عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، تاہم ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران اپنی نظرثانی شدہ امن تجویز کل پاکستان کو فراہم کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ایران کی نئی امن پیشکش جلد موصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکا اس حوالے سے تہران کے جواب کا منتظر ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس پورے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بیان دیا کہ اب ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات کے لیے "ہم مزید پرواز نہیں کر رہے”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت رک گئی ہے۔ ابتدائی مذاکرات کے بعد نہ تو کوئی معاہدہ طے پا سکا اور نہ ہی دوسرا دور منعقد ہو سکا۔
مذاکرات میں دو بڑے نکات تنازع کا باعث بنے ہوئے ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام شامل ہے، جسے امریکا مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایران کے سمندری معیشت کے خصوصی نمائندے نے آبنائے ہرمز کو ملک کا "پوشیدہ خزانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاری تنازع نے اس کی اہمیت کو دنیا پر واضح کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی بحری طاقت اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیج فارس محض ایک سمندر نہیں بلکہ عالمی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ لڑائی دراصل "توانائی کی جنگ” ہے اور ایران عالمی معیشت میں رہنمائی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرتا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال میں بھی اس کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
