Baaghi TV

Blog

  • وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا علی مقدم نے ملاقات کی-

    ملاقات میں میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ایرانی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    علی پرویز ملک نے سفیر کے خیالات کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

  • سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    مقامی اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4400 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    ملک میں فی تولہ سونا 4400 روپے اضافے کے بعد 483,962 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 3772 روپے اضافے کے بعد 414,919 روپے کا ہو گیاہے اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 380,356 روپے ہوگئی،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونا 44 ڈالر اضافے کے بعد 4616 ڈالر فی اونس کا ہو گیا ہے۔

    اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 55 روپے کے اضافے سے 7ہزار 821 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 47روپے کے اضافے سے 7ہزار 705روپے کی سطح پر آگئی۔

  • پاکستان کی امن کوششیں جاری،عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے ہیں، ترجمان دفترِ خارجہ

    پاکستان کی امن کوششیں جاری،عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے ہیں، ترجمان دفترِ خارجہ

    اسلام آباد: دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں اہم علاقائی و عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

    ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جاری تنازعات کے اہم فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے صدر نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا ہے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی جانب سے وفد اسلام آباد بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ترجمان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران اور سعودی عرب کی قیادت سے بھی رابطہ کیا، جبکہ یورپی کونسل کے صدر سے ہونے والی گفتگو میں مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ترکیہ کے صدر نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا، جبکہ وزیرِ اعظم نے محمد بن سلمان کی پاکستان کے لیے مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی جانب سے 26 اور 29 اپریل کو بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس علاقے میں سرحد پار فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

  • ایران کی نظرثانی شدہ امن تجویز کل پاکستان پہنچنے کا امکان

    ایران کی نظرثانی شدہ امن تجویز کل پاکستان پہنچنے کا امکان

    عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، تاہم ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران اپنی نظرثانی شدہ امن تجویز کل پاکستان کو فراہم کر سکتا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ایران کی نئی امن پیشکش جلد موصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکا اس حوالے سے تہران کے جواب کا منتظر ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس پورے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بیان دیا کہ اب ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات کے لیے "ہم مزید پرواز نہیں کر رہے”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت رک گئی ہے۔ ابتدائی مذاکرات کے بعد نہ تو کوئی معاہدہ طے پا سکا اور نہ ہی دوسرا دور منعقد ہو سکا۔

    مذاکرات میں دو بڑے نکات تنازع کا باعث بنے ہوئے ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام شامل ہے، جسے امریکا مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔

    ایرانی حکام کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایران کے سمندری معیشت کے خصوصی نمائندے نے آبنائے ہرمز کو ملک کا "پوشیدہ خزانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاری تنازع نے اس کی اہمیت کو دنیا پر واضح کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی بحری طاقت اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیج فارس محض ایک سمندر نہیں بلکہ عالمی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ لڑائی دراصل "توانائی کی جنگ” ہے اور ایران عالمی معیشت میں رہنمائی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرتا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال میں بھی اس کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

  • اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر  کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان رابطہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی نائب صدر اور اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، اس کے معاشی اثرات اور وسیع تر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،یورپی یونین کی نائب صدر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، روابط اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پرعزم ہےانہوں نے اسلام آباد میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دے دیا ہے۔

    293 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس رجیم کے طور پر تصور کیا جائے گا، فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کے خلاف دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہو ئے کہا گیا کہ ٹیکس کے نفاذ کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی، سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کا متبادل نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس ہے، جو مخصوص آمدنیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیں، جبکہ سرمایہ میں اضافہ پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا عدالت نے واضح کیا کہ فلاحی اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم انہیں متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز ہے اور مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔

    عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ جو آمدن قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے وہ سپر ٹیکس سے بھی مستثنیٰ رہے گی جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین سے حاصل آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا،یہ فیصلہ ملک کے ٹیکس نظام اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • اپیل سننے پر اعتراض نہیں لیکن پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،وکیل عمران خان

    اپیل سننے پر اعتراض نہیں لیکن پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستو ں پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آپ اپیل پر دلائل کیوں نہیں دے رہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ اپیل سننے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس سے پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نےا ستفسار کیا کہ کیا آپ کو اپیل پر دلائل کیلئے نہیں رکھاگیا، سلمان صفدر نے کہاکہ میرے کلائنٹ نے کہا ہے پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستو ں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ عدالتی حکم پر 8اپریل کو میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی،میری بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی گئی تھی،بانی نے بتایا کہ وہ ایک آنکھ سے نہیں دیکھ پا رہے،ڈاکٹرز نے کہاآنکھ ٹھیک نہیں ہوسکتی،بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے،16اپریل کو اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے مجھے کال کی، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے ایمرجنسی ہے،بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ کی سرجری کی گئی ، ان کی فیملی سے ملاقات ہوئی،بشریٰ بی بی کو دو، تین دن ہسپتال میں رکھا جانا چاہئے تھا لیکن نہیں رکھا گیا، بشریٰ بی بی کو پہلے بھی قید تنہائی میں رکھا گیا تھا، کئی ماہ ہو گئے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی استدعا کررہے ہیں

    بیرسٹر سلمان صفدر نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کو بتایا کہ میری 9 اپریل کو عمران خان سے 65 منٹ کی ملاقات ہوئی لیکن سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میرے کہنے کے باوجود بشریٰ بی بی سے میری ملاقات نہیں کرائی، بشریٰ بی بی سے میری آخری ملاقات دسمبر 2025 میں ہوئی تھی اُس کے بعد ملنے نہیں دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آپ اپیل پر دلائل کیوں نہیں دے رہے؟اپیل سننے کیلئے تیار ہیں، جلد از جلد اس پر فیصلہ کر دیں گے،روزانہ کی بنیاد پر اپیل سننا شروع کرتے اور اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ اپیل سننے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس سے پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اپیل پر دلائل کیلئے نہیں رکھاگیا، سلمان صفدر نے کہاکہ میرے کلائنٹ نے کہا ہے پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیں،عدالت نے کہاکہ طے شدہ اصول ہے اپیل مقرر ہو جائے تو سزا معطلی غیرموثرہو جاتی ہے۔

  • چمن بارڈر،افغانستان کی جانب سے شہری آبادی پر گولہ باری

    چمن بارڈر،افغانستان کی جانب سے شہری آبادی پر گولہ باری

    پاک افغان چمن بارڈر پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں افغانستان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

    ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مقامی نوجوان رفیع اللّٰہ شہید ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔عینی شاہدین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جس علاقے پر فائرنگ کی گئی وہ مکمل طور پر سول آبادی پر مشتمل ہے، جہاں عام شہری رہائش پذیر ہیں اور وہاں کسی قسم کی عسکری یا سیکیورٹی تنصیب موجود نہیں۔زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ بارڈر کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے بلا اشتعال کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے،

  • افغانستان کی جانب سے انگوراڈہ سے ملحقہ علاقوں پر گولہ باری،3 بچوں سمیت 5 زخمی

    افغانستان کی جانب سے انگوراڈہ سے ملحقہ علاقوں پر گولہ باری،3 بچوں سمیت 5 زخمی

    افغانستان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستان کی سول آبادی پر گولہ باری – ڈاکٹرز اور متاثرہ افراد کے اہم بیانات سامنے آگئے

    افغان طالبان رجیم نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں شہری آبادی پر حملہ کردیا.سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اپریل کو افغان طالبان نے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں شہری آبادی پرگولہ باری کی،افغان طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ شہری کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر گرا جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹراشفاق کے مطابق اسپتال میں3 بچوں سمیت 5 زخمی اسپتال لائے گئے ہیں جو بلاسٹ انجری کا شکار ہیں، متاثرہ بچوں کو فوری طور پر ایڈمٹ کر کے علاج شروع کر دیا گیا ہے،

    ڈاکٹر کے مطابق ایک مریض کا فریکچر ہے اور اس کے ایلبو جوائنٹ کی بیک سلیب کے ذریعے اسٹیبلائزیشن کر دی گئی ہے، ڈاکٹر کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اس وقت زیرِ نگرانی ہے اور انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں

    متاثرہ شخص نور علی کے مطابق گولہ اچانک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی،ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا گھر لرز اٹھا اور کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا،اہلِ علاقہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی اس نوعیت کی گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے، بار بار نشانہ بن رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں عام شہری زخمی ہوئے تھے