قرار دے کر دراصل سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید نقصان پہنچایا تاہم میری حکومت کے 16 ماہ میں امریکا نے دوبارہ عالمی طاقت کے طور پر تیزی سے ترقی کی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر ’انتہائی شائستگی‘ سے کیا ہے،صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر دراصل بائیڈن انتظامیہ کے 4 برسوں میں ہونے والے نقصان کی جانب اشارہ کر رہے تھے، کھلی سرحدوں، مہنگے ٹیکس، جرائم، متنازع سماجی پالیسیوں اور خراب تجارتی معاہدوں نے امریکا کو کمزور کیا،اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اسٹاک مارکیٹ، روزگار اور بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اعلیٰ سطحی سربراہی ملاقات کے پہلے روز عالمی منڈیوں نے محتاط مگر مثبت ردِعمل ظاہر کیا۔ تجارتی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی، اگرچہ خلیجی خطے کے جغرافیائی خطرات بدستور برقرار رہے۔عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 0.40 فیصد کمی کے بعد 105.21 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 100.95 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ تاجروں کے مطابق یہ معمولی کمی اس امید کا نتیجہ تھی کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات عالمی تجارت کو مستحکم بنانے اور فوری معاشی تناؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    تیل کی قیمتوں میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو خطرہ مول لینے پر آمادہ کیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور برآمدات سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی بڑھی۔S&P 500 تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاجبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی قیادت سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا کہ واشنگٹن، وسیع تر مذاکرات کے حصے کے طور پر، چین پر AI چپس کی برآمدی پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔